Sunday , June 24 2018
Home / دنیا / روہنگیاؤں کی باعزت اور رضاکارانہ طور پر وطن واپسی ضروری : امریکہ

روہنگیاؤں کی باعزت اور رضاکارانہ طور پر وطن واپسی ضروری : امریکہ

واشنگٹن۔ 20 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے اپیل کی ہے کہ بنگلہ دیش میں موجود تمام روہنگیاؤں کی میانمار واپسی باعزت اور رضاکارانہ طور پر ہونی چاہئے حالانکہ حالات اب بھی ان کی واپسی کیلئے سازگار نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ 6,25,000 روہنگیائی مسلمان خوف و دہشت کے عالم میں بنگلہ دیش فرار ہوچکے ہیں جس نے خود بنگلہ دیش جیسے غریب ملک کے لئے مسائل پیدا کردیئے ہیں۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ ترجمان ہیتھر نوریٹ نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک روہنگیاؤں کے میانمار واپسی کا منصوبہ ہے تو اس کے لئے ہمیں اس کے بلیو پرنٹ کی ضرورت ہوگی جسے ہم دیکھنا پسند کریں گے۔ اب تک تو ہم نے صرف اس کے بارے میں دیگر ذرائع سے سنا ہے لیکن عمل آوری کیلئے تمام نقائص سے پاک ایسے منصوبہ کی ضرورت ہوتی ہے جس کے ناکام ہونے کے اندیشے موجود نہیں ہوتے اور اس نقائص سے پاک منصوبہ میں رضاکارانہ، باعزت اور محفوظ طریقہ سے روہنگیاؤں کی میانمار واپسی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ لوگوں کو یہ محسوس ہونا چاہئے کہ ہم محفوظ طریقہ سے اپنے وطن لوٹ رہے ہیں اور اگر وہ ایسا محسوس نہیں کرتے تو پھر وطن واپسی کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا۔ جذباتی طور پر ہر انسان اپنے وطن سے محبت کرتا ہے اور اگر وہ کسی دوسرے مقام پر کئی سال بھی گزارے تو اس شخص کو اس مقام سے وابستہ کیا جاتا ہے جہاں وہ پیدا ہوا یا اپنی زندگی کے ابتدائی ایام گزارے۔ وطن واپسی ہر ایک کے لئے خوشی کا باعث ہوتی ہے لیکن یہ بات روہنگیاؤں کے بارے میں نہیں کہی جاسکتی۔ اگر وہ خوشی خوشی وہاں جانا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ ظلم و جبر سے واپس بھیجنا مناسب نہیں ۔ اگست سے زائد از 6 لاکھ روہنگیا بنگلہ دیش میں پناہ گزین ہیں اور اب ڈسمبر کا مہینہ آگیا ہے۔ اس موقع پر اگر بنگلہ دیش کی ستائش کی جائے تو بیجا نہ ہوگا کیونکہ آج کے اس نفسانفسی کے دور میں لاکھوں پناہ گزینوں کے ساتھ فراخدلانہ رویہ اختیار کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔ ہم نے بنگلہ دیش کو بھی مالی تعاون پیش کیا ہے۔

میانمار میں اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کو گھومنے پھرنے کی اجازت نہیں
جنیوا ۔ 20 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) میانمار اقو ام متحدہ کے آزادتفتیش کاروں کی کسی طرح کی مدد نہیں کرے گااور ان کے پورے مدت کار کے دوران اپنے ملک میں جانے کی اجازت نہیں دے گا۔اقو ام متحدہ کے خصوصی تفتیش کار یانگ لی نے آج یہاں ایک بیان میں کہا کہ انہیں جنوری میں راکھین صوبہ سمیت پورے میانمار میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے سلسلے میں رپورٹ تیار کرنے کے لئے دورہ کرنا تھا۔محترمہ لی نے کہا کہ عدم تعاون کے اعلان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ راکھین اور ملک کے دیگر حصوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بے پناہ واقعات ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT