Monday , July 16 2018
Home / Top Stories / روہنگیا مسلمانوں کی واپسی کیلئے بنگلہ دیش۔ مائنمار سمجھوتہ

روہنگیا مسلمانوں کی واپسی کیلئے بنگلہ دیش۔ مائنمار سمجھوتہ

متبادل انتظامات تک رکھائین واپسی کے بعد بھی عارضی کیمپوں میں قیام کی ضروت

ڈھاکہ ۔ /25 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش ۔ مائنمار سمجھوتہ کے تحت مائنمار واپس ہونے والے روہنگیا مسلم پناہ گزینوں کو وہاں ابتداء میں عارضی ٹھکانوں یا کیمپوں میں رہنا ہوگا ۔ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے ایچ محمود علی نے ڈھاکہ میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ابتداء میں انہیں (روہنگیا پناہ گزینوں کو ) محدود وقت کیلئے عارضی کیمپوں میں رکھا جائے گا ۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اگست سے تاحال 6,20,000 روہنگیا مسلمان فوجی کارروائیوں سے بچنے کیلئے مائنمار سے فرار ہوتے ہوئے بنگلہ دیش میں پناہ لئے ہیں ۔ جہاں دنیا کے سب سے بڑے پناہ گزیں کیمپ میں زندگی گزاررہے ہیں ۔ اقوام متحدہ اور امریکہ نے مائنمار فوج کی ان کارروائیوں کو واضح طور پر نسل کشی قرار دیا ہے ۔ روہنگیا پناہ گزینوں کی بنگلہ دیش سے بعجلت ممکنہ مائنمار واپسی کیلئے دونوں ملکوں کے مابین جمعرات کو سمجھوتہ طئے پایا گیا ۔ جس کی نقل ڈھاکہ نے آج یہاں جاری کی جس کے مطابق رضاکارانہ طور پر مائنمار چھوڑکر بنگلہ دیش پہونچنے والے روہنگیا مسلمانوں کی واپسی کی حوصلہ افزائی کے لئے شمالی رکھائین ریاست میں حالات کو معمول پر لایا جائے گا اور ان پناہ گزینوں کی وہاں اپنے گھروں کو بحفاظت واپسی یقینی بنائی جائے گی یا پھر ان کی پسند کے کسی قریبی مقام پر بازآبادکاری میں مدد کی جائے گی ۔ سمجھوتہ میں کہا گیا ہے کہ ’’اس بات کو یقینی بنانے کیلئے مائنمار کی طرف سے ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے کہ ملک کو بھی ایک طویل عرصہ تک عارضی کیمپوں میں رہنے کی ضرورت نہ پڑے ۔ علاوہ ازیں موجودہ قوانین اور ضوابط کے مطابق آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی جائے ‘‘ ۔ بنگلہ دیشی وزیر خارجہ نے کہا کہ رکھائین میں تشدد کے دوران چونکہ روہنگیاؤں کے اکثر گاؤں آتشزنی میں خاکستر ہوچکے ہیں ۔ چنانچہ ان کے پاس فی الحال عارضی کیمپوں میں رہنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ وزیر خارجہ اے ایچ محمود علی نے کہا کہ ’’اکثر گاؤں جل چکے ہیں ۔ چنانچہ وہ کہاں واپس ہوں گے ؟ وہاں اب کوئی گھر نہیں ہیں۔ عملی طور پر وہاں واپس ہونا ممکن نہیں ہے ‘‘۔ اقوام متحدہ کے پناہ گزیں ادارہ نے گزشتہ روز اس سمجھوتہ پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ رکھائین کی صورتحال ایسی نہیں ہے جہاں محفوظ اور پائیدار واپسی ہوسکے۔

TOPPOPULARRECENT