Friday , December 15 2017
Home / اداریہ / روہنگیائی مسلمانوں پر سپریم کورٹ کی مستحسن رائے

روہنگیائی مسلمانوں پر سپریم کورٹ کی مستحسن رائے

میں کس یقین سے کہہ دوں کہ تم بھی میرے ہو
مرے لئے تو میرا جسم بھی پرایا ہے
روہنگیائی مسلمانوں پر سپریم کورٹ کی مستحسن رائے
ہندوستان میں پناہ لینے والے روہنگیائی مسلمانوں کے تعلق سے حکومت کا موقف اب سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد تبدیل ہونا چاہئے کہ وہ ان بے بس، پریشان اور ظلم و زیادتی کا شکار مسلمانوں کو قومی سلامتی کا مسئلہ بنا کر ملک بدر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سپریم کورٹ نے روہنگیائی مسلمانوں کو ملک بدر نہ کرنے کا احساس ظاہر کرتے ہوئے ان روہنگیائی پناہ گزینوں کے مسئلہ کو غیرمعمولی نوعیت کا قرار دیا۔ قانون کی نظر میں یہ ایک حساس مسئلہ بن گیا ہے۔ حکومت کو قومی مفادات اور انسانی حقوق کے مابین توازن پیدا کرنے اور اس توازن کو برقرار رکھنے کیلئے اپنے فریضہ کو پورا کرنے کی ضرورت ہے۔ روہنگیائی مسلمانوں کے ساتھ مائنمار میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے ساری دنیا واقف ہے۔ مرکز کی مودی حکومت بھی اس سے ناواقف نہیں ہوگی مگر افسوس اس بات کا ہیکہ مائنمار میں مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے کے واقعات کے باوجود مودی حکومت، ان پناہ گزین روہنگیائی مسلمانوں کو مائنمار واپس بھیجنے کا فیصلہ کرنے پر بضد تھی۔ سپریم کورٹ نے اس مسئلہ پر ایک مملکت کے اہم رول کی جانب بھی توجہ دلائی ہے۔ اس وقت ہر لحاظ سے روہنگیائی مسلمان امداد اور آسرے کے محتاج ہیں۔ یہ لوگ بنیادی انسانی حقوق و ضروریات سے محروم ہیں۔ جاریہ سال مائنمار میں مسلسل روہنگیائی مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم، ان کے گھروں کو جلانے، معصوم بچوں کو نیزوں پر زندہ چڑھانے اور خواتین کی اجتماعی عصمت ریزی کے دل ہلادینے والے واقعات آج ساری دنیا کے سامنے ہیں۔ اقوام متحدہ کے رول کے بارے میں یہی کہا گیا ہیکہ اس نے مائنمار کے مسلمانوں کے تحفظ کیلئے بروقت اپنا کردار ادا نہیں کیا۔ مسلمانوں کو نسل کشی بند کروانے کی ضرورت پر توجہ دینی چاہئے تھی۔ ہندوستان کی تاریخی روایات رہی ہیں کہ اس نے اپنی سرزمین پر مصیبت زدگان کو پناہ دی ہے لیکن اس مرتبہ مرکز میں برسراقتدار حکومت کومسلمانوں کی نسل کشی کو روکنے سے کوئی سروکار نظر نہیں آتا۔ اس حکومت میں ہندوستان کی خارجہ پالیسی مجہول ہوچکی ہے لیکن ملک کی عدلیہ نے روہنگیائی مسلمانوں کے مسئلہ کو حساس قرار دے کر انہیں ملک بدر نہ کرنے پر زور دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے حکومت کے اس اندیشہ کو بھی دور کردیا ہیکہ اگر روہنگیائی مسلمانوں کی جانب سے کسی غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا ثبوت ملتا ہے تو ان کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔ اس فیصلہ کے بعد عدالت میں حکومت کے اس موقف کی نفی ہوجاتی ہیکہ روہنگیائی مسلمانوں کو واپس بھیجنا چاہئے کیونکہ ان کی موجودگی ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔ حکومت کو عدلیہ کے فیصلہ کے بعد روہنگیائی مسلمانوں کے بارے میں انسانی بنیادوں پر غور کرنا چاہئے۔ ہندوستان کو جمہوری حقوق، بنیادی حقوق، انسانی حقوق و امن پسندی کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے روہنگیائی مسلمانوں کے ساتھ بھی انسانی حقوق کے تناظر میں برتاؤ کیا جانا چاہئے۔ معصوم مسلم خواتین اور بزرگوں کی حالت زار پر کوئی بھی انسانی دل رکھنے والا فرد چشم پوشی اختیار نہیں کرسکتا۔ لہٰذا حکومت کو ازخود روہنگیائی مسلمانوں کے بارے میں حساس ہونا چاہئے۔ سپریم کورٹ کی بنچ نے جو چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھانولکر اور وائی چندر چوڑپر مشتمل تھی۔ اس مسئلہ کا جائزہ لینے کیلئے مرکزی حکومت کو بڑے دل کا مظاہرہ کرنے کی ترغیب دی ہے۔ سپریم کورٹ نے خود اس مسئلہ پر ہمدردانہ غور کرنے کی گنجائش پیدا کردی ہے۔ اسی لئے وہ آئندہ سماعت کے دوران انسانی حقوق کے تناظر میں غوروخوض کرے گا۔ بنچ کا یہ کہنا بھی غور طلب ہیکہ روہنگیائی مسلمانوں کے سارے مسئلہ کو مختلف زاویہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے جسے قومی سلامتی، معاشی مفادات، مزدوروں کے مفادات کے ساتھ ساتھ بچوں اور خواتین کا تحفظ، بیمار اور بے قصور انسانوں کو مدد کرنے کا جذبہ انسانی بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔ ہندوستان کے دستوری اقدار اور اصول ہمیں انسانیت کو درپیش مسائل کی جانب ہمدردی رکھنے کا درس دیتے ہیں۔ لہٰذا حکومت کو دستورہند کے اقدار کے برعکس رول ادا کرنے سے پہلے اس پر غور کرنا چاہئے۔
ہندوستانی معیشت کے مضبوط ہونے کا دعویٰ!
نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے بعد ہندوستانی معیشت کو مضبوط اور مستحکم بنانے والی نریندر مودی حکومت اور اس کے وزیرفینانس ارون جیٹلی نے ہنوز خود کو تاریکی کا حصہ بنائے رکھنے کو ترجیح دی ہے۔ عالمی بینک نے ہندوستانی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ کے سامنے ارون جیٹلی ہندوستانی معیشت کے مضبوط ہونے اور متوازن ترقی کا ادعا کرتے ہیں تو خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ ملک کے عوام کی آنکھ پر سیاہ پٹی باندھنے کی ایک کوشش ہے۔ یکم ؍ جولائی سے ملک بھر میں جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد تجارتی شعبہ انحطاط کا شکار ہوچکا ہے۔ تاجرین نے اپنے کاروبار کے ٹھپ ہوجانے اور دیوالیہ کی نوبت آنے کی شکایت کرتے ہوئے احتجاج شروع کیا ہے۔ اس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہوئے مودی حکومت اور وزیرفینانس دانست میں جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کو ہندوستانی معیشت کے لئے موثر فیصلہ متصور کررہے ہیں تو آگے چل کر اس کے معاشی خطرات خود حکمراں طبقہ کے مستقبل کے امکانات کو موہوم کردیں گے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت والے ملک کی معیشت تیزی سے تباہ کن حالات سے دوچار ہورہی ہے۔ گذشتہ 3 سال کے دوران روزگار سے محروم افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ افراط زر افسوسناک حد تک نشانہ کو پہنچ چکا ہے۔ بینک سے قرضے لینے والوںکی تعداد بھی گھٹ چکی ہے تو صارفین کا اعتماد بھی متزلزل ہوچلا ہے۔ حکومت کو اپنے 8 نومبر کے فیصلہ اور یکم ؍ جولائی کے جی ایس ٹی نفاذ والے اقدام کی خرابیوں کا ندازہ نہیں ہورہا ہے۔ تو یہ ہندوستانی عوام کیلئے ایک سانحہ سے کم نہیں ہے۔ ملک میں پیداوار کی شرح 3 سال قبل 8 فیصد درج کی گئی تھی مگر اب مودی حکومت کے ان 3 سال کے دوران یہ شرح 5.7 فیصد ہوگئی ہے جو 3 سال کے دوران سب سے کم سہ ماہی شرح پیداوار ہے۔ نوٹ بندی نے ملک کی بڑی آبادی جیسے ضعیف خواتین، روزانہ مزدوری کرنے والوں کسانوں اور چھوٹے تاجروں کو دھکہ پہنچایا ہے۔ وہیں جی ایس ٹی نے نوجوانوں کو روزگار سے محروم کردیا ہے۔ اگر حکومت ہوش کے ناخن لے کر کم از کم اب متبادل انتظامات کرے گی تو ملک کو اس طرح کے نقصانات سے باہر نکالنے میں کامیاب ہوسکے گی یہ کہنا مشکل ہے۔

 

TOPPOPULARRECENT