Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / روہنگیا مسلمان پناہ گزینوں کی مدد کیلئے بین الاقوامی برادری سے اقوام متحدہ کی اپیل

روہنگیا مسلمان پناہ گزینوں کی مدد کیلئے بین الاقوامی برادری سے اقوام متحدہ کی اپیل

تارکین وطن کی تعداد میں مسلسل اضافہ ، اقوام متحدہ کو وقت کے تقاضہ کے مطابق بنانا ضروری ، 35 لاکھ بچے تعلیم سے محروم
اقوام متحدہ۔ 13 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ سیاست کو بالائے طاق رکھ دیں اور جاریہ راحت رسانی کوششوں میں مدد کرتے ہوئے روہنگیا مسلمان پناہ گزینوں کی مدد میں حصہ لیں جو میانمار میں مذہبی اور نسلی تشدد سے جان بچاکر پڑوسی ممالک منتقل ہورہے ہیں۔ دریں اثناء نیویارک سے موصولہ اطلاع کے بموجب اقوام متحدہ انسانی حقوق کی ایجنسی نے کہا کہ میانمار سے بنگلہ دیش ترک وطن کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ اقوام متحدہ کے مہاجرین کے تعلق سے بین الاقوامی تنظیم (آئی او ایم) نے بتایا کہ پچھلے 17 ، 18 دنوں میں تقریباً تین لاکھ 70ہزار افراد بنگلہ دیش کی سرحد پار کرچکے ہیں۔آئی او ایم کے ترجمان نے بتایا کہ کرس لوم نے بتایا کہ اقوام متحدہ ایجنسی اور سرکار کا اندازہ تھا کہ بنگلہ دیش میں ایک لاکھ روہنگیا مسلمان پہنچ سکتے ہیں جبکہ وہاں پہلے سے ہی چھ لاکھ روہنگیا مقیم ہیں۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ کسی کو اتنے بڑے پیمانے پر ترک وطن کی امیدنہیں تھی۔لوم نے بتایا کہ انہوں نے ترک وطن کرنے والے افراد سے بات چیت کی ہے ۔ وہ بے حد حساس اور خوف زدہ لگ رہے تھے ۔ لوم نے کہا کہ روہنگیا مہاجرین کو جہاں کہیں بھی تھوڑی سی جگہ مل رہی ہے ، سینکڑوں لوگ وہیں رہنے لگ رہے ہیں۔خواہ چاہے وہ کیچڑ والی ہی زمین کیوں نہ ہو۔

انہوں نے بے گھروں کو کھانا، پینے کا پانی، صاف صفائی کا انتظام اور سلامتی سے متعلق اقدامات مہیا کرانے کے لئے بین الاقوامی کمیونٹی سے ہنگامی خدمات کیلئے کہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ روہنگیا مہاجرین کے خیموں میں سب سے پہلے جو چیز نظر آرہی ہے وہ یہ کہ بڑی تعداد میں جو بچے موجود ہیں، وہ بے حد کمزور اور بھوکے ہیں۔ دریں اثنا یو این ایچ سی آر نے بتایا کہ بنگلہ دیش میں جہازوں کی مدد سے آج راحت رسانی کا سامان پہنچایا جارہا ہے ۔ یو این ایچ سی آر کے ترجمان نے بتایا کہ چارٹرڈ جہاں بوئنگ 777 ، کل 91 ٹن راحت رسانی لے کر بنگلہ دیش جارہا ہے ۔ اس میں تقریباً 25 ہزار مہاجرین کیلئے کھانے کے علاوہ کمبل، چٹائیاں ، چادریں، ٹینٹ بنانے کا سامان شامل ہے ۔انہوں نے بتایا کہ تقریباً 1700 ٹینٹ اور دیگر راحت رسانی کا سامان لے کر جہاز آج شام تک روانہ ہوگا۔ دنیا کے کئی حصوں میں مختلف کمیونٹیز کے خلاف تشدد کی وجہ سے خطرناک شکل اختیار کرچکے پناہ گزینوں کا مسئلہ انتہائی توجہ طلب ہے اور سب سے بڑا مسئلہ بچوں کی تعلیم کا ہے ۔ لاکھوں پناہ گزین بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور گزشتہ تعلیمی سال میں ایسے 35 لاکھ سے زائد بچے اسکول نہیں جا پائے ۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزین امور کے ہائی کمشنر (یو این ایچ سی آر)کی کل جاری ایک رپورٹ “لیفٹ بی ہائینڈ: رفیوجی ایجوکیشن ان کرائسس”کے مطابق ایو این ایچ سی آر کے تحت رجسٹرڈکل ایک کروڑ 72 لاکھ پناہ گزین بچوں میں سے 64 لاکھ بچے اسکول جانے والی عمر (پانچ سے 17 سال) کے ہیں۔اقوام متحدہ پناہ گزین ہائی کمشنر فلپپو گرینڈی نے ایک بیان جاری کر کے کہا کہ ان پناہ گزین بچوں کو پناہ دینے والے ممالک کے پرامن اور پائیدار ترقی کے لئے ان کی تعلیم بہت اہم ہے اور جب کبھی بھی وہ وطن واپس آئیں تو وہاں کی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کر سکیں۔ گرینڈی نے کہا کہ دنیا کے دیگر بچوں کے مقابلے میں ان پناہ گزین بچوں کو تعلیم اور دیگر مواقع بہت کم دستیاب ہیں۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق دنیا کے کل 91% بچوں کو بنیادی تعلیم دستیاب ہے جبکہ مہاجرین کا اعداد و شمار صرف 61% ہے اور کم آمدنی والے ممالک میں یہ 50% سے بھی کم ہے ۔ یہ بچے جیسے جیسے بڑے ہوتے ہیں حالات بدترین ہوتے جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں جہاں 84% بچوں کو ثانوی تعلیم حاصل ہوتی ہے وہیں محض 9% پناہ گزین بچوں کو ثانوی تعلیم مل پاتی ہے حالانکہ کم آمدنی والے ملک اس معاملے میں آگے ہیں اور وہ اپنے 28% بچوں کو ثانوی تعلیم دیتے ہیں۔مسٹر گرینڈی نے کہا کہ ابتدائی تعلیم کے تعلق سے پناہ گزین لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کیلئے کم مواقع موجود ہیں۔ پناہ گزین لڑکوں کے مقابلے میں 80% سے بھی کم لڑکیوں کو بنیادی تعلیم حاصل ہوپاتی ہے جبکہ ثانوی تعلیم کے معاملے میں یہ اعداد و شمار 70% بھی نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT