Sunday , December 17 2017
Home / ہندوستان / ’روہنگیا مسلمان غیرقانونی پناہ گزین ، قومی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ‘

’روہنگیا مسلمان غیرقانونی پناہ گزین ، قومی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ‘

صرف ہندوستانی شہریوں کو ملک کے کسی بھی علاقہ میں سکونت کا بنیادی حق حاصل ، غیرقانونی پناہ گزینوں کو حق جتانے سپریم کورٹ کا سہارا لینے کا حق نہیں :حکومت
نئی دہلی ۔18 ستمبر۔( سیاست ڈاٹ کام) مرکز نے آج سپریم کورٹ سے کہاکہ روہنگیا مسلمان اس ملک میں غیرقانونی مہاجرین ہیں اور یہاں ان کے مستقل قیام سے قومی سلامتی کیلئے سنگین خطرات پیدا ہوسکتے ہیں‘‘ ۔ سپریم کورٹ رجسٹری میں داخل کردہ مرکز کے حلفنامہ میں کہا گیا ہے کہ صرف شہریوں کو ہی اس ملک کے کسی بھی حصہ میں سکونت اختیار کرنے اور آباد ہونے کا بنیادی حق حاصل ہے اور غیرقانونی مہاجرین اس حق کے لئے سپریم کورٹ کا دائرہ کارو اختیار استعمال نہیں کرسکتے ۔ قبل ازیں چیف جسٹس دیپک مصرا کی قیادت میں ایک بنچ نے مرکز کی نمائندگی کرنے والے اسسٹینٹ سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے بیان کی سماعت کی ۔ انھوں نے کہاتھا کہ آج دن میں حلفنامہ داخل کیا جائے گا۔ عدالت عظمیٰ نے روہنگیا مسلمانوں کی ملک بدری کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کردہ مفاد عامہ کی درخواست پر آئندہ سماعت 3اکتوبر کو مقرر کی ۔ وزارت اُمور داخلہ کی طرف سے داخل کردہ حلفنامہ میں کہا گیا ہے کہ ’’دستور کی دفعہ 19 سے محصلہ یہ دستوری ضمانت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صرف ہندوستان کے شہریوں کو ہی اپنے ملک کے کسی بھی علاقہ میں سکونت احتیار کرنے اور آباد ہونے کے علاوہ سارے ہندوستانی علاقہ میں کہیں بھی آزادی کے ساتھ گھومنے اور نقل مکانی کرنے کا حق حاصل ہے۔کوئی بھی غیرقانونی مہاجر اس عدالت سے کسی حکم کی درخواست نہیں کرسکتا جو راست یا بالواسطہ طورپر عمومی اعتبار سے بنیادی حقوق فراہم کرتے ہیں ‘‘۔ مرکز نے کہاکہ روہنگیا پناہ گزیں غیرقانونی ہیں اور ان کا مسلسل قیام ملک کی سلامتی کے لئے ایک سنگین خطرہ ہوگا ۔ اس نے مزید کہاکہ ’’یہ کہا جاچکا ہے کہ روہنگیاؤں کی ہندوستان میں غیرقانونی نقل مکانی کا جاری رہنا اور ملک میں مسلسل قیام نہ صرف بالکلیہ طورپر غیرقانونی ہے بلکہ اس کے قومی سلامتی پر سنگین اثرات کے علاوہ سنگین سلامتی خطرات بھی محسوس کئے گئے ہیں ‘‘ ۔ حکومت نے کہا کہ اس مسئلہ پر مختلف سکیورٹی ایجنسیوں کی طرف سے جمع کردہ معلومات اور لاحق سلامتی خطرات کی تفصیلات سر بہ مہر لفافہ میں پیش کی جائیں گی ۔ مرکز نے کہا کہ پناہ گزینوں کے موقف سے متعلق 1951 ء کے سمجھوتہ میں ہندوستان چونکہ دستخط کنندہ ملک نہیں ہے چنانچہ ہندوستان پر اس سمجھوتہ کی ذمہ داریوں کی پابندی کا اطلاق نہیں ہوتا ۔حکومت نے مزید کہا کہ ’’صرف اس سمجھوتہ میں شامل ممالک اور فریقوں پر ہی اس کی پابندی کا اطلاق ہوگا۔ ہندوستان چونکہ اس کا فریق ہی نہیں ہے چنانچہ اس کی کلی ذمہ داریوں اور پابندیوں کا اس پر اطلاق ہی نہیں ہوتا ‘‘ ۔ اس بنچ نے جس سے جسٹس اے ایم کھانویلکر اور جسٹس ڈی وائی چندراچوڑ بھی شامل ہیں قوی انسانی حقوق کمیشن کو کوئی نوٹس جاری نہیں کی جو پہلے ہی اس مسئلہ پر توجہ مبذول کرتے ہوئے 18 اگسٹ کو مرکز کے نام نوٹس جاری کرچکا ہے ۔ روہنگیا کے دو مسلم مہاجرین محمد سلیم اﷲ اور محمد شاکر نے سپریم کورٹ میں یہ درخواست دائر کی تھی ۔ یہ دونوں پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن میں رجسٹرڈ ہیں ۔ انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مائینمار میں بڑے پیمانہ پر قتل ، غارت گری ، تشدد اور خون خرابہ کے درمیان اپنی جان بچانے اس ملک سے فرار ہوکر ہندوستان میں پناہ لئے ہیں۔ مائینمار میں بڑے پیمانے پر فوجی مظالم اور تشدد کے نتیجہ میں لاکھوں روہنیگا مسلمان ملک سے فرار ہوتے ہوئے بنگلہ دیش اور ہندوستان میں داخل ہوئے ہیں۔ ہندوستان میں جموں ، حیدرآباد ، ہریانہ ، اُترپردیش ، دہلی اور راجستھان میں روہنگیا پناہ گزیں قابل لحاظ تعداد میں موجود ہے ۔

TOPPOPULARRECENT