Thursday , December 14 2017
Home / دنیا / روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے خلاف پہلے یوروپی ملک میں احتجاجی جلسہ عام

روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے خلاف پہلے یوروپی ملک میں احتجاجی جلسہ عام

پُرہجوم جلسہ میں مظالم مخالف نعرے ‘ مسلم ممالک کی خاموشی پر اظہار افسوس ‘ سوچی کانوبل انعام منسوخ کرنے کا مطالبہ

آکلینڈ۔17 ستمبر ( سید مجیب کی رپورٹ ) اے او ٹی ای اے اسکوائر کوئنس لینڈ میں روہنگیا ویلفیر آرگنائزیشن کے زیراہتمام ایک پُرہجوم احتجاجی جلسہ عام میں میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم کی مذمت میں نعرہ بازی کی گئی ۔ اس جلسہ عام کو مختلف ممالک کے متوطن افراد کی جو اس وقت نیوزی لینڈ کے شہری ہیں ‘ بھرپور تائید حاصل رہی ۔ جلسہ عام میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی ۔ احتجاجیوں کے ہاتھ میں پلے کارڈس پر مخالف مظالم اور مخالف نسل کشی نعرے تحریر تھے ۔ احتجاجیوں نے میانمار کی درپردہ قائد آنگ سان سوچی کے نوبل امن انعام کو واپس لے لینے کا مطالبہ کیا ۔ عالمی برادری کی جانب سے اپنی خاموشی ترک کر کے میانمار کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا بھر میں 57 اسلامی ممالک ہیں لیکن یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ روہنگیا مسلمانوں ‘ عمر رسیدہ افراد ‘ خواتین اور بچوں کے قتل عام ‘ نوجوانوں عورتوں کی اجتماعی عصمت ریزی اور ایسے ہی دیگر انسانیت سوز ممالک پر ان تمام ممالک نے خاموشی اختیار کررکھی ہے ۔ مختلف رنگ و نسل اور مختلف ممالک کے متوطن نیوزی لینڈ کے شہریوں نے اس جلسہ عام میں شرکت کی ۔ 15 ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد اس احتجاجی جلسہ عام میں شرکت کرنے والوں میں شامل تھے جن کی قیادت روہنگیا مسلمان عنایت اللہ اور عرفان قریشی کررہے تھے ۔ جلسہ عام دو گھنٹے تک یعنی 3بجے شام سے 5بجے شام تک جاری رہا ۔ اردو ‘ ہندی کلچرل اسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری سید مجیب نے اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری ‘ حکومت نیوزی لینڈ اور اخباری نمائندوں کو اپنے مکتوب کی نقول حوالے کیں ۔ جن میں روہنگیا مسلمانوں پر میانمار میں ناگفتہ بہ مظالم ڈھانے کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا اور فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے میانمار کی قائد آنگ سان سوچی کے نوبل انعام کو واپس لے لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ احتجاجی جلسہ عام میں عوام کی کثیر تعداد کی شرکت روہنگیا مسلمانوں پر میانمار میں ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کے خلاف عالم گیر برہمی کا اظہار ہورہا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT