Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / روہنگیا مسلمانوں کے مسئلہ پر عدالت میں فیصلہ ہوگا ‘ وزیر داخلہ

روہنگیا مسلمانوں کے مسئلہ پر عدالت میں فیصلہ ہوگا ‘ وزیر داخلہ

سوشیل میڈیا کے ذریعہ سماج میں کشیدگی پیدا کرنے کی کوششیں ‘ اطلاعات کو بغیر توثیق آگے نہ بڑھانے کی اپیل ۔ راج ناتھ سنگھ کا خطاب

نئی دہلی 18 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ کی جانب سے مرکزی حکومت کے روہنگیا مسلمانوں کو ان کے وطن واپس بھیجنے کے فیصلے پر کوئی فیصلہ کیا جائیگا ۔ یہ لوگ ملک میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہوئے تھے ۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے یہاں ایک تقریب کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایک حلفنامہ ( عدالت میں ) داخل کردیا گیا ہے ۔ جو کچھ بھی فیصلہ کرنا ہے وہ عدالت کی جانب سے کیا جائیگا ۔ مرکزی حکومت نے عدالت سے کہا تھا کہ روہنگیا مسلمان غیر قانونی تارکین وطن ہیں جو ملک میں جمع ہوگئے ہیں اور یہاں ان کی مسلسل موجودگی سے قومی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ عدالت کی رجسٹری میں اپنے حلفنامہ کے ذریعہ این ڈی اے حکومت نے کہا کہ ملک کے کسی بھی حصے میں قیام کرنے اور وہیں بس جانے کا حق صرف ہندوستانی شہریوں کو ہی ہے اور غیر قانونی پناہ گزین اس حق کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع نہیں ہوسکتے ۔ عدالت میں دو روہنگیائی تارکین وطن محمد سلیم اللہ اور محمد شاکر کی درخواست پر سماعت ہو رہی ہے ۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ قوم دشمن عناصر کی جانب سے سوشیل میڈیا پر غیر مصدقہ اطلاعات کو گشت کرواتے ہوئے کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ اس طرح کے پیامات کو توثیق کے بغیر آگے نہ بڑھائیں۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ایسی اطلاعات اور خبریں مسلسل سوشیل میڈیا جیسے واٹس ایپ پر پھیلائی جا رہی ہیں جو پوری طرح غلط ہیں یا جن کی کوئی بنیاد نہیں ہے ۔ اس کو کئی لوگ درست بھی تسلیم کرلیتے ہیں۔ وزیر داخلہ سشستر سیما بل ( ایس ایس بی ) کی انٹلی جنس ونگ کا افتتاح کرنے کے بعد اظہار خیال کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایس ایس بی کے جوانوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ اسطرح کے پیامات پر یقین نہ کریں اور نہ ہی اس کی توثیق کے بغیر اس کو آگے بڑھائیں کیونکہ غیر سماجی عناصر ان کے ذریعہ سماج میں کشیدگی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم کو ایسے پیامات پر یقین کرنے اور انہیں آگے بڑھانے سے قبل احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے ایس ایس بی کے رول کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ فورس 1,751 کیلومیٹر کی ہند ۔ نیپال سرحد اور 699 کیلومیٹر کی ہند ۔ بھوٹان سرحد کی نگرانی کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام بہت مشکل ہے کیونکہ یہاں ایسی سرحدات ہیں جہاں کسی ویزے کے بغیر عوام کی نقل و حرکت کی اجازت دی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کھلی سرحدات ہیں اور سکیوریٹی عملہ کو یہ پتہ نہیں رہتا کہ کون قوم مخالف ہے ‘ کس راستے سے مجرمین آ رہے ہیں یا کس کے پاس منشیات یا فرضی کرنسی موجود ہے ۔ شہید ہوجانے والے سکیوریٹی اہلکاروں کے افراد خاندان کو ایک کروڑ روپئے فراہم کرنے کی تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ برسر خدمت اہلکاروں کیلئے بھی کچھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جنہیں ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے لیکن وہ اس سے نمٹنے میں ناکام ہیں اور انہیں مدد کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں کچھ کرنے پر غور کر رہے ہیں اور یقینی طور پر کچھ کرینگے ۔ قبل ازیں وزیر موصوف نے ایس ایس بی کے اولین انٹلی جنس ونگ کا افتتاح انجام دیا ۔ یہ ونگ بھوٹان اور نیپال سے ملنے والی سرحدات پر اطلاعات جمع کریگا ۔ ان روٹس کو بعض موقعوں پر مجرمین بھی استعمال کرتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT