Saturday , December 16 2017
Home / مضامین / روہنگیا سلگتا مسئلہ ۔ ماینمار پر عالمی دباؤ ناگزیر

روہنگیا سلگتا مسئلہ ۔ ماینمار پر عالمی دباؤ ناگزیر

آڈم سِمپسن
وہ 25 اگست 2017ء کی صبح تھی جب ریجنل ہیومن رائٹس این جی او ’Fortify Rights‘ نے اپنے بنکاک آفس میں داخلی سطح کا ورکشاپ منعقد کیا۔ اس کے پچھلے روز ہی کوفی عنان زیرقیادت اڈوائزری کمیشن برائے رکھائن اسٹیٹ نے اپنی قطعی رپورٹ حکومت ماینمار کو پیش کردی تھی۔ ’فارٹیفائی رائٹس‘ کے محققین نے اس کمیشن کی سفارشات کو مناسب اندازہ پر مبنی اور جامع قرار دیتے ہوئے ان تمام سے اتفاق کیا کہ ماینماری حکومت ٹھوس اقدامات کے ذریعے رکھائن بودھوں اور روہنگیا مسلمانوں کی جبری افتراق ختم کرے؛ پوری ریاست میں کامل اور بلاروک ٹوک فلاح کار مساعی کو یقینی بنائے؛ روہنگیا کی بے وطنی کے مسئلے سے نمٹے؛ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکبین کی گرفت کرے؛ اور آزادانہ نقل و حرکت پر تحدیدات کا اختتام کرے۔
دفتر اسٹیٹ کونسلر آنگ سان سوچی کی طرف سے مثبت ردعمل کا خیرمقدم بھی کیا گیا، جو تمام سفارشات پر ’کامل، اور ممکنہ حد تک مختصر مدت کے اندرون‘ عمل آوری کرے گا۔ فوری اقدام کے طور پر کامل نمائندگی والی نئی حکومتی وزیر زیرقیادت کمیٹی تشکیل دیا جانا تھا جو اس کمیشن کی سفارشات پر عمل آوری کی ذمہ دار ہوگی، جس کی اعانت اڈوائزری بورڈ کرے گا جس میں علاقائی اور بین الاقوامی ماہرین شامل ہوں گے۔ 2012ء میں تشدد پھوٹ پڑنے کے بعد سے پہلی مرتبہ ریاست رکھائن کے بارے میں امید کی کرن ظاہر ہوئی۔ تاہم، یہ پُرامیدی جلد ہی ہوا ہوگئی۔ ایسی اطلاعات آنا شروع ہوئیں کہ راتوں رات ایک گروپ بہ نام ’حرکہ الیاقین‘ یا ’اراکن روہنگیا سالویشن آرمی (ARSA) نے شمالی رکھائن اسٹیٹ کے تین ٹاؤنس میں 30 پولیس چوکیوں اور فوجی اڈہ پر مربوط حملے کئے۔
جس طرح کا ارتباط دیکھنے میں آیا، اس سے صاف ظاہر ہوا کہ حملہ طویل منصوبہ بندی کے ساتھ ہوا اور اس کا وقت عنان رپورٹ کی اجرائی سے منطبق کیا گیا۔ اس کے متضاد شدید احتجاجوں کے باوجود یہ ظاہر ہوا کہ ’اَرسا‘ قیادت کے بڑے مقاصد میں ریاست رکھائن میں امن مساعی کی کوششوں کو مکاری سے نقصان پہنچانا شامل ہے۔ ’ارسا‘ سب سے پہلے 9 اکٹوبر 2016ء کو اپنے مربوط حملوں کے نتیجے میں نمایاں ہوئی۔ یہ حملے معیار کے اعتبار سے حالیہ دہوں میں رکھائن اسٹیٹ میں کسی بھی تخریبی کارروائی سے مختلف رہے، اور روہنگیا کے سہے گئے پانچ سالہ ظلم کا اولین منظم ملٹری جواب قرار پائے۔

وسط 2012ء میں تشدد پھوٹ پڑنے کے بعد جو زیادہ تر روہنگیا مسلمانوں کے خلاف رکھائن بدھسٹوں نے برپا کیا، مقررہ حدود والے کیمپوں نے زائد از 120,000 روہنگیا کی نقل و حرکت محدود کردی۔ تب سے پوری ریاست میں روہنگیا کی گزربسر کیلئے کمائی اور غذا اور آسرا کو تلاش کرنے کی تگ و دَو بُری طرح ماند پڑچکی ہے۔ اس کے نتیجے میں انسانیت کی تباہی فلاحی امداد تک رسائی کو حکومت یا ملٹری کی طرف سے روکنے پر شدیدتر ہوگئی ہے۔ یہ ملک بھر میں اُبھرنے والے وسیع تر مسلم دشمن جذبہ کا حصہ رہا ہے اور اس کے بعد جبر و استبداد کی تاریخی مثالیں اور روہنگیا کی جلاوطنی کو غیرقانونی تارکین وطن اور قومی سلامتی کیلئے خطرہ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
25 اگست کے حملوں کے جواب میں ماینماری حکومت کی اینٹی ٹیررازم کمیٹی نے ’اَرسا‘ کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے دیا … پہلی مرتبہ ہوا کہ یہ ٹھپہ ملک کے نئے قانون انسدادِ دہشت گردی کے تحت لگایا گیا، حالانکہ ’ارسا‘ کی چالیں ماینمار میں کئی دیگر مسلح گروپوں سے کچھ خاص مختلف نہیں ہیں۔ یہ اقدام روہنگیا سے روا رکھے گئے ’خاص برتاؤ‘ کی عین مطابقت میں ہوا۔

’اَرسا‘ کے حملوں کے بعد ماینمار ملٹری ایسی جارحانہ کارروائی میں مشغول ہوگئی جسے اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے ’سفاکانہ سکیورٹی آپریشن‘ قرار دیا، جو انھوں نے کہا کہ ’نسل کشی کی نصابی مثال‘ ہے۔ اس صورتحال کی سنگینی کا نتیجہ ہوا کہ یو این سکیورٹی کونسل نے شاذونادر نظر آنے والے اتفاق رائے میں ماینمار کے تعلق سے کہا کہ وہاں تشدد کو ختم کرنے ’’فوری اقدامات‘‘ ضروری ہیں۔ یو این ایچ سی آر کا تخمینہ ہے کہ زائد از 409,000 روہنگیا جو ماینمار میں اُن کی آبادی کا تقریباً 40 فیصد حصہ ہوتے ہیں، تین ہفتوں میں سرحد پار کرکے بنگلہ دیش میں داخل ہوچکے ہیں۔
ماینمار ملٹری کے ہاتھوں دیہات جلا دیئے جانے، ماؤرائے عدالت ہلاکتوں کے ارتکاب اور مجبوراً فرار ہونے والے پناہ گزینوں کی راہ میں سرنگیں بچھا دینے کی رپورٹس وسیع طور پر پھیلی ہیں۔ جلادیئے گئے زائد از 80 مقامات کی سٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین پر جھلسا دینے والی یہ سوچی سمجھی اور منظم پالیسی ملٹری کی کارستانی ہے۔
دوسری طرف ، حکومت خود روہنگیا کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں کہ انھوں نے خود اپنے مکانات کو آگ لگا دی، جب کہ ثبوت واضح طور پر گڑھا ہوا ہے۔ رکھائن کے تعلق سے ان اشتعال انگیز دعوؤں کے باوجود حکومت کو سیول سوسائٹی گروپوں جیسے نام نہاد موافق جمہوریت 88 جنریشن پیس اور اوپن سوسائٹی کی تائید و حمایت سے پتہ چلتا ہے کہ روہنگیا کا معاملہ ہو تو پوری ماینمار سوسائٹی میں نسل پرستی سرایت کرگئی ہے۔
یہ معروف امر ہے کہ نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) اور اس کی لیڈر سوچی زیرقیادت حکومت کی ماینمار ملٹری پر کوئی نگرانی نہیں ؛ سوچی کی نسبت سینئر جنرل مین آنگ لینگ اس بے رحمانہ ملٹری آپریشن کیلئے زیادہ تر ذمہ دار ہے۔ اس کے باوجود سوچی اپنے ملک کی بلاحجت لیڈر ہیں، اور روہنگیا کے ساتھ نمٹنے میں ملٹری کی بربریت پر اُن کی نسبتاً خاموشی کوئی بھی معمول بین الاقوامی جائزے کے تحت ماینمار میں ایسا ماحول قبول کرنے کے مترادف ہے جو انسانیت کے خلاف جرائم اور حتیٰ کہ نسل کشی قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ سوچی نے جب اپریل 2016ء میں اقتدار سنبھالا، انھیں سیاسی اور معاشی مسائل کے انبار کا سامنا ہوا، جو ملٹری حکمرانی کی نصف صدی سے وراثت میں حاصل ہوا۔ ان مسائل کی اہمیت کو گھٹایا نہیں جاسکتا۔ لیکن ملک میں ایک اقلیتی برادری کے خلاف شدید اور وسیع تر تشدد پر حکومت کا اَن دیکھا پن والا انداز اس کے جواز یا استحقاق کو ختم کردیتا ہے۔

اس لڑائی میں فی الواقعی حقیقی فاتح کوئی نہیں ہیں۔ این ایل ڈی حکومت کو متواتر بین الاقوامی تائید و حمایت درکار ہے تاکہ اپنے ملک کو معاشی اور سیاسی طور پر بدل سکے۔ اس کو یونہی چھوڑ نہیں دینا چاہئے۔ لیکن بیرونی حکومتوں کو ضرورت ہے کہ ماینمار کی حکومت اور ملٹری دونوں پر دباؤ ڈالیں کہ عسکری گروپوں کے ساتھ نمٹنے میں بین الاقوامی اُصولوں کی پاسداری کریں۔ اس میں اجتماعی سزادہی سے احتراز کرنا شامل ہے۔ ماینمار کے ساتھ مشغولیت ضروری ہے، لیکن ڈیفنس کنٹراکٹس کے متلاشی ماینمار ملٹری کے سربراہ کی جلدبازی میں آؤبھگت جب کہ اُن کی ملٹری اپنے ملک بھر میں متعدد سفاکانہ سیول لڑائیوں میں مشغول ہے، روہنگیا مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT