Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / روہنگیا مسلمانوں کو ملک بدر نہ کیا جائے : سپریم کورٹ

روہنگیا مسلمانوں کو ملک بدر نہ کیا جائے : سپریم کورٹ

انسانی حقوق اور قومی مفاد کے مابین توازن پیدا کرنے حکومت کو ہدایت
نئی دہلی ۔ 13 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے روہنگیا پناہ گزینوں کا مسئلہ غیرمعمولی نوعیت کا حامل ہے اور اس حساس مسئلہ سے نمٹتے وقت ملک اور حکومت کو قومی مفادات اور انسانی حقوق کے مابین توازن یپدا کرنے اور برقرار رکھنے کیلئے کلیدی رول ادا کرنا ہوگا۔ روہنگیا مسلمانوں کو مائنمار واپس بھیجنے حکومت کے فیصلہ پر عدالت عظمیٰ نے 21 نومبر سے تفصیلی اور جامع سماعت شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے اس تاثر کا اظہار کیا کہ قومی مفادات اور انسانی حقوق کے مابین ایک توازن پیدا کرنا چاہئے کیونکہ یہ مسئلہ قومی سلامتی اقتصادی مفادات اور انسانیت سے تعلق رکھتا ہے۔ چیف جسٹس دیپک مصرا کی قیادت میں ایک بنچ نے مرکز سے تجویز کیا کہ روہنگیا پناہ گزینوں کو ملک بدر نہ کیا جائے لیکن ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل (اے ایس بی) تشار مہتا نے درخواست کی کہ حکم میں یہ تحریر نہ کیا جائے کیونکہ ریکارڈ پر آنے والی کسی بھی چیز کے بین الاقوامی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس بنچ نے جس میں جسٹس اے ایم کھانویلکر اور جسٹس ڈی وائی چندراچوڑ بھی شامل ہیں، کہا کہ ’’یہ ایک وسیع تر مسئلہ ہے۔ تیہ ایک بھاری نوعیت کا معاملہ ہے۔ چنانچہ اس میں مملکت کا بڑا رول ہوتا ہے۔ ایسی کسی صورتحال میں ملک ؍ حکومت کا رول ہمہ رخی ہونا چاہئے‘‘۔ ملک کی اس اعلیٰ ترین عدالت نے تاہم یہ بھی واضح کردیا کہ درمیانی مدت کے دوران اگر کبھی بھی کوئی ہنگامی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو وہ درخواست گذاروں کو ازالہ و یکسوئی کیلئے رجوع ہونے کی اجازت و آزادی حاصل رہے گی‘‘۔ سینئر ایڈوکیٹ فالی ایس ناریمن نے روہنگیا پناہ گزینوں کی طرف سے رجوع ہوتے ہوئے کہا کہ تمام روہنگیا خواہ ہندو ہوں کہ مسلمان وہ دہشت گرد تو نہیں ہیں حکومت اس طرح سب پر یکساں طور پر لاگو ہونے والا حکم جاری نہیں کرسکتی۔ بنچ نے کہا کہ اس بات پر ذرہ برابر بھی شبہ نہیں کہ یہ انسانی مسئلہ سے تعلق رکھتا ہے لیکن اس کے ساتھ قومی مفادات کو بھی ذہن میں رکھا جانا چاہئے۔ چیف جسٹس دیپک مصرا کی قیادت میں اس بنچ نے حکومت سے واضح طور پر کہا کہ ’’خواتین اور بچے اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ بحیثیت ایک دستوری عدالت ہم اس سے روگردانی نہیں کرسکتے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ عاملہ (حکومت) بھی اس سے پہلوتہی نہیں کرے گی‘‘۔ عدالت نے حکومت سے کہا کہ ’’(روہنگیاؤں کو) ملک بدر نہ کیا جائے۔ اگر کوئی غلطی پائی جاتی ہے تو آپ اس پر کارروائی کریں‘‘۔واضح رہے کہ حکومت نے عدالت میں کہا تھا کہ روہنگیا باشندوں کو واپس بھیجا جانا چاہئے اور یہ ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔

TOPPOPULARRECENT