Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / روہنگیائی پناہ گزینوں کیلئے مکانات کی تعمیر کیلئے اراضی کی نشاندہی کا آغاز

روہنگیائی پناہ گزینوں کیلئے مکانات کی تعمیر کیلئے اراضی کی نشاندہی کا آغاز

جماعت اسلامی کا ہیومن ویلفیر فاؤنڈیشن سے تعاون، حامد محمدخان کا بیان
حیدرآباد۔/23ستمبر، ( سیاست نیوز) جماعت اسلامی نے حیدرآباد میں مقیم روہنگیائی پناہ گزینوں کیلئے 100 مکانات کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لئے کسی موزوں مقام پر اراضی کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ امیر حلقہ جماعت اسلامی تلنگانہ و اڈیشہ حامد محمد خاں نے تمام امرائے مقامی، نظمائے حلقہ اور نظمائے ضلع کو اس سلسلہ میں ایک سرکیولر جاری کرتے ہوئے جمعہ 29 ستمبر کو مساجد میں عوام سے عطیات وصول کرنے کی خواہش کی ہے۔ مکانات کی تعمیر ہیومن ویلفیر فاؤنڈیشن کے اشتراک سے انجام دی جائے گی۔ یہ فاؤنڈیشن کیرالا اور ملک کے دیگر علاقوں میں مختلف فلاحی اور امدادی کاموں میں مصروف ہے جس کے سرکردہ قائدین میں عبدالجبار صدیقی شامل ہیں۔ حامد محمد خاں نے بتایا کہ جماعت اسلامی نے ہیومن ویلفیر فاؤنڈیشن کے اشتراک سے 3 شعبوں میں روہنگیائی مسلمانوں کی امداد اور بازآبادکاری کا پروگرام وضع کیا ہے۔ حیدرآباد میں مکانات کی تعمیر کے علاوہ ان کے حق زندگی اور حق سکونت کیلئے قانونی دائرہ میں امداد کی جائے گی۔ ہندوستان اور بنگلہ دیش میں جو نئے پناہ گزین پہنچ رہے ہیں ان کی امداد اور راحت کاری بھی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے انجام دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نازک موقع پر امرائے مقامی اور نظمائے حلقہ کارکنان سے خواہش کی جاتی ہے کہ وہ اپنے اپنے مقامات پر عوام سے مالی تعاون حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ جمعہ 29 ستمبر کو مساجد میں اس سلسلہ میں خصوصی کاؤنٹرس قائم کئے جائیں اور SIO کے تعاون سے یہ کام انجام دیا جاسکتا ہے۔ عطیات کیلئے ہیومن ویلفیر فاؤنڈیشن کی رسید استعمال کی جائے گی۔ جمع شدہ رقم راست طور پر ہیومن ویلفیر فاؤنڈیشن اے پی چیاپٹر کے اکاؤنٹ میں جمع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ برما میں روہنگیائی مسلمانوں پر جو انسانیت سوز حملے کئے جارہے ہیں اور جس ظلم و بربریت کا شکار بنایا جارہا ہے اس کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج جاری ہے۔ اقوام متحدہ اپنے اختیارات کے باوجود خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ ترکی اور ایران کی حکومتوں نے اس ظلم کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ حامد محمد خاں نے کہا کہ 4 لاکھ سے زائد روہنگیائی مسلمان بنگلہ دیش اور 40 ہزار ہندوستان میں پناہ گزین ہیں۔ ملک میں 3 لاکھ 78 ہزار افراد سری لنکا، تبت، افغانستان، بنگلہ دیش اور برما سے بطور پناہ گزین قیام پذیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت برما کے پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے پر مصر ہے جبکہ برما کی حکومت انہیں اپنا شہری ماننے سے انکار کررہی ہے۔ سخت ترین احتجاج کے باوجود اس مسئلہ کا کوئی سیاسی حل تلاش نہیں کیا جاسکا۔ ان حالات میں جماعت اسلامی نے جذبہ انسانیت اور اخوت کے تحت دست تعاون دراز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اس کام میں زیادہ سے زیادہ تعاون کریں۔

TOPPOPULARRECENT