Wednesday , July 18 2018
Home / دنیا / روہنگیائی مسلمانوں کے قتل میں ملوث 7 فوجیوں کو 10 سال قید

روہنگیائی مسلمانوں کے قتل میں ملوث 7 فوجیوں کو 10 سال قید

ینگون ۔ 11 اپریل (سیاست ڈاٹ کام)میانمار کی فوج کا کہنا ہے کہ روہنگیائی مسلمانوں کے ماورائے قانون قتل میں ملوث 7 فوجیوں کو 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے ۔میانمار کے آرمی چیف کی جانب سے فیس بک میں جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ ماورائے قانون قتل پر فوجیوں کو سزا سنا دی گئی ہے ۔یاد رہے کہ 2 ستمبر 2017 کو ریاست راکھین کے گاؤن انڈن میں پیش آنے والے خونی واقعہ میں فوج نے ملوث ہونے کا اعتراف کیا جبکہ ریاست میں فسادات پھوٹنے کے بعد 7 لاکھ کے قریب روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیش ہجرت پر مجبور کردیا گیا تھا۔میانمار کے دو صحافیوں 31 سالہ وا لون اور 27 سالہ کیاؤ سوئے کو دسمبر میں قتل و غارت کی تفتیش کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا جبکہ وہ ینگون میں تھے اور ان کے پاس تمام قانونی دستاویزات بھی تھے ۔عدالت کی جانب سے انھیں 14 برس قید کی سزا سنائے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔تاہم فوج نے ان صحافیوں کی گرفتاری کے فوری بعد اپنے جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ قتل و غارت میں ملوث فوجیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔آرمی چیف کے پیغام میں کہا گیا ہے کہ چار افسران کو فوج سے بے دخل کردیا گیا اور انھیں 10 برس کی قید بامشقت بھی سنائی گئی ہے ۔اس کے علاوہ مزید تین فوجیوں کو بھی جرائم کی پاداش میں دس سال قید بامشقت کی سزا دی گئی ہے ۔عالمی برادری کی جانب سے کھلی تحقیقات کے مطالبہ کے باوجود تحقیقات بند دروازوں کے پیچھے مکمل ہوئی۔

TOPPOPULARRECENT