Sunday , May 27 2018
Home / Top Stories / ’’روہنگیا مسلمانوں کو رائے دہی کا حق مل جائے تو ’بادشاہ گر‘ ہوجائیں گے‘‘

’’روہنگیا مسلمانوں کو رائے دہی کا حق مل جائے تو ’بادشاہ گر‘ ہوجائیں گے‘‘

 

٭ وزیراعظم کینیڈا جسٹن ٹروڈو اور اقوام متحدہ
روہنگیاؤں کے میانمار واپسی کے خواہاں
٭ اندرون تین ہفتہ میانمار واپسی کے
عمل کا آغاز کرنے سوچی کا تیقن
منیلا۔ 14 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم کینیڈا جسٹن ٹروڈو نے جنوب مشرقی ایشیائی سربراہان مملکت بشمول میانمار کی قائد آنگ سان سوچی کو یہ بتایا ہے کہ انہوں نے (ٹروڈو) اپنے خصوصی قاصد کو یہ اہم ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ ان سفارتی ذرائع کو تلاش کریں جن کے تحت کینیڈا روہنگیا بحران کی یکسوئی میں اپنا اہم رول ادا کرسکے۔ جسٹن ٹروڈو کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جو ہر مذہب کا احترام کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ گھل مل جانا، ہندوؤں کے ساتھ ان کا تہوار منانا، سکھوں کے ساتھ بھانگڑہ ناچنا۔ بہرحال صورتحال جیسی بھی ہو، موصوف اس میں رچ بس جاتے تھے۔ روہنگیا بحران کے تعلق سے بھی موصوف بے حد سنجیدہ ہیں اور ہمیشہ سے یہی کہتے آرہے ہیں کہ اس بحران کا منصفانہ حل نکالا جائے۔ انہوں نے اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کی قیادت میں مشاورتی اجلاس کے ذریعہ پیش کی گئی سفارشات کی اہمیت کی جانب توجہ دلائی جو اس بات کا متقاضی ہے کہ روہنگیا بحران کا ایک پرامن حل نکالا جائے۔

یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہے کہ میانمار میں بدھ مت کے پیروکاروں نے روہنگیا اقلیتوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑتے ہوئے ان کا قتل عام بھی کیا ہے جس سے خوف زدہ ہوکر تقریباً 6 لاکھ روہنگیا بنگلہ دیش فرار ہوچکے ہیں۔ علاوہ ازیں میانمار کی فوج نے بھی روہنگیاؤں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے میانمار سے فرار ہونے پر مجبور کردیا تھا۔ یاد رہے کہ روہنگیا مسلمان یوں تو میانمار میں عرصہ دراز سے سکونت پذیر ہیں تاہم ملک کی بدھسٹ اکثریت انہیں آج بھی ’’بنگالی‘‘ کہتی ہے جو بنگلہ دیش سے فرار ہوکر یہاں آئے ہیں۔

دوسری طرف اقوام متحدہ نے بھی روہنگیاؤں کو دنیا کی مظلوم ترین قوم سے تعبیر کیا۔ ٹروڈو نے آسیان۔ کینیڈا سمیٹ کے دوران یہ بات واضح کردی کہ ان کا ملک انسانی بنیادوں اور سیاسی طور پر اپنی ان کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے میانمار اور بنگلہ دیش کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرنا چاہتے ہیں تاکہ بے گھر ہوئے افراد میانمار واپس آنے کی راہ ہموار کی جاسکے۔ دریں اثناء ایک فلیپائنی عہدیدار نے کہا کہ میانمار کی قائد آنگ سان سوچی بھی اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کی قیادت والے کمیشن کی سفارشات پر عمل آوری کیلئے تیار ہیں اور راکھین اسٹیٹ میں اس وقت جو صورتحال ہے، اس میں بہتری پیدا ہوئی ہے کیونکہ یہیں سے لاکھوں روہنگیا مسلمان خوف کے عالم میں بنگلہ دیش فرار ہوگئے تھے، تاہم روہنگیاؤں کی قلیل تعداد اب بھی یہاں موجود ہے۔ کوفی عنان کے علاوہ اقوام متحدہ کے موجودہ سیکریٹری جنرل انٹونیٹو گوٹیرس نے بھی روہنگیاوں کو دوبارہ میانمار میں بسانے کی وکالت کی ہے۔ فلپائنی صدر کے ترجمان ہیری روک نے بھی اس بات کی توثیق کی کہ آنگ سان سوچی نے پیر کے دن ہی یہ وضاحت کردی ہے کہ میانمار سے بے گھر ہوئے افراد کی بازآبادکاری کا عمل اندرون تین ہفتہ شروع کردیا جائے گا کیونکہ اس سے قبل میانمار اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک یادداشت مفاہمت پر 24 اکتوبر کو دستخط ہوچکے ہیں۔ ہیری روک نے مزید کہا کہ سوچی نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ منیلا میں آسیان ممالک کی جو چوٹی کانفرنس چل رہی ہے، اس میں کم سے کم دو آسیان قائدین نے روہنگیا بحران کو کانفرنس کے دوران اٹھانے کی اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کیا جو یقینا قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیرت اس بات پر ہے کہ سوچی روہنگیاؤں کو کبھی روہنگیا نہیں کہتیں حالانکہ وہ کئی دہوں سے میانمار میں آباد ہیں جبکہ ملک کی بدھسٹ اکثریت، روہنگیاؤں کو آج بھی گھس پیٹئے (دراَنداز) کہتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہیں تمام بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ نہ انہیں تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے اور نہ ہی ووٹ دینے کا حالانکہ حکومت کو سمجھنا چاہئے کہ لاکھوں کی تعداد میں روہنگیا مسلمان کسی بھی سیاسی پارٹی کے لئے بہترین ووٹ بینکس ثابت ہوسکتے ہیں اور اگر رائے دہی کا بنیادی حق انہیں مل جائے تو ان کی حیثیت بادشاہ گروں جیسی ہوجائے گی۔ شاید اس لئے اقوام متحدہ نے روہنگیاؤں کو اس وقت دنیا کی مظلوم ترین قوم قرار دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT