Thursday , December 13 2018

روہنگیا بحران : بنگلہ دیش نے میانمار کا دعویٰ مسترد کردیا

ڈھاکہ ۔ 16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش نے آج میانمار کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہیکہ بدھسٹ اکثریت والے ملک نے بنگلہ دیش کو فرار ہوئے سات لاکھ روہنگیا مسلم پناہ گزینوں میں سے تقریباً پہلے پانچ خاندانوں کو واپس بھیج دیا ہے۔ حکومت میانمار کی جانب سے ہفتہ کے روز جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہیکہ ایک خاندان کے پانچ ارکان سرحدی علاقہ سے مغربی راکھین واپس آئے ہیں۔ بیان کے مطابق یہ خاندان مونگ ڈا ٹاؤن میں جو سرحد سے قریب واقع ہے، اپنے رشتہ داروں کے ساتھ عارضی طور پر رہائش پذیر تھے۔ بیان میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہیکہ حکام یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ آیا یہ لوگ میانمار میں رہ چکے ہیں اور انہیں قومی تصدیق نامہ کے کارڈس بھی دیئے گئے ہیں جو دراصل شناختی کارڈ کے مماثل ہے۔ تاہم اسے شہریت کیلئے کارکرد تصور نہیں کیا جاتا۔ یاد رہیکہ شہریت ہی ایک ایسا مسئلہ جسے روہنگیا مسلمان عرصہ دراز سے جھیلتے آرہے ہیں۔ میانمار انہیں اپنا شہری تسلیم ہی نہیں کرتا اور یہی وجہ ہیکہ کئی دہوں سے انہیں (روہنگیا مسلمان) ناانصافیوں کا سامنا ہے۔ بیان میں البتہ یہ نہیں کہا گیا ہیکہ بنگلہ دیش مزید روہنگیاؤں کو میانمار بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے یا نہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ بنگلہ دیش نے میانمار کو ان 8000 روہنگیاؤں کی ایک فہرست روانہ کی ہے جنہیں بنگلہ دیش سے دوبارہ میانمار بھیجنا ہے تاہم تصدیقی عمل میں پیچیدگیوں کی وجہ سے ان کی روانگی بھی تاخیر کا شکار ہوئی ہے۔ دوسری طرف بنگلہ دیش کے وزیرداخلہ اسد الزماں خان نے کہا کہ میانمار کا یہ دعویٰ غلط ہیکہ کچھ افراد کو بنگلہ دیش سے میانمار بھیج دیا گیا ہے کیونکہ وہ لوگ کبھی بھی بنگلہ دیش کی سرحد تک پہنچے ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم میانمار سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ تمام روہنگیائی مسلمانوں کو بتدریج واپس طلب کرلے گا۔ یاد رہیکہ بنگلہ دیش کے رفیوجی، ریلیف اور ری پاٹریشن کمشنر ابوالکلام نے بھی یہ توثیق کی کہ جس روہنگیا خاندان کی بات کی جارہی ہے اس نے کبھی سرحد پار ہی نہیں کیا۔ اسے کسی بھی صورت میں ’’واپس بھیجنے کے عمل‘‘ سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس عمل کا ابھی آغاز ہی نہیں ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT