روہنگیاؤں کیلئے انسانی اسمگلرس سب سے بڑا خطرہ

کاکس بازار ( بنگلہ دیش ) ۔23نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) اب جبکہ کاکس بازار کے روہنگیا کیمپوں میں عارضی سکون ہے کیونکہ انہیں میانمار واپس بھیجنے کا فیصلہ فی الحال ملتوی کردیا گیا ہے ، وہیں اب انسانی تجارت کرنے والے نیٹ ورکس ایک بار پھر سرگرم ہوگئے ہیں ۔ اسمگلرس اپنے مچھلی پکڑنے کے جالوں کے ساتھ آس پاس کے آبی علاقوں میں سرگرم ہیں اور وہ روہنگیاؤں کو لبھانے کی کوشش بھی کرتے ہیںکہ وہ انہیں جنوب مشرقی ایشیاء کے سفر کی ترغیب دیتے ہوئے انہیں بہترین مواقع فراہم کرنے کے جھوٹے وعدے بھی کرتے ہیں ۔ اسی نوعیت کا ایک چھوٹا بحری جہاز جو ملائیشیاء کیلئے روانہ ہونے والا تھا تاہم اسے لاء انفورسمنٹ کے اہلکاروں نے روک دیاتھا ۔ دوسری طرف خود روہنگیا بھی کاکس بازار کے پناہ گزین کیمپوں کی زندگی سے عاجز آچکے ہیں اور راہ فرار اختیار کرنے کیلئے پرتول رہے ہیں ۔ یہ بات روہنگیا کمیونٹی کے لیڈر کہہ رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ امدادی ورکرس کا بھی یہی کہنا ہے کہ روہنگیاؤں کو ایک بار پھر راغب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، جن میں جوان اور خوبصورت لڑکیوں کو سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں ۔ لاکھوں افراد کو پناہ دینا ہی ایک انتہائی مشکل کام ہے اور حکومت بنگلہ دیش کیلئے فرداً فرداً ہر روہنگیا پر نظررکھنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہے ۔

TOPPOPULARRECENT