Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / روہت کی موت پر کے سی آر کی خاموشی کی مذمت

روہت کی موت پر کے سی آر کی خاموشی کی مذمت

چیف منسٹر نے طلباء سے اظہار یگانگت تک نہیں کیا ۔ ملو بٹی وکرامارکا
حیدرآباد ۔ 21 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ملو بٹی وکرامارک نے کہا کہ اسکالر روہت کی خود کشی پر سارے ملک میں احتجاج کیا جارہا ہے ۔ لیکن چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کی جانب سے اس پر ردعمل کا اظہار نہ کرنے پر سخت مذمت کی ہے ۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر ملو بٹی وکرامارک نے کہا کہ مرکزی وزراء کے دباؤ کے باعث حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی نے 5 دلت طلبہ کو معطل کردیا جس سے دل برداشتہ ہو کر ریسرچ اسکالر روہت نے خود کشی کرلی ہے ۔ یہ واقعہ جنگل کی آگ کی طرح سارے ملک میں پھیل گیا ۔ راہول گاندھی کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے یونیورسٹی پہونچکر احتجاج کرنے والے طلبہ سے اظہار یگانگت کیا اور روہت کی والدہ کو پرسہ دیا ۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ چیف منسٹر تلنگانہ نے حیدرآباد میں رہنے کے باوجود نہ ہی یونیورسٹی کا دورہ کیا اور نہ ہی آنجہانی طالب علم کے والدین کو پرسہ دیا ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دلتوں سے چیف منسٹر تلنگانہ کو کتنی ہمدردی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے اپنے کپڑوں کی خریدی کے لیے گھنٹوں وقت دیا مگر یونیورسٹی پہونچنے اور روہت کی والدہ سے ملاقات کرنے کے لیے ان کے پاس وقت نہیں ہے ۔ یونیورسٹی میں دلت طلبہ کا سماجی بائیکاٹ ہوا ہے ۔ اس پر چیف منسٹر کی خاموشی معنی خیز ہے ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ گورنر نرسمہن نے ریاست کے تین اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے مشن کاکتیہ کے کاموں کا جائزہ لیا ۔ مگر یونیورسٹی کا دورہ کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا ۔۔

TOPPOPULARRECENT