روہنگیامسلمان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کی مخالفت

ریاست راکھین میں بدھ راہبوں کا نعرہ بازی کرتے ہوئے بینرس کے ساتھ جلوس
سٹ وے ( میانمار) ۔25 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) میانمار کی فساد زدہ ریاست راکھین میں آج روہنگیا مسلم پناہ گزینوں کی بنگلہ دیش سے وطن واپسی اور اُن کی بازآبادکاری کے منصوبہ کے خلاف بدھ راہبوں نے ریاستی دارالحکومت سٹ وے کی سڑکوں پر بیانرس کے ساتھ جلوس نکالا ۔ وہ نعرہ بازی کررہے تھے ۔ ملک سے فرار ہوجانے والے’’ بھگوڑے ‘‘جلوسی کہہ رہے تھے کہ ملک کے تمام افراد ملک کی صیانت اور حفاظت کے ذمہ دار ہیں ۔ فیس بُک پر ایک پیغام شائع کیا گیا ہے جس کے بموجب ہمارے ملک کیلئے اس میں کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ اگر ہم بنگالیوں کو واپس قبول کریں اور ان کو تحفظ فراہم کریں ۔ روہنگیا مسلم پناہ گزینوں کی توہین کے طور پر اصطلاح ’’ بنگالی یا بھگوڑے ‘‘ استعمال کی جاتی ہے ۔ بدھ راہب پورے ریاستی دارالحکومت سٹ وے میں سرخ بیانرس اٹھائے اور نعرہ بازی کرتے ہوئے جلوس کی شکل میں گشت کررہے تھے ۔ یہ احتجاجی مظاہرہ بنگلہ دیش اور میانمار میں سرکاری زیرسرپرستی روہنگیا اقلیت کی بازآبادکاری کے خلاف کیا جارہا ہے جو اگست 1917ء میں پُرتشدد فوجی کارروائی کی وجہ سے ملک سے فرار ہوگئے تھے ۔ بنگلہ دیش میں ساکن روہنگیا پناہ گزینوں نے کہاکہ میانمار کی فوج نے عورتو ں کی عصمت ریزی کی ، ان کے رشتہ داروں کا قتل کیا ، ان کے مکانوں کو نذرآتش کردیا تاکہ انہیں ملک سے فرار ہونے پر مجبور کرسکیں ۔ برسوں پرانے واقعات کے سلسلہ میں اُن پرمقدمات دائر کئے گئے ، انہیں واپس لانے اور ان کی بازآبادکاری کیلئے ایک سال قبل معاہدہ طئے پایا ہے لیکن روہنگیا پناہ گزین شہریت ، حفاظت ، حفظان صحت اور تعلیم تک دیگر شہریوں کے مساوی رسائی دینے تک وطن واپس ہونا نہیں چاہتے ۔ انہیں ریاست راکھین سے غیرمسلم آبادی کا بھی خوف ہے اور اندیشہ ہے کہ وہ روہنگیا پناہ گزینوں کی وطن واپسی نہیں چاہتے ۔ سٹ وے میں ان کی واپسی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ سے ان کے اندیشوں کی توثیق ہوگئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT