Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / روہنگیا مسلم کیمپوں میں وبائی امراض پھوٹ پڑے ،معصوم بچوں کی اموات

روہنگیا مسلم کیمپوں میں وبائی امراض پھوٹ پڑے ،معصوم بچوں کی اموات

زائد از 100 خاندان سنگین صورتحال سے دوچار، پینے کے پانی سے محروم، بیت الخلاء بھی نہیں
کاکس بازار (بنگلہ دیش) ۔ 30 ۔ ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے لاکھوں روہنگیائی مسلمانوں کو وبائی امراض کا سامنا ہے۔ میانمار کی سرحد سے متصل روہنگیائی مسلمانوں کے پناہ گزین کیمپوں میں تقریباً 100 خاندانوں کو مسائل درپیش ہیں۔ انہیں پینے کا پانی دستیاب نہیں ہے اور نہ ہی بیت الخلاء موجود ہے۔ چند ہفتوں کے اندر دنیا کا سب سے بڑا پناہ گزین علاقہ بن گیا ہے ۔ بنگلہ دیش کا یہ علاقہ اس وقت روہنگیا مسلمانوں کیلئے موت کا کنواں بن رہا ہے۔ روہنگیا کی ایک مسلم خاتون نے اپنی پریشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پناہ گزین کیمپس میں پانی کے پمپس تو کام کر رہے ہیں لیکن بورویل سے پانی باہر نہیں آرہا ہے ، جو بھی پانی آرہا ہے وہ آلودہ ، جسے ہم پی نہیں سکتے۔ اقوام متحدہ نے بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں ہونے والی مصیبتوں اور دیگر پریشانیوں پر خبردار کیا ہے جہاں نصف ملین افراد نے پناہ لی ہے۔ میانمار میں غیر معمولی طور پر ظلم و زیادتیوں اور قتل و غارت گیری کے بعد جان بچاکر فرار ہونے والے لاکھوں مسلمانوں نے یہاں پناہ لی ہے ۔ صاف ستھرا پانی عدم دستیاب ہے اور بیت الخلاء بھی موجود نہیں ہے۔ امدادی ورکرس نے کہا کہ اس علاقہ میں صحت کا سب سے بڑا تباہ کن مسئلہ پیدا ہوا ہے ۔ مانسون کی بارش نے بھی پناہ گزین کیمپوں کو مختلف بیماریوں میں جکڑ دیا ہے ۔ ان پناہ گزینوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس علاقہ میں بڑے پیمانہ پر وبائی امراض پھوٹ پڑ رہے ہیں ۔ بچوں میں دست و قئے کے امراض بڑھتے جارہے ہیں۔ یہاں پر روزانہ بارش کی وجہ سے یہ علاقہ کیچڑ زدہ ہوگیا ہے اور گندگی نے امراض کو جنم دینا شروع کیا ہے ۔ ہزاروں افراد کھلے مقامات پر رفع حاجت کر رہے ہیں جس سے گندگی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ان پناہ گزینوں کے علاج و معالجہ کیلئے چند ڈاکٹرس ہی پائے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر الم الحق روزانہ 400 مریضوں کا معائنہ کر رہے ہیں۔ اتنی مصروفیت کے بعد وہ پھر بھی تھکان محسوس کر رہے ہیں۔ وہ ایسے بچوں کا علاج بھی کر رہے ہیں جو پانی کی وجہ سے بیمار پڑچکے ہیں۔ ابتداء میں والدین ایک یا دو بچوں کو لاتے تھے لیکن اب تین تا چار بچے لائے جارہے ہیں جو دست و قئے سے متاثر ہیں۔ ان افراد کو صاف ستھرا پانی پلانے کیلئے نئے زیر زمین پانی کے حصول کی خاطر کنویں بھی کھودے گئے ہیں لیکن یہ پانی ناکافی ہورہا ہے ۔ پانی کے حصول کیلئے طویل قطاریں دکھی جارہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT