Thursday , November 23 2017
Home / دنیا / روہنگیا مسلمانوں کو مائنمار کی شہریت دینے کا مطالبہ

روہنگیا مسلمانوں کو مائنمار کی شہریت دینے کا مطالبہ

رکھائین میں تعصب کی طویل تاریخ سے ہر کوئی باخبر، سکریٹری جنرل اقوام متحدہ کا بیان
اقوام متحدہ ۔ 6 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے سربراہ انٹونیو گوئتریس نے آج انتہائی سخت لحب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے حکومت مائنمار سے کہاکہ ریاست رکھائین کے روہنگیا مسلمانوں کو اس ملک کی شہرت دی جائے یا پھر قانونی موقف دیا جائے۔ سکریٹری جنرل نے رکھائین میں فوجی کارروائی اور تشدد کے نتیجہ میں ایک لاکھ 25 ہزار روہنگیا مسلمانوں کے بنگلہ دیش فرار ہونے کے واقعہ پر بھی گہری تشویش کااظہار کیا ہے۔ سکریٹری جنرل گوئتریس نے کہا کہ مائنمار کی ریاست رکھائین میں پیدا شدہ سلامتی، انسانی بحران اور انسانی حقوق کی صورتحال پر انہیں گہری تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ مائنمار میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ تعصب و امتیازی سلوک اور اس سے پیدا شدہ ناامیدی اور غریبی کی طویل تاریخ سے ہر کوئی اچھی طرح واقف ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ ’’میں ارکان روہنگیا نجات دہندہ آرمی کے حالیہ حملوں کی مذمت بھی کرچکا ہوں لیکن ہمیں مائنمار کی سیکوریٹی فورسیس کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں پر مسلسل بلااشتعال حملوں کی اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں‘‘۔ انہوں نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس قسم کے حملوں سے انتہاء پسندی میں اضافہ ہوسکتا ہے‘‘۔

گوئتریس نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں پر مائنمار حکومت کی کارروائیوں پر اپنی تشویش کے بارے میں وہ سلامتی کونسل کو باضابطہ مکتوب تحریر کررہے ہیں جس میں اس تشدد کے خاتمہ کیلئے تجاویز بھی پیش کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست رکھائین کے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم، ان کے مسائل اور شکایات حد سے بڑھ چکے ہیں جو علاقائی عدم استحکام میں ناقابل تردید عنصر بن گئے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ایک جامع حل تلاش کرتے ہوئے صورتحال کو مزید بدتر ہونے سے بچائے۔ سکریٹری جنرل گوئتریس نے حکومت مائنمار پر زور دیا کہ وہ بے سہارا ضرورتمندوں کو درکار امداد اور محفوظ مقام فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ انتہائی اہم اور ضروری ہیکہ ریاست رکھائین کے مسلمانوں کو قومیت ؍ شہریت دی جائے یا کم سے کم فی الحال ایک ایسا قانونی موقف فراہم کیا جائے جس کے ذریعہ ان بے بس مسلمانوں کو نقل و حرکت کی آزادی، محنت و مزدوری کے مواقع، تعلیم، صحت اور دیگر خدمات تک رسائی کے ساتھ معمول کے مطابق زندگی گذارنے کے مواقع فراہم کئے جائیں‘‘۔

 

روہنگیا مسلمانوں پر حملوں کی مذمت
50 ملین ڈالر امداد کا اعلان ، سعودی عرب کا بیان
ریاض۔ 6 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے انسانی حقوق کی حالیہ خلاف ورزیوں کا انسداد کرے۔ سعودی عرب نے معتمد عمومی سے اس پر اظہار تشویش کیا جس کے نتیجہ میں اقوام متحدہ کی جانب سے ہی روہنگیا مسلمانوں پر تشدد کی مذمت کی گئی۔ سعودی عرب نے میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کیلئے 50 ملین ڈالر امداد کا بھی اعلان کیا۔

TOPPOPULARRECENT