Saturday , February 24 2018
Home / دنیا / روہنگیاؤں کیخلاف کوئی تشدد نہیں ہوا ،فوج کی تردید

روہنگیاؤں کیخلاف کوئی تشدد نہیں ہوا ،فوج کی تردید

ینگون۔14نومبر (سیاست ڈاٹ کام) میانمار کی فوج نے ایک رپورٹ جاری کر کے کہا کہ سیکورٹی فورسز کی طرف سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف عصمت دری اور قتل کے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مہم کے الزام میں حال ہی میں راکھین صوبہ کے میجر جنرل کو ہٹایا گیا ہے ۔ فوج کی طرف سے چلائی گئی مہم کے بعد6 لاکھ سے زیادہ روہنگیا اپنی جان بچا کر بنگلہ دیش آئے ہیں۔میانمار مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف جنرل من آنگ ھلانگ کے فیس بک پر بھی فوج کی رپورٹ کو جاری کیا گیا ہے ۔ اس رپورٹ میں فوج کے اوپر عائدظلم وستم کے الزامات کو مسترد کر دیا گیا ہے ۔وزارت دفاع میں نفسیاتی جنگ اور تعلقات عامہ کے شعبہ کے ڈپٹی ڈائرکٹر میجر جنرل اے لون نے صحافیوں سے کہا کہ صوبہ راکھین کے میجر جنرل مانگ مانگ سوئے کو ہٹانے کے پیچھے وجوہات کاپتہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میجر جنرل سوئے کو کسی دوسرے علاقے کی ذمہ داری نہیں دی گئی ہے ۔امریکہ کی وزارت خارجہ کی ایک ترجمان کیٹینا ایڈمز نے کہا کہ امریکہ راکھین صوبے کے میجر جنرل کو ہٹانے کی رپورٹ سے آگاہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میانمار کی فوج کی طرف سے روہنگیا کے خلاف کی گئی تشددکی کارروائی اور انسانی حقوق کے غلط استعمال کی مسلسل رپورٹوں سے وہ شدید فکر مند ہیں۔ اس کے لئے ذمہ دار لوگوں کے خلاف جوابدہی طے ہونی چاہئے ۔دریں اثنا اقوام متحدہ کے ایک خصوصی قاصد نے اتوار کو بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی ضلع کاکس بازار کا دورہ کرنے کے بعد کہا تھا کہ میانمار کے فوجیوں نے روہنگیا مسلمانوں کو منظم طور پر نشانہ بنایا اور خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی۔

TOPPOPULARRECENT