Saturday , September 22 2018
Home / دنیا / روہنگیا مسلمانوں کو شہریت حساس مسئلہ

روہنگیا مسلمانوں کو شہریت حساس مسئلہ

واشنگٹن ۔ 17 جون (سیاست ڈاٹ کام) میانمار کے ظلم و بربریت کا شکار روہنگیا مسلمانوں کے بارے میں شاذونادر تبصرہ کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر آنگ سان سوچی نے اقلیتوں کو شہریت منظور کرنے کے معاملہ میں احتیاط برتنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حساس مسئلہ سے انتہائی احتیاط کے ساتھ نمٹا جانا چاہئے۔ انہوں نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ حکومت میانمار ش

واشنگٹن ۔ 17 جون (سیاست ڈاٹ کام) میانمار کے ظلم و بربریت کا شکار روہنگیا مسلمانوں کے بارے میں شاذونادر تبصرہ کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر آنگ سان سوچی نے اقلیتوں کو شہریت منظور کرنے کے معاملہ میں احتیاط برتنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حساس مسئلہ سے انتہائی احتیاط کے ساتھ نمٹا جانا چاہئے۔ انہوں نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ حکومت میانمار شہریت کے موقف کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہے۔ اسے جلدی اور شفافیت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ اس کے بعد ہی حکومت یہ فیصلہ کرے کہ آئندہ مرحلہ کیا ہوگا۔ آنگ سان سوچی کا کل رات دیر گئے انٹرویو شائع ہوا جس میں انہوں نے راست یہ سوال کیا کہ کیا روہنگیا کے مسلمانوں کو شہریت دی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے انتہائی محتاط انداز میں نمٹنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے اور کئی نسلی و مذہبی گروپس پائے جاتے ہیں۔ اگر ایک گروپ کے معاملہ میں کوئی فیصلہ کیا جائے تو اس کا دیگر گروپس پر بھی اثر ہوگا۔ یہ ایک انتہائی پیچیدہ صورتحال ہے جسے آسانی سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار 2012ء کے بعد سے مزید ابتر ہوچکی ہے اور اس وقت یہ ساری دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم اقلیت ہے۔ 2012ء میں فرقہ وارانہ خونریزی میں لاکھوں افراد ہلاک ہونے اور 1,40,000 افراد انتہائی کسمپرسی کی حالت میں خیموں میں زندگی گذار رہے تھے۔ حال ہی میں کئی افراد کی چھوٹی کشتیوں کے ذریعہ اپنی جان جوکھم میں ڈال کر ملک سے فرار ہونے کی کوشش اور اس دوران پیش آئے حادثات و واقعات پر بین الاقوامی ردعمل ظاہر کیا گیا تھا۔ روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار، فاقہ کشی اور ساحل سمندر پر کشتیوں میں ہجوم کی تصاویر منظرعام پر آئی جس کے بعد انسانی بنیادوں پر کارروائی کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا۔

TOPPOPULARRECENT