Thursday , November 23 2017
Home / مضامین / روہنگیا مسلمانوں پر اﷲ کی زمین جب تنگ ہوگئی

روہنگیا مسلمانوں پر اﷲ کی زمین جب تنگ ہوگئی

غضنفر علی خان

 

’’مرتے ہیں میرؔ سب مگر نہ اس بے کسی کے ساتھ ‘‘
سابق برما جو آج مینمار کہلاتا ہے بنیادی طورپر بدھ دھرم کے ماننے والوں کی سرزمین ہے ۔ یہی لارڈ بدھا نے اپنے بھگتوں کو یہ تعلیم دی تھی کہ وہ کسی جاندار کو کسی پرندے یا چوپائے کو کوئی نقصان نہ پہنچائے ‘‘ ۔ یہ ایک تحمل پسند دھرم ہے نہ جانے پچھلے چند برسوں اور خاص طورپر گزشتہ چند ماہ سے مینمار کے باشندوں خاص طورپر فوج کو کیا ہوگیا کہ یہاں کے علاقہ راکھن میں برسوں سے آباد ان مسلمانوں کا قلع قمع کرنے پر اُتر آئے ہیں جو بنگلہ دیش اور کچھ آسام سے یہاں آکر آباد ہوگئے ۔ یہ مسلمان انتہائی خستہ حال ہیں، مینمار کے غریب طبقات میں شمار ہوتے ہیں ۔ نان شبینہ کے محتاج ہیں برسوں سے مقیم ہونے کے باوجود اُن کی آبادی نے کبھی مینمار کی سیاسی صورتحال میںکوئی اُتھل پتھل نہیں کی ہے ۔ آج کیوں بدھسٹ ان کی جان کے دشمن ہوگئے ہیں سمجھ میں نہیں آتا ۔ بظاہر کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ ان سے اتنی دشمنی کی جائے وہ تو بے ضرر لوگ ہیں لیکن نہ بنگلہ دیش ان کو واپس لینے کیلئے تیار ہے اور نہ وہ آسام میں بس سکتے ہیں ۔ بے یار و مددگار قدرت کا عطا کیا ہوا آسمان اﷲ کی بنائی ہوئی یہ وسیع و عریض دنیا میں یہاں سے نکالے گئے برمی مسلمانوں کیلئے کوئی جگہ نہیں رہی ۔ پھر ان پر کوئی رحم کیوں نہیں کیا جاتا ؟ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہوئے کئی حملوں کے بعد جو مینمار کے روہنگیا مسلمانوں پر کئے گئے ترس کھاکر مینمار حکومت سے ان مسلمانوں کی بازآبادکاری کی اپیل کی۔ آخر کس گناہ کی سزا انھیں دی جارہی ہے اور کیوں دنیا ان کے تعلق سے ’’اندھی ، بہری اور گونگی‘‘ بنی ہوئی ہے ۔ کیا دنیا کا ضمیر سوگیا ہے ؟ کیا ان مسلمانوں کو جینے کا حق نہیں رہا؟ بوڑھے ، جوان اور خواتین اور معصوم بچے پانی ، روٹی اور سر چھپانے کیلئے گڑاگڑا رہے ہیں ۔ دنیا کے مختلف ممالک اور حکومتیں جو انسانی حقوق کی خودساختہ ترجمان ہیں یہ سب دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتی ہیں ۔ کوئی درد رسانی نہیں ہورہی ہے ۔ مینمار کے روہنگیا مسلمان لاکھوں ہزاروں کی تعداد میں اپنے ٹوٹے پھوٹے گھر دار چھوڑکر بنگلہ دیش کارُخ کررہے ہیں ۔ مینمار کی خاتون لیڈر آنگ سان سوچی جو نوبل انعام یافتہ ہیں اپنی زبان کھولنے تیار نہیں ۔ انھیں شاید یہ ڈر ہیکہ اگر انھوں نے زبان کھولی تو مینمار کا فوجی ٹولہ پھر اقتدار پر قابض ہوجائے گا اور انھیںپھر قید و بند کی زندگی گذارنی پڑے گی ۔ حالانکہ آنگ سان سوچی بہ زعم خود انسانی حقوق اور آزادی کی حامی بنی بھرتی ہیں۔ گزشتہ مہینے اگسٹ کی 24 تاریخ کو 87 ہزار مسلمان یہاں سے نکالے گئے جو اب تک کی تعداد کا بہت کم حصہ ہیں۔ ایسے پس منظر میں وزیراعظم مودی نے مینمار کا دورہ کیا ۔ اس سے پہلے انھوں نے اسرائیل کا بھی دور کیا ۔ ان دونوں ممالک کو ساری دنیا مخالف مسلم تسلیم کرتی ہے اور یہ بھی اتفاق ہے کہ کم از کم اسرائیل کا دورہ آج تک کسی وزیراعظم نے نہیں کیا تھاکیونکہ پچھلی تمام حکومت عالم عرب سے اپنے تعلقات برقرار رکھنے کو ترجیح دیتی تھیں۔ یہ حکومتیں اس قسم کا کوئی تاثر نہیں دینا چاہتی تھیں کہ خدانخواستہ ہندوستان مخالف اسلام حکومتوں سے کوئی تعلق رکھنا چاہتا ہے لیکن مودی جی نے اپنے صرف 3 1/2 سالہ دورِ حکومت میں مینمار ( جہاں مسلمانوں کا قتل عام ہورہاہے ) اور اسرائیل جہاں عرب دنیا سے مخاصمت اور دشمنی کو جائز سمجھا جاتا ہے ،

 

مینمار اور اسرائیل دونوں سے دوستی بڑھائی ۔ ان (مودی جی ) سے توقع بھی کیاکی جاسکتی ہے جنھوں نے 2002 ء میں گجرات میں مسلمانوں کا خون گلی کوچوں میں دل کھول کر بہایا تھا ۔ تادمِ تحریر اس بات کا کوئی اندازہ نہیں ہوسکا کہ مینمار کی قیادت سے بات چیت میں وزیراعظم نے ان بے گھر کئے جانے والے مسلمانوں کے مسئلہ پر کوئی رائے پیش کی ہے یا نہیں کیونکہ یہی مینمار میں کے پناہ گزیں ہمارے ملک میں بھی آرہے ہیں ۔ یہ پناہ گزیں مسلمان ہیں اس لئے مینمار میں کسی اور سے وطن چھوڑنے کو نہیں کہا جارہا ہے ، نشانہ صرف مسلمان ہیں ۔ مودی حکومت کے مملکتی وزیر داخلہ کرن رجیجو نے تو صاف کہدیا ہے کہ ان تمام پناہ گزینوں کو واپس روانہ کردیا جائیگا تو کیا انسانی جانوں کی مودی حکومت میں کوئی قدر و قیمت نہیں ہے ۔ بنگلہ دیش کا تو خیر اولین فرض ہے کہ وہ ان خانہ برباد مسلمانوں کو پناہ دے لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے ۔ بنگلہ دیش کی سرحد پر پہاڑی علاقوں میں موسم کی سختیاں جھیلتے ہوئے یہ خانہ برباد مسلمان رہنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ان میں سے کتنے ہزار مسلمان ان سختیوں اور ان نامساعد حالات کی وجہہ سے ہلاک ہوجائیں گے ۔ دنیا کو بھلا کیا پڑی ہے کہ وہ ان مسلمانوں کی فکر کرے ۔ دنیا تو یہ سمجھ رہی ہے کہ یہ تمام کے تمام مسلمان ہیں ۔ مریں جئیں ہم کیوں فکر کریں ۔ ایک سوال غور طلب ہے کہ مینمار کی حکومت اور وہاں کی فوج کیوں ان لوگوں کی جان کی دشمن بنی ہوئی ہے، ان کا صرف یہی قصور ہیکہ وہ مسلمان ہیں۔ انھوں نے ان حالات میں بھی اسلام سے اپنی وابستگی برقرارر کھی ۔ ان کی بھوک ان کی بے گھری ان کی ان گنت اموات نے کبھی انھیں ارتداد پر مجبور نہیں کیا ۔ وہ آج ساری دنیا کی بے توجہی کے باوجود صرف اﷲ جل شانہ کی ذات واحد پر ایمان رکھتے ہیں جو ساری کائنات کا خالق ہے ۔ ان کا معبود یہی اﷲ کریم ہے جو اپنی تمام مخلوقات کو ہر حال میں بچاتا ہے ۔ شام کے بحران کے وقت بھی اس طرح لاکھوں پناہ گزیں جو شامی عرب تھے ترک وطن پر مجبور ہوگئے تھے یہ بھی ترک وطن پر مجبور ہونے والوں کی لاکھوں کی تعداد میں تھے لیکن انھیں کم از کم مغربی ممالک نے اپنے پاس آنے کی اجازت دی اور وہ کسی طرح آباد ہوگئے لیکن مینمار کے مسلمان پناہ گزیں افراد کے لئے کسی عرب ، کسی مسلم ملک یا انسانی حقوق کی پاسپانی کا دعویٰ کرنے والے کسی ملک نے جگہ فراہم نہیں کی۔ کیا یہ مسلمان صرف مرنے کیلئے پیدا ہوئے ہیں؟ کیا مسلم ممالک اور عالم عرب کی کوئی ذمہ داری نہیں کہ وہ ان روہنگیا مسلمانوں کے لئے کچھ کریں۔ کم از کم بین الاقوامی فورم میں آواز اُٹھائیں، ضمیر کی موت جب ہوتی ہے تو اس قسم کی بے حسی پیدا ہوتی ہے ۔ آج مسلم ممالک عالم عرب کی خاموشی اور صدائے احتجاج بلند کرنے سے ان سب کا گریز انسانی تاریخ کبھی فراموش نہیں کرے گی ۔ یہ مسلمان کو کسی طرح کہیں نہ کہیں آباد ہوجائیں گے (موجودہ نامساعد حالات کے باوجود اﷲ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے ) لیکن مستقبل کا مورخ ان حکمرانوں کو کبھی معاف نہیں کرے گا جو آج روہنگیا مسلمان کی تباہ حالی پر خاموش ہیں ؎
مرتے ہیں سب میرؔ مگر نہ اس بے کسی کے ساتھ
ماتم میں تیرے کوئی نہ رویا پکارکر

TOPPOPULARRECENT