Sunday , April 22 2018
Home / Top Stories / روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام، عصمت ریزی کے ثبوتوں کا پہاڑ موجود : ٹلرسن

روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام، عصمت ریزی کے ثبوتوں کا پہاڑ موجود : ٹلرسن

FILE - In a Friday, Oct. 13, 2017 file photo, Secretary of State Rex Tillerson answers a reporters question while greeting Organization of American States Secretary-General Luis Almagro at the State Department, in Washington. Tillerson said Sunday, Oct. 15, in a television interview that President Donald Trump wants a diplomatic solution to the North Korean crisis and is not hankering for war with the nuclear-armed nation, despite past tweets that America’s chief envoy was ``wasting his time’’ trying to negotiate with the North’s leader.(AP Photo/Andrew Harnik, File)

نیپیائی تاء (مائنمار) ۔ 15 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن نے آج کہا کہ مائنمار میں سیکوریٹی فورسیس کی طرف سے کئے گئے مظالم کی باوثوق رپورٹس پر ان کے ملک کو گہری تشویش ہے۔ انہوں نے اس انسانی بحران کی آزادانہ تحقیقات پر زور دیا جس کے نتیجہ میں لاکھوں روہنگیا مسلمان اپنی جان بچانے کیلئے گھر بار چھوڑ کر بے سروسامانی کی حالت میں بنگلہ دیش فرار ہوگئے ہیں۔ امریکی وزیرخارجہ ٹلرسن نے یہاں مائنمار کی رہنما آنگ سان سوچی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کے ذمہ دار افراد کے خلاف انفرادی پابندیاں عائد کرنے کے سوال پر غور کرسکتا ہے لیکن وہ سارے ملک کے خلاف وسیع تر اقتصادی پابندیوں کا مشورہ نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’سب کچھ ثبوتوں کی بنیادوں پر ہونا چاہئے‘‘۔ امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ ’’اگر ہمیں کوئی باوثوق اطلاع موصول ہوتی ہے جس کو ہم انتہائی معتبر تصور کرتے ہیں کہ بعض افراد چند ایسے واقعات کے ذمہ دار ہیں، جنہیں ہم ناقابل قبول تصور کرتے ہیں تو یقینا ان کے خلاف انفرادی پابندیاں عائد کرنا انتہائی مناسب ہوگا‘‘۔ ٹلرسن نے یہ ایک روزہ دورہ ایسے وقت کیا ہے جب ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہیکہ مائنمار کی شمالی ریاست رکھائین میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف قتل عام و نسل کشی کے واقعات کے ’’ثبوتوں کا پہاڑ‘‘ ہے جہاں حکومت کی سیکوریٹی کارروائیوں کے نتیجہ میں 600,000 سے زائد روہنگیا مسلمانوں کو پڑوسی ملک بنگلہ دیش فرار ہونا پڑا ہے۔ امریکہ کے ’’ہولو کاسٹ میموریل میوزیم‘‘ اور ایک انسانی جہدکار تنظیم ’’غصب شدہ حقوق‘‘ نے کہا ہیکہ روہنگیا میں نسل کشی کے واقعات میں ’’ثبوتوں کا پہاڑ‘‘ موجود ہے۔ ان اداروں نے مائنمار کی فوج اور بعض عام شہریوں پر روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام، نسل کشی، عصمت ریزی اور آتشزنی کے واقعات میں بڑے پیمانے پر ملوث ہونے کے الزامات عائد کئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ مائنمار فوج کے سپاہیوں اور اکثریتی بدھ مت سے تعلق رکھنے والے عام شہریوں نے کئی روہنگیا مسلم مرد، خواتین اور بچوں کا نہ صرف قتل عام کیا بلکہ کئی عمر رسیدہ افراد، نوجوانوں اور کمسن بچوں کو انتہائی بے رحمانہ انداز میں زندہ جلادیا تھا۔ ان دونوں اداروں نے بین الاقوامی برادری سے مائنمار کی فوج، حکومت اور دیگر خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT