Wednesday , December 13 2017
Home / دنیا / روہنگیا مسئلہ پر امریکہ میانمار فوج کیخلاف کارروائی کریگا

روہنگیا مسئلہ پر امریکہ میانمار فوج کیخلاف کارروائی کریگا

 

واشنگٹن ۔ 24 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے آج ایک ایسا اعلان کیا جس کے بارے میں توقع نہیں کی جارہی تھی۔ اعلان کے مطابق میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف میانمار کی فوج نے جس ظلم و جبر کاسلسلہ جاری رکھا ہے اسے روکنے کیلئے امریکہ نے ابتدائی پیشرفت کی ہے جس نے نہ صرف ساری دنیا کے مسلمانوں کو فکرمند کردیا ہے بلکہ بنگلہ دیش میں بھی زبردست انسانی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھرنوریٹ نے بتایا کہ امریکہ اس سلسلہ میں میانمار کو جوابدہ بنانے اپنے حلیف اور دوست ممالک سے مسلسل ربط میں ہے اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ نوریٹ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میانمار میں جمہوریت کی بحالی کی امریکہ ہمیشہ تائید کرتا رہے گا اور ساتھ ہی ساتھ وہ اس بات کا بھی خواہاں ہے کہ میانمار کے راکھین اسٹیٹ میں اس وقت جو بحران پیدا ہوا ہے اس کی یکسوئی کی بھی کوشش جاری رکھنی چاہئے۔ البتہ یہ میانمار حکومت کی یہ اولین ترجیح ہونی چاہئے کہ وہ مسلح افواج کو راکھین اسٹیٹ میں امن اور تحفظ کی برقراری کو یقینی بنانے کی ہدایت دے۔ وہاں موجود متاثرین تک انسانی بنیادوں پر انتہائی ضروری اشیائے خوردنی کی رسائی کو یقینی بنائے جس کے وہ بے چینی سے منتظر ہیں اور جو لوگ راکھین اسٹیٹ چھوڑ کر فرار ہوچکے ہیں انہیں محفوظ اور رضاکارانہ طور پر واپس بلایا جائے۔ ماہ اگست کے اواخر میں راکھین اسٹیٹ میں شروع ہوئے تشدد کے بعد اب تک چھ لاکھ اقلیتی روہنگیا مسلمان پڑوسی ملک بنگلہ دیش فرار ہوچکے ہیں اور ان کی وہاں موجودگی نے خود حکومت بنگلہ دیش کیلئے نئے مسائل پیدا کردیئے ہیں۔

یاد رہیکہ میانمار کی سیکوریٹی فورسیس پر انتہاء پسندوں کے حملوں کے بعد ہی روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فوجی کارروائی کی گئی تھی۔ راکھین اسٹیٹ میں اس وقت روہنگیا مسلمانوں اور دیگر کمیونٹیز کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے اس پر امریکہ نے اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ نوریٹ کے مطابق کوئی بھی فرد یا تنظیم (چاہے وہ بیرونی کیوں نہ ہو) روہنگیا مسلمانوں پر جبر و استبداد کررہی ہے انہیں ہی ان کی (روہنگیا) حالت زار کیلئے ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ بہرحال، امریکہ کا یہ ماننا ہیکہ جو لوگ بھی روہنگیاؤں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ رہے ہیں ان پر معاشی تحدیدات عائد کرنا بھی امریکہ کے چند متبادل میں شامل ہے۔ میانمار کے ایسے تمام آفیسرس اور یونٹس جو راکھین اسٹیٹ میں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے کے ذمہ دار ہیں، انہیں مستقبل میں امریکی تعاون سے انجام دیئے جانے والے کسی بھی پروگرام کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔ علاوہ ازیں امریکہ نے میانمار سے یہ بھی خواہش کی ہیکہ وہ اپنی سیکوریٹی فورسیس کو امریکی قیادت میں ہونے والے پروگرامس اور ایونٹس میں شرکت کیلئے امریکہ بھیجے۔ ہیتھرنوریٹ کے مطابق اس وقت امریکہ اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اقوام متحدہ کے ’’سچ کا پتہ چلانے والے مشن‘‘ بین الاقوامی ہیومانٹیرین آرگنائزیشنس اور میڈیا تک رسائی کیلئے میانمار پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے اور میانمار حکومت کو جوابدہ بنانے کیلئے تمام تر کوششوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کسی متبادل پر عنقریب فیصلہ ہوگا جس میں گلوبل میگنٹسکی ٹارگٹیڈ تحدیدات بھی شامل ہیں۔ یاد رہیکہ اس وقت امریکہ نے یوں تو اپنی تمام تر توجہ شمالی کوریا پر مرکوز کر رکھی ہیں جس نے امریکہ کی راتوں کی نیند حرام کر رکھی ہے لیکن اسی دوران میانمار میں تشدد کے ایسے رونگٹے کھڑے کرنے والے واقعات رونما ہوئے جس نے تقریباً ساری دنیا کو دہلا کر رکھ دیا۔ امریکہ بھی اس سے مستثنیٰ کب رہ سکتا تھا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی توجہ جب اس جانب مبذول کروائی گئی تو انہوں نے شمالی کوریا سے توجہ ہٹاتے ہوئے اب میانمار کی طرف توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اب یہ امید کی جاسکتی ہیکہ کسی بھی تنازعہ میں امریکہ کے شامل ہوجانے کے بعد تنازعہ کی یکسوئی تقریباً یقینی ہوجاتی ہے لہٰذا اب سیاسی ماہرین یہی سمجھ رہے ہیں کہ روہنگیا معاملہ میں ٹرمپ کی لب کشائی ان کے (روہنگیا) حق میں بہتر ثابت ہوسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT