Saturday , September 22 2018
Home / ہندوستان / روہنگیا مسلمانوں کی جھونپڑیوں کو آگ لگانے کی ناکام کوشش

روہنگیا مسلمانوں کی جھونپڑیوں کو آگ لگانے کی ناکام کوشش

دہشت گرد حملوں کا روہنگیا مسلم پناہ گزینوں پر الزام کا نتیجہ
جموں، 11 فروری (سیاست ڈاٹ کام) جموں وکشمیر کی سرمائی دارالحکومت جموں کے مضافاتی علاقہ گاندھی نگر کے چھنی راما علاقہ میں گذشتہ رات کچھ شرارتی عناصر نے روہنگیا پناہ گزینوں کی جھگی جھونپڑیوں کو مبینہ طور پر آگ کے شعلوں کی نذر کرنے کی ناکام کوشش کی ہے ۔ ان شرارتی عناصر نے جھونپڑیوں کی طرف کچھ پوسٹر بھی پھینکے ہیں جن پر لکھا ہے کہ روہنگیا پناہ گزینوں کو واپس بھیجا جائے ۔ یہ شرارتی واقعہ گاندھی نگر میں واقع سنجوان ملٹری اسٹیشن ( 36 بریگیڈ فوجی کیمپ) پر فدائین حملہ اور اسمبلی و اسمبلی کے باہر بھارتیہ جتنا پارٹی (بی جے پی) کے اراکین کی روہنگیا مسلمانوں سے متعلق متنازعہ بیان بازی کے پس منظر میں پیش آیا ہے ۔ ایک سٹیزن جرنلسٹ نے اپنی ایک ویڈیو میں کہا کہ کچھ شرارتی عناصر چھنی راما میں واقع روہنگیا بستی میں آئے اور روہنگیا پناہ گزینوں کی جھگی جھونپڑیوں کو آگ کے شعلوں کی نذر کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا ‘جموں میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کے خلاف پہلے سے ہی سازشیں چل رہی تھیں۔ لیکن جب سنجوان کیمپ پر حملہ ہوا تو بغیر کسی تحقیقات کے روہنگیا پناہ گزینوں کو قصوروار ٹھہرایا گیا۔ یہ سراسر غلط ہے ۔ کیا جموں وکشمیر میں ہونے والے تمام حملے روہنگیا پناہ گزین کررہے ہیں؟’۔ ویڈیو میں ایک بزرگ روہنگیائی رفوجی کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے ‘موٹر سائیکل پر تین افراد یہاں آئے ۔ ان میں سے ایک باہر کھڑا رہا جبکہ دو اندر گھس آئے ۔ انہوں نے اپنے چہرے چھپا رکھے تھے ۔ ایک بندے نے تیل چھڑک دیا جبکہ دوسرے نے ماچس کی تیلی جلاکر اس پر پھینک دی۔ اس کے بعد تینوں موقع سے فوراً فرار ہوگئے ۔ چہرے بند ہونے کی وجہ سے ہم انہیں پہنچان نہیں پائے ‘۔ ویڈیو میں ایک نوجوان روہنگیائی رفوجی کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے ‘بستی کو آگ لگانے کی غرض سے آنے والے افراد کچھ پوسٹر چھوڑ کر چلے گئے ‘۔ ان پوسٹر پر لکھا ہے کہ روہنگیائی پناہ گزینوں کو واپس بھیج دیا جائے ۔ ویڈیو میں ایک خاتون کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے ‘ہم برما میں پریشان کن صورتحال کی وجہ سے یہاں آئے ہیں’۔ واضح رہے کہ سنجوان میں ملٹری اسٹیشن پر فدائین حملے کے تناظر میں ریاستی اسمبلی کے اسپیکر کویندر گپتا جوکہ گاندھی نگر سے بی جے پی کے ممبر اسمبلی بھی ہیں، نے ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ علاقہ میں روہنگیا مسلمانوں کی موجودگی کی وجہ سے پیش آیا ۔ ان کا کہنا تھا ‘علاقہ میں روہنگیا پناہ گزینوں کی موجودگی ایک سیکورٹی خطرہ بن گیا ہے ۔ حملے میں ان پناہ گزینوں کا بھی ہاتھ ہوسکتا ہے ‘۔ انہیں اس بیان پر اپوزیشن نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے اراکین کی شدید برہمی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسمبلی میں اپنے متنازع بیان سے قبل اسپیکر گپتا نے ملٹری اسٹیشن کے باہر نامہ نگاروں کو بتایا کہ روہنگیا مسلمان پہلے سے ہی شک کے دائرے میں تھے ۔

TOPPOPULARRECENT