Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / روہنگیا مسلمانوں کو ’’کیمپس‘‘ کو بھیجنے کی بجائے ’’گھروں ‘‘کو بھیجا جائے

روہنگیا مسلمانوں کو ’’کیمپس‘‘ کو بھیجنے کی بجائے ’’گھروں ‘‘کو بھیجا جائے

٭ حکومت ، میانمار راکھین کی ترقی اور روہنگیاؤں کے تحفظ کو یقینی بنائے
٭ ویٹو کے حامل ممالک کی وجہ سے میانمار کے حالات بگڑے
٭ سلامتی کونسل کے خانگی اجلاس سے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کا خطاب
اقوام متحدہ۔ 14 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے میانمار سے اپیل کی کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران جن لوگوں روہنگیا مسلمانوں نے میانمار سے راہ فرار اختیار کی ہے۔ انہیں دوبارہ ان کے گھر آنے کی راہیں ہموار کی جائیں تاہم میانمار حکومت انہیں گھر کی بجائے پناہ گزین کیمپوں کو روانہ کررہی ہے۔ کوفی عنان جنہوں نے حالیہ دنوں میں میانمار میں روہنگیا بحران پیدا ہونے کے بعد ایک کمیشن کی قیادت کرتے ہوئے دورہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اب حکومت میانمار کی ذمہ داری ہے کہ وہ میانمار میں ایک ایسا سازگار ماحول پیدا کرے جہاں راکھین اسٹیٹ کو چھوڑنے والے تمام روہنگیا نہ صرف اپنے مکانات کو لوٹ سکیں بلکہ ان میں احساس تحفظ پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔

اس موضوع پر انہوں نے کونسل کے ایک خانگی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ راکھین اسٹیٹ کی تعمیر نو کی ضرورت ہے اور روہنگیاؤں کو نہ صرف ان کے گھر آنے کی اجازت ملنی چاہئے بلکہ انہیں یہ طمانیت بھی دی جانی چاہئے کہ ان کے جان و مال کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے، لیکن ہو یہ رہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو مختلف پناہ گزین کیمپوں میں ٹھونسا جارہا ہے جہاں حفظان صحت کا فقدان ہے اور کسی بھی مہلک بیماری کی وباء پھوٹ پڑنے کا بھی اندیشہ ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ اقوام متحدہ میں موجود میانمار کے مشن نے کل کے اس سیشن پر اپنے کسی بھی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ دوسری طرف ملک کی قائد آنگ سانگ سوچی نے کہا تھا کہ انہوں نے تمام قومی اور بین الاقوامی تعاون کے لئے ایک کمیٹی قائم کی ہے جو اس بات کی نگرانی کرے گی کہ راکھین اسٹیٹ میں ترقیاتی کام کئے جائیں۔ واضح رہے کہ تقریباً ایک ملین روہنگیا اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک کی اقلیتوں میں شامل ہیں جبکہ اکثریتی بدھ فرقہ انہیں غیرقانونی طور پر نقل وطن کرنے والوں سے تعبیر کرتے ہوئے انہیں بنگلہ دیش کا شہری کہتا ہے۔ 1982ء میں ان سے شہری حقوق بھی چھین لئے گئے تھے۔ 25 اگست کو سکیورٹی فورسیس نے روہنگیا دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس گیا اور زائد از پانچ لاکھ روہنگیاؤں کو عاجلانہ طور پر اپنی جان بچاتے ہوئے بنگلہ دیش فرار ہونا پرا تھا اور آج بنگلہ دیش کا کاکس بازار ایک ایسا منظر پیش کررہا ہے جسے دیکھ کر کسی کا بھی دل دہل جائے گا۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہاںکوئی نیا شہر آباد ہوگیا ہے اور بنگلہ دیش حکومت کو بھی سخت پریشانیوں کا سامنا ہے۔ سکیورٹی فورسیس کا استدلال ہے کہ روہنگیا دہشت گردوں نے ان کی چوکیوں پر حملے کئے تھے جس کے بعد ان کے خلاف کارروائی ناگزیر ہوگئی تھی جس کے دوران کئی مکانات نذرآتش کردیئے گئے اور روہنگیاؤں کے مطابق ان کی عورتوں کے ساتھ زنا بالجبر بھی کیا گیا۔ اقوام متحدہ نے روہنگیاؤں کے خلاف کارروائی توکو ’’نسل کشی‘‘ سے تعبیر کیا تھا لیکن حکومت میانمار نے اس کی تردید کرتے ہوئے اس بحران کیلئے دہشت گردی کو موردالزام ٹھہرایا۔ یہاں اس بات کا تدکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ 25 اگست کو شروع کی گئی کارروائی سے صرف ایک روز قبل کوفی عنان کی قیادت میں دورہ کرنے والے کمیشن نے اپنی رپورٹ پیش کی تھی جس میں تشدد سے نمنے کیلئے معاشی ترقی اور سماجی انصاف کی تجویز رکھی گئی تھی۔ یہ بات بھی نہیں ہے کہ اقوام متحدہ ابھی ابھی نیند سے جاگا ہے بلکہ سلامتی کونسل نے بارہا میانمار بحران پر تبادلہ خیال کیا لیکن جو ملک ویٹو کے حامل ہیں ان کی وجہ سے نظریاتی اختلافات پیدا ہوگئے جہاں سب کی رائے منقسم ہوگئی۔ گزشتہ ماہ جو اہم اجلاس منعقد ہوا تھا اس میں برطانیہ، فرانس اور امریکہ نے نسل کشی کے سلسلے کو فوری روکنے کی ضرورت پر زور دیا تھا جبکہ چینی سفیر نے صبر و تحمل کی بات کہی تھی۔ روس کے سفیر نے انتباہ دیا تھا کہ اگر اس معاملے پر مزید دباؤ ڈالا گیا تو حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT