Tuesday , June 19 2018
Home / ہندوستان / روہنگیا پناہ گزینوں اور دیگر موضوعات پر 7 ڈسمبر کو مرکز کی میٹنگ

روہنگیا پناہ گزینوں اور دیگر موضوعات پر 7 ڈسمبر کو مرکز کی میٹنگ

نئی دہلی 4 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) روہنگیا آبادی اور بنگلہ دیشیوں کے ملک میں گھسنے اور سرحد پار جعلی کرنسیوں اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے موضوعات مشرقی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کی میٹنگ میں ایجنڈہ پر سرفہرست ہوں گے، جو وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے 7 ڈسمبر کو کولکاتا میں طلب کی ہے۔ وزارت داخلہ کے عہدیدار نے کہاکہ مغربی بنگال، آسام، میگھالیہ، تریپورہ اور میزورم کے وزرائے اعلیٰ اور وزرائے داخلہ دن بھر طویل اجلاس میں غور و خوض کریں گے جہاں روہنگیا اور بنگلہ دیشی تارکین وطن کے ملک میں اندھا دھند داخلہ اور اِس پر روک لگانے کے ممکنہ اقدامات پر باریک بینی سے غور و خوض کیا جائے گا۔ یہ تمام ریاستیں بنگلہ دیش کے ساتھ سرحدیں رکھتی ہیں۔ یہ ان ریاستوں کے چیف منسٹروں کی چوتھی میٹنگ رہے گی جو وزیرداخلہ طلب کررہے ہیں۔ یہ ریاستیں بین الاقوامی سرحدوں کی حامل ہیں۔ اِس لحاظ سے اِس میٹنگ کو اہمیت دی جارہی ہے۔ اِن ریاستوں کے پاکستان، چین اور میانمار کے ساتھ سرحدیں ملتی ہیں چنانچہ قبل ازیں متعلقہ چیف منسٹروں کے ساتھ 3 علیحدہ اجلاس منعقد کئے جاچکے ہیں۔ مرکزی وزارت سے وابستہ عہدیدار نے کہاکہ کولکاتا میں 7 ڈسمبر کی میٹنگ میں توقع ہے کہ سرحد پار جعلی ہندوستانی کرنسی نوٹوں، نارکوٹکس کی اسمگلنگ اور دیگر غیرقانونی سرگرمیوں کے سدباب کے تعلق سے منصوبے طے کئے جانے کی توقع ہے۔ ہندوستان، بنگلہ دیش کے ساتھ 4,096 کیلو میٹر طویل سرحد ہے جس میں سے 2,217 کیلو میٹر مغربی بنگال میں آتی ہے، 262 کیلو میٹر آسام، 443 کیلو میٹر میگھالیہ، 856 کیلو میٹر تریپورہ اور 180 کیلو میٹر میزورم میں واقع ہے۔ سرکاری تخمینے کے مطابق لگ بھگ 36 ہزار روہنگیا افراد ہندوستان کے مختلف حصوں میں قیام پذیر ہیں۔ بی ایس ایف کے ڈائرکٹر جنرل کے کے شرما نے گزشتہ ہفتہ کہا تھا کہ اُن کے دستوں نے ہند ۔ بنگلہ سرحد کے پاس رواں سال کی شر وعات سے 31 اکٹوبر تک 87 روہنگیا مسلمانوں کو پکڑا اور 76 کو واپس بنگلہ دیش بھیج دیا۔ اُنھوں نے کہا تھا کہ تازہ تخمینوں کے مطابق 9 تا 10 لاکھ روہنگیا مسلمان میانمار سے بنگلہ دیش کو ترک وطن کرچکے ہیں اور اُن کی ہندوستان کو منتقلی خارج ازامکان قرار نہیں دی جاسکتی۔وزارت داخلہ کے ایک اور عہدیدار نے کہاکہ بنگلہ دیش سے غیرقانونی امیگریشن بھی شمال مشرقی ریاستوں اور مغربی بنگال کے لئے کئی برسوں سے بڑی تشویش کا معاملہ بنا ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT