Friday , November 17 2017
Home / Top Stories / روہنگیائی مسلمانوں پر مظالم ‘ آنگ سان سو چی سے نوبل انعام واپس لیا جائے

روہنگیائی مسلمانوں پر مظالم ‘ آنگ سان سو چی سے نوبل انعام واپس لیا جائے

اقوام متحدہ سے بھی حرکت میں آنے کی اپیل ۔ نمائش میدان پر کل جماعتی جلسہ ۔ مسرس محمد محمود علی ‘ ایس سدھاکر ریڈی ‘ محمد علی شبیر ‘ عزیز پاشاہ ‘ حامد محمد خاں و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔10ستمبر( سیاست نیوز) دنیا کے 16 نوبل انعام یافتگان کے بشمول امن پسندہندوستانیوں کا اقوام متحدہ سے مطالبہ ہے کہ وہ راکھین میں نہتے و مظلوم روہنگیوں کی نسل کشی پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے والی میانمار کی اسٹیٹ کونسلر آن سانگ سوچی سے نوبل انعام واپس لیں ،اور حکومت ہند اقوام متحدہ کی مجوزہ جنرل اسمبلی میں روہنگیا مسلمانوں کے تئیں اپنے ہمدردانہ رویہ کا اظہار کرکے راکھین میںروہنگیوں پر جاری تشدد کی الفاظ میںمذمت کریں۔ امیر جماعت اسلامی ہند تلنگانہ واڈیشہ مولانا حامد محمد خان نے نمائش میدان میںروہنگی مسلمانوں سے اظہار یگانگت کیلئے منعقدہ کل جماعتی جلسہ سے صدارتی خطاب کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر الحاج محمد محمودعلی‘ قائد اپوزیشن قانون ساز کونسل جناب محمد علی شبیر‘ قومی سکریٹری سی پی آئی ایس سدھاکر ریڈی‘ جناب سیدعزیز پاشاہ سابق ایم پی ‘ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ ‘مولانا عبدالرحیم مکی جماعت اہل حدیث ‘مولانا تقی رضا عابدی ‘مولانا حامد حسین شطاری‘ جناب محمد مشتاق ملک‘ جناب ضیاالدین نیر‘ مسٹر ڈی جی نرسنگ رائو‘مولانا حسین شہید‘ سینئر ایڈوکیٹ ہائیکورٹ جناب عثمان شہید‘ مولاناسید طارق قادری‘مولانا سید شاہ احمد الحسینی سعید قادری‘مولانا نصیر الدین‘ مولانا ملک معتصم خان ‘ حافظ محمد رشدالدین ناظم‘ مولانا سید شاہ فضل اللہ قادری الموسوی‘جناب منیر الدین مجاہد‘مولانا حیدر رضا آغا‘جناب عبدالستا ر مجاہد‘ عثمان بن محمد الہاجری‘ علی بن سعیدالگتمی‘ محمد یوسف‘ رحیم اللہ خان نیازی نے بھی جلسہ عام میںشرکت و مخاطبت کے ذریعہ روہنگی مسلمانوں سے اظہار یگانگت کیا۔ عوام کی کثیرتعداد شریک جلسہ تھی ۔ مولانا حامد محمد خان نے ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کے حوصلہ اور فیصلہ کی ستائش کی اور کہاکہ ساری دنیا میں ایک وہی مرد آہن ہے جو روہنگی مسلمانوں کیلئے مسیحا بن کر سامنے آیا ہے ۔ انہو ںنے کہاکہ برمی مسلمانوں کے ساتھ مظالم کا سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے عرصہ دارز سے ان کا عرصہ حیات تنگ کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ 1752ء سے لیکر1782ء تک روہنگیوں پر مظالم ڈھائے جاتے رہے اسی دوران روہنگی مسلمانوں نے راکھین سے ہجرت کی جبکہ 1948میں برما آزاد مملکت بنا اور 1962میں وہاں پر فوجی حکومت آئی اس کے بعد پھر ایک مرتبہ روہنگی مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ شروع ہوا ۔ انہو ںنے بتایا کہ راکھین میںعلماء کو بدجانور کا گوشت کھانے پر مجبور کیاگیا اور انکار کرنے پر ان کا قتل کردیاگیا۔ مولانا حامد محمد خان نے بتایا کہ مساجد کو نذر آتش کیا جاتارہا ہے اور روہنگی مسلمانوں کو قتل کرنے کاسلسلہ جار ی رہا۔انہوں نے کہاکہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور لاکھوں کی تعداد میںروہنگی مسلمان بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ۔ اس بار25اگست 2017ء سے روہنگیوں پر تشدد کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا اور 400 نہتے روہنگیوں کو قتل کردیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اپنے تین روزہ مائنمار دورہ کے موقع پر ان 400 لوگوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔ انہو ںنے کہاکہ ہندوستان ایک عظیم جمہوری ملک ہے اور جہاں سے ہر وقت مظلوموں کی تائید میںآوازیں اٹھتی رہی ہیں اور موجودہ حکومت اس تاریخ کو بدل رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم ایسا ہرگز ہونے نہیںدیں گے ۔ راکھین میںنہ صرف روہنگی مسلمان بستے ہیںبلکہ مائنمار کی فوج کا شکار وہا ںروہنگی غیر مسلم بھی ہورہے ہیں۔ انہوں نے حکومت ہند سے مطالبہ کیاکہ وہ اس مسئلہ کو ایک مخصوص عینک سے دیکھنے کے بجائے انسانیت کی بنیاد پر اس حساس مسئلہ کا جائزہ لے اور ہندوستان کی قدیم روایت کی پاسداری کرے۔ جناب محمد محمودعلی نے اپنے خطاب میں بتایا کہ انہوں نے مرکزی وزیر خارجہ اور اقلیتی امور سے ملاقات کرکے ان پر دبائو ڈالا ہے کہ وہ روہنگی مسلمانوں پر مظالم کی روک تھام کیلئے موثر اقدام اٹھائے ۔ انہوں نے کہاکہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو کو جب روہنگی مسلمانو ںپر ڈھائے جانے والے مظالم کے متعلق ویڈیو دکھایاگیا تو وہ مضطرب ہوگئے اور مجھے ہدایت دی کہ مائنمار کے سفیر سے اس ضمن میںملاقات کرکے حکومت تلنگانہ کی جانب سے نمائندگی کریں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT