Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / روہنگیا مسلمانوں کی مشروط واپسی کا میانمار کو امریکہ کا مشورہ

روہنگیا مسلمانوں کی مشروط واپسی کا میانمار کو امریکہ کا مشورہ

موجودہ بحران سے شرپسند عناصر فائدہ اٹھا سکتے ہیں

واشنگٹن ۔ 23 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے آج ایک اہم لیکن عجیب و غریب بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ میانمار سے اس بات کا خواہاں ہیکہ روہنگیا مسلمانوں کی واپسی مشروط طور پر ہونی چاہئے کیونکہ امریکہ کا یہ خیال ہیکہ اس ’’انسانی بحران‘‘ کو بعض شرپسند عناصر مذہبی اساس پر منافرت پھیلانے کیلئے استعمال کرسکتے ہیں جو بعدازاں تشدد کا نیا روپ اختیار کرسکتا ہے۔ یاد رہیکہ بنگلہ دیش میں اس وقت 6,00,000 اقلیتی روہنگیا مسلمان بطور پناہ گزین موجود ہیں جس نے خود بنگلہ دیش کیلئے مسائل پیدا کردیئے ہیں۔ گذشتہ 25 اگست سے ان کیخلاف میانمار میں فوجی کارروائیاں شروع کی گئی تھیں جس سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش آچکے ہیں۔ میانمار روہنگیا مسلمانوں کو اپنا شہری تسلیم نہیں کرتا اور ہمیشہ یہی اصرار کرتا آیا ہیکہ روہنگیا مسلمان دراصل بنگلہ دیشی شہری ہیں جو غیرقانونی طور پر میانمار میں مقیم ہیں لہٰذا اب موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہیکہ روہنگیا مسلمانوں کی میانمار واپسی کو مشروط بنایا جائے۔ سینئر عہدیدار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ اس صورتحال کو شرپسند عناصر اپنے فائدے کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف بین الاقوامی برادری پر بھی یہ فرض ہیکہ وہ روہنگیا مسلمانوں کی صحت کے علاوہ انکی تعلیم کی جانب بھی توجہ دیں۔ دریں اثناء امریکی حکومت نے بھی 40 ملین امریکی ڈالرس کی امداد کا اعلان کیا ہے جو زندگی بچانے والی اشیاء کی خریداری کیلئے راکھین اسٹیٹ کو راست طور پر دی جائیگی۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بیان کے مطابق اس طرح اب 2017ء کے دوران (ماہ اکٹوبر کے وسط تک) میانمار میں بے گھر افراد کیلئے مجموعی طور پر 104 ملین ڈالرس دیئے جاچکے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT