Friday , November 17 2017
Home / Top Stories / روہنگیا مسلمانوں پر مظالم ،میانمار پر شیخ حسینہ کا الزام

روہنگیا مسلمانوں پر مظالم ،میانمار پر شیخ حسینہ کا الزام

ناراض روہنگیا مسلمانوں کو دور افتادہ جزیرہ منتقل کرنے بنگلہ دیش کا منصوبہ
ڈھاکہ۔ 12 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم بنگلہ دیش شیخ حسینہ نے آج بدھ اکثریت والے میانمار پر روہنگیا مسلمانوں پر مظالم ڈھانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بنگلہ دیش کسی بھی قسم کی ناانصافی کو برداشت نہیں کرے گا اور اس کا احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے میانمار سے خواہش کی کہ اپنے شہریوں کی امداد کے اقدامات کرے جو تشدد کے بعد فرار ہوکر بنگلہ دیش پہونچ چکے ہیں۔ ضلع کاکس بازار سرحدی قصبہ میں روہنگیا پناہ گزین کیمپ کا دورہ کرنے کے بعد شیخ حسینہ نے کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں، پڑوسی ممالک سے دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں، لیکن ہم کسی بھی قسم کے نامنصفانہ اقدام کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہمارا احتجاج اس کے خلاف مسلسل جاری رہے گا۔ انہوں نے پناہ گزینوں کو تیقن دیا کہ بنگلہ دیش انسانی بنیادوں پر ان کی امداد جاری رکھے گا جب تک وہ اپنے ملک واپس نہیں پہونچ جاتے، ہم ان کے ساتھ رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش 16 کروڑ آبادی کا ملک ہے اور ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ان کی بنیادی ضروریات کی تکمیل ہوجائے۔

انہیں ہم ہر قسم کی مدد بشمول غذا اور طبی امداد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ناانصافی کو برداشت نہیں کریں گے، وہ پڑوسی ملک میں نسلی تشدد کا حوالہ دے رہی تھیں جس وجہ سے 3 لاکھ 13 ہزار افراد بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے تخمینہ کے بموجب میانمار کی فوج کی کارروائی کے نتیجہ میں ریاست راکھین میں ایک ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ شیخ حسینہ کا تبصرہ پارلیمنٹ میں کل رات ایک قرارداد کی منظوری کے بعد منظر عام پر آیا ہے جس میں میانمار کے مظالم کی مذمت کی گئی ہے، اور بین الاقوامی برادری سے میانمار پر مظالم بند کرنے اور پناہ گزینوں کو واپس قبول کرنے کیلئے دباؤ میں اضافہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ دریں اثناء ہزاروں روہنگیا مسلمان پناہ گزین جو میانمار میں تشدد سے فرار ہوکر پڑوسی ملک بنگلہ دیش پہونچے ہیں، بنگلہ دیش میں اپنے ایک دور افتادہ ویران جزیرہ پر منتقل کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جہاں ہر سال سیلاب اور طوفان آیا کرتے ہیں۔

’’روہنگیا مسلمانوں کی منتقلی اورتشدد پر میانمار قابو پائے ‘‘
روہنگیا مسلمانوں پر بدھ مت کے پیروں کے مظالم پر امریکہ کا ردعمل
واشنگٹن۔12 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے کہا ہے کہ میانمار سے روہنگیا مسلمانوں کے پر تشدد نقل مکانی سے پتہ چلتا ہے کہ ملک کی سیکورٹی فورسیس شہریوں کی حفاظت نہیں کررہے ہیں اور میانمار کی حکومت کو اس پر روک لگانا چاہئے ۔ایک بیان جاری کرکے کہا کہ”ہم میانمار کی حقاظتی افسران سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ قانون کی حکمرانی کا احترام کریں ، تشدد پر روک لگائیں اور تمام طبقے کی نقل مکانی کو روکیں”۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری تشدد کے بعد تین لاکھ سے بھی زائد مسلمان نقل مکانی کرچکے ہیں ۔ تاہم میانمار کی فوج کا یہ کہنا ہے کہ یہ کارروائی صرف روہنگیا انتہا پسندوں کے خلاف ہے ۔ انہوں نے عام لوگوں کو نشانہ بنائے جانے کے الزام سے انکار کر دیا ہے ۔ 25 اگست کو راکھائن صوبہ کے شمالی حصے میں روہنگیا انتہا پسندوں نے پولیس چوکیوں کو نشانہ بنایا، جس میں 12 سیکورٹی اہلکاروں کو ہلاک ہوگئے تھے ۔ اس واقعہ کے بعد سے ، تشدد وہاں پھیل گیا ہے اور روہنگیا مسلمانوں کو ملک چھوڑکر بھاگنا پڑا۔

 

Top Stories

TOPPOPULARRECENT