Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / روہنگیا مسئلہ سے سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا : رام مادھو

روہنگیا مسئلہ سے سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا : رام مادھو

تلنگانہ میں بی جے پی کا مظاہرہ بہتر بنانے کی حکمت عملی ‘زیادہ سے زیادہ نشستوں پر کامیابی کا یقین

حیدرآباد ۔ 18ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی جنرل سکریٹری رام مادھو نے آج کہا کہ مودی حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ جو میانمار سے فرار ہوکر پناہ گزین ہوئے ہیں موثر طور پر نمٹنے کیلئے بنگلہ دیش کی انسانی بنیادوں پر ممکنہ مدد کی ہے ‘ لیکن جب قومی سلامتی کا درپیش ہو تو ان سے سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک روہنگیا مسئلہ کا تعلق ہے ہماری حکومت کا موقف بالکل واضح ہے ۔ اگر انسانی بنیادوں کی بات آئے تو حکومت فوری مدد فراہم کررہی ہے اور اس مسئلہ سے نمٹنے کیلئے حکومت بنگلہ دیش کی ممکنہ معاونت کی جارہی ہے ۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جب قومی سلامتی کا مسئلہ درپیش ہو تو ہم ان طبقات سے سختی کے ساتھ نمٹیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان نے مختلف شہروں میں غیرقانونی تارکین وطن کے قیام کے بارے میں پہلے ہی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ آج مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں بھی اپنا یہ موقف واضح کیا کہ روہنگیا کے مسلمان غیرقانونی تارکین وطن ہے ان کی مسلسل موجودگی ملک کی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہے ۔ بی جے پی لیڈر نے سپریم کورٹ میں حکومت کے موقف کو درست قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس معاملہ میں موزوں جواب دیا ہے اور یہ معاملہ عدالت میں زیر دوران ہے ۔ انہوں نے کہا کہ روہنگیا کے مختلف طبقات کے ملک میں گھس آنے سے قومی سلامتی کو سنگین چیلنج درپیش ہے ۔ میانمار میں فوجی مظالم کے نتیجہ میں لاکھوں اقلیتی روہنگیا مسلمان وہاں سے فرار ہورہے ہیں اور ان میں کی اکثریت بنگلہ دیش میں پناہ گزین ہیں ۔ ہندوستان کے مختلف مقامات پر بھی تقریباً 40ہزار روہنگیائی باشندے مقیم ہیں ۔ اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے پناہ گزین نے تقریباً 16,500 پناہ گزینوں کو شناختی کارڈ جاری کئے ہیں ۔ رام مادھو نے کہا کہ تلنگانہ میں 2019ء لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کارکردگی کو بہتر بنانے اقدامات جاری ہے ۔ پارٹی نے تین مرکزی قائدین کو تلنگانہ اُمور کا جائزہ لینے کیلئے مقرر کیا ہے ۔ انہوں نے تلنگانہ بی جے پی صدر کے لکشمن اور دیگر پارٹی قائدین سے آج ملاقات کی ۔ انہوں نے بتایا کہ 17کے منجملہ سکندرآباد لوک سبھا حلقہ پر پارٹی کو کامیابی ملی تھی مابقی 16نشستوں کو تین مرکزی قائدین میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ یہاں بھی پارٹی امیدواروں کی کامیابی کے امکانات یقینی بنایا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ شمالی تلنگانہ کے اضلاع میں پارٹی کی کامیابی کیلئے کوششیں جاری ہیں ۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ 2019ء انتخابات میں بی جے پی زیادہ سے زیادہ لوک سبھا نشستوں پرکامیابی حاصل کرے گی ۔ یہاں حکمراں ٹی آر ایس کا واحد متبادل بی جے پی اور وہ اسمبلی نشستوں پر بھی زیادہ سے زیادہ کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرے گی ۔ تلنگانہ میں اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات ایک ساتھ منعقد ہوں گے ۔ (ابتدائی خبر صفحہ 2 پر )

TOPPOPULARRECENT