Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / روہنگیائی مسلمانوں پر تازہ حملے، مکانات نذرآتش

روہنگیائی مسلمانوں پر تازہ حملے، مکانات نذرآتش

مسلم اقلیت کو ملک سے صفایا کرنے کی نئی کارروائیوں میں شدت، فوجی زیادتیوں میں اضافہ
یانگون ۔ 5 اکٹوبر (ساست ڈاٹ کام) روہنگیا کے انتہاء پسندوں نے راکھین اسٹیٹ میں مسلمانوں پر تازہ حملے شروع کردیئے ہیں۔ ان کے مکانات کو نذرآتش کیا جارہا ہے۔ مسلم اقلیت کا مائنمار سے صفایا کرنے کی حالیہ کارروائیوں کے بعد تازہ تشدد بھڑکایا گیا ہے۔ مائنمار کے کمانڈر انچیف کے دفترسے جاری بیان میں کہا گیا ہیکہ یہ آتشزنی، تشدد اور حملوں کے واقعات فوج کی جانب سے لگائے گئے تازہ الزامات میں فوج کی ظلم و زیادتی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ زائد از 5,00,000 روہنگیائی مسلمان گذشتہ 6 ہفتوں میں مائنمار کی خون ریز لڑائی سے بچ کر بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں ۔اس ہفتہ بنگلہ دیش نے 4 تا 5 ہزار شہریوں کے سرحد عبور کرنے کی اطلاع دی ہے۔ اس وقت سرحدی علاقہ میں 10,000 سے زائد مسلمان سرحد عبور کرنے کا انتظار کررہے ہیں۔ راکھین میں مائنمار کی فوج کی جانب سے مسلمانوں کے مکانات کو نذرآتش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب اس نے اپنی مہم میں شدت پیدا کرتے ہوئے کوششوں کو دوگنا کردیا ہے۔ راکھین ہنوز مسلمانوں کا آبائی مقام ہے لیکن فوجی سربراہ من اونگ ہلینگ کے دفتر کے فیس بک پر پوسٹ کردہ ایک تصویر میں بتایا گیا ہیکہ چہارشنبہ سے یہاں روہنگیائی موضع میں 7 مکانات کو نذرآتش کیا گیا ہے۔ سیکوریٹی فورس کا ادعا ہیکہ وہ اس علاقہ میں قانون کی حکمرانی نافذ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ آریکن روہنگیا سالویشی آرمی (ARSA) سے تعلق رکھنے والے انتہاء پسندوں نے مسلمانوں کو روہنگیائی مسلمانوں پر زور دینا شروع کیا ہیکہ وہ بنگلہ دیش کو فرار ہوجائیں۔ یہاں پناہ گزینوں کا بحران اس سے آغاز ہوا جب 25 اگست کو مائنمار پولیس چوکیوں پر ARSA نے حملے شروع کئے تھے۔ پناہ گزینوں نے جو بنگلہ دیش میں مقیم ہیں، مائنمارکی فوج پر الزام عائد کیا ہیکہ وہ راکھین نسلی ہجوم کی قیادت کرتے ہوئے ان کے گلے کاٹ رہی ہے اور ان کے مواضعات کو نذرآتش کیا جارہا ہے۔ بنگلہ دیش کے معتمد خارجہ شہید الحق نے کہا کہ وہ میانمار کے ساتھ اس مسئلہ کی پرامن یکسوئی کرے گا ۔ بنگلہ دیش نے پناہ گزین کیمپ کیلئے اراضی مختص کرنے کا بھی اعلان کیا ۔

TOPPOPULARRECENT