Tuesday , September 18 2018
Home / ہندوستان / روہنگیا پناہ گزینوں کو بہتر طبی ، تعلیمی سہولیات کیلئے عبوری احکام سے انکار

روہنگیا پناہ گزینوں کو بہتر طبی ، تعلیمی سہولیات کیلئے عبوری احکام سے انکار

 

ہندوستانیوں اور بیرونی شہریوں میںامتیاز نہیں، سری لنکائی پناہ گزینوں سے تقابل نہیںہوسکتا، مرکز کا سپریم کورٹ میں حلفنامہ

نئی دہلی 19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج دو روہنگیا پناہ گزینوں کی داخل کردہ عرضی پر عبوری حکمنامہ جاری کرنے سے انکار کردیا۔ یہ عرضی پناہ گزینوں کے لئے صحت اور تعلیمی سہولتوں کو یقینی بنانے کے لئے ہدایتیں جاری کرنے سے متعلق ہیں۔ چیف جسٹس دیپک مصرا اور جسٹس اے ایم کھانویلکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ پر مشتمل بنچ کو مرکز کی جانب سے بتایا گیا کہ ہندوستانیوں اور بیرونی شہریوں کو بہم پہنچائی جانے والی صحت اور تعلیمی سہولتوں میں کوئی امتیاز نہیں برتا جاتا ہے۔ بنچ نے کہاکہ اِس تناظر میں ہم کوئی عبوری حکمنامہ جاری نہیں کریں گے کہ روہنگیا پناہ گزینوں کو صحت اور تعلیمی سہولتوں کو خصوصیت کے ساتھ یقینی بنائے تاوقتیکہ درخواست گذاران کچھ ایسا مواد پیش کریں جو مرکز کے دعوؤں کی تکذیب کرتا ہو۔ قبل ازیں دن میں فاضل عدالت نے مرکز کو ہدایت دی کہ مختلف ریاستوں میں روہنگیا پناہ گزینوں کے حالات کی تفصیلات پر مبنی جامع رپورٹ داخل کرے۔ فاضل عدالت نے 7 مارچ کو مرکز سے دو روہنگیا پناہ گزینوں محمد سلیم اللہ، محمد شاکر کی عرضی پر جواب طلب کیا تھا، جنھوں نے ٹاملناڈو میں سری لنکائی ٹامل پناہ گزینوں کو دی جارہی سہولتوں کے خطوط پر تعلیم اور نگہداشت صحت کی سہولیات فراہم کرنے کی استدعا کی تھی۔ تاہم مرکز نے اپنے حلفنامہ میں اِس عرضی کی مخالفت میں کہاکہ سری لنکائی پناہ گزینوں کے ساتھ تقابل بے جوڑ اور غیر ہم آہنگ ہے۔ مرکز نے کہاکہ سری لنکائی ٹامل پناہ گزینوں کو بعض راحت کاری سہولتیں 1964 ء کے انڈو ۔ سیلون اگریمنٹ کی مطابقت میں دی جاتی ہیں۔ روہنگیا پناہ گزینوں نے ہندوستان میں داخلے کی اجازت چاہی، اور اس کے علاوہ تعلیم اور نگہداشت صحت کی سہولتیں نیز فارن ریجنل رجسٹریشن آفس کی جانب سے رفیوجی آئی ڈی کارڈس عطا کرنے کی درخواست بھی کی۔ قبل ازیں وہ فاضل عدالت سے مرکز کے اِس فیصلے کی مخالفت میں رجوع ہوئے تھے کہ زائداز 40 ہزار پناہ گزینوں کو ملک بدر کردیا جائے جو میانمار سے فرار ہونے کے بعد ہندوستان آئے۔ میانمار میں روہنگیا برادری کے خلاف زبردست امتیاز اور تشدد کے سبب وہ لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس معاملے میں مختلف دیگر عرضیوں کا ادخال بھی ہوا ہے جن میں سابق آر ایس ایس نظریہ ساز اور راشٹرا سوابھیمان آندولن لیڈر کے این گوئند آچاریہ، سی پی آئی (ایم) یوتھ ونگ ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا (ڈی وائی ایف آئی) اور مغربی بنگال کے ادارہ برائے حقوق اطفال شامل ہیں۔ عدالت نے مرکز کو مشورہ دیا تھا کہ اِن پناہ گزینوں کو ملک سے نہ نکالیں۔ جس پر مرکز نے اپیل کی تھی کہ یہ بات حکمنامے میں ضبط تحریر نہ کی جائے کیوں کہ باقاعدہ ریکارڈ والی کوئی بھی بات کے بین الاقوامی مضمرات پڑسکتے ہیں۔ روہنگیا کمیونٹی والے میانمار کی مغربی ریاست میں تشدد کے بعد ہندوستان آئے اور جموں، حیدرآباد، ہریانہ، یوپی، دہلی۔ این سی آر اور راجستھان میں مقیم ہیں۔

TOPPOPULARRECENT