Monday , November 20 2017
Home / دنیا / روہنگیا مسلم عسکریت پسندوں کی ایک ماہ جنگ بندی

روہنگیا مسلم عسکریت پسندوں کی ایک ماہ جنگ بندی

ٹوئیٹر پر اعلان ‘نجات دہندہ فوج ایشیاء کی سب سے بڑی فوجی تنظیم میں تبدیل

یانگون۔10ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) روہنگیا عسکریت پسندوں نے جن کے 25 بڑے پیمانے پر میانمار کی ریاست راکھین میں دھاؤں کے نتیجہ میں فوجی کارروائی کا آغاز ہوا تھا جس کے نتیجہ مسلم اقلیت کے تین لاکھ افراد پڑوسی ملک بنگلہ دیش فرار ہونے پر مجبور ہوگئے تھے ‘ آج فوری طور پر یکطرفہ ایک ماہ کی جنگ بندی کا اعلان کردیا ۔ اراکان روہنگیا نجات دہندہ فوج ( اے آر ایس اے ) نے اعلان کیا ۔ اس فوج نے اپنے ٹوئیٹر پر بیان جاری کیا ہے کہ اراکان روہنگیا نجات دہندہ فوج عارضی جنگ بندی کا جارحانہ فوجی کارروائی کے پیش نظر اعلان کررہی ہے ‘ تاکہ انسانی بنیادوں پر روانہ کی ہوئی امداد اس تباہ دہ علاقہ تک پہنچ سکے ۔ گروپ نے پُرزورانداز میں کہا کہ تمام انسانی بنیاد پر کام کرنے والے کارکن امداد کی سربراہی تمام مہلوکین کے ارکان خاندان کو اس انسانی بحران کے موقع پر بلاامتیاز نسل و مذہبی پس منظر عطا کرسکتے ہیں ۔ جنگ بندی کے دوران 9اکٹوبرتک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی ۔ گروپ نے حکومت میانمار پر زور دیا کہ وہ انسانی بنیادوں پر لڑائی میں دیئے ہوئے اس وقفہ پر جوابی خیرسگالی کا مظاہرہ کرے ۔ کثیر تعداد میں بے گھر لوگ سمجھا جاتاہے کہ مایوسی کے عالم میں دو ہفتہ سے زیادہ کہ تشدد کے بعد امداد کے منتظر ہیں ۔ ٹوئیٹر کے صفحہ پر عام طور پر نجات دہندہ فوج کے بیانات شائع کئے جاتے ہیں یا قارئین تک راست ویڈیو پیغامات پہنچائے جاتے ہیں ۔ آج کے بیان پر عطاء اللہ کے دستخط ہے جو مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کا کمانڈر ہے اور بنگلہ دیش ۔ میانمار سرحد پر موجود جنگل کے علاقہ میں واقع نجات دہندہ فوج کے اڈوں سے فوج کی رہنمائی کرتا ہے ۔ نجات دہندہ فوج ’’حرکت الیقین‘‘ کے نام سے مشہور ہے جس میں سینکڑوں عسکریت پسندوں کے ساتھ 25 اگست سے تقریباً 30فوجی چوکیوں پر اور ریاست کے شمالی علاقہ میں سرکاری دفاتر پر حملوں کا آغاز کیا تھا ۔ صیانتی افواج کی جوابی کارروائی کی وجہ سے روہنگیا مسلمانوں کا خروج شروع ہوا تھا ۔ بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ فوج اور ریاست کی بدھسٹ اکثریت ہے ۔ کارروائی کے دوران اندھا دھند طور پر سینکڑوں دیہاتیوں کا قتل عام کیا ہے ۔ یہ علاقہ دعوے اور جوابی دعوے کی وجہ سے عسکریت پسندوں اورنسل پرستوں کے درمیان تقسیم ہوچکا ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ سال کی بہ نسبت نجات دہندہ فوج نے ترقی کرلی ہے اور یہ اس وقت ایشیاء کی سب سے بڑی فوجی تنظیم بن گئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT