Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / روہنگیا کیخلاف میانمار کی مہم چینی سفیر کی تائید، داخلی معاملہ ہونے کاد عویٰ

روہنگیا کیخلاف میانمار کی مہم چینی سفیر کی تائید، داخلی معاملہ ہونے کاد عویٰ

میانمار کے سرکاری اخبار کی رپورٹ۔ اقوام متحدہ میں چین کا مختلف موقف، ’نسل کشی‘ کے خلاف سخت تشویش کا اظہار
یانگون 14 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) چین روہنگیا شورش پسندوں کے خلاف میانمار کی جارحانہ مہم کی تائید و حمایت کرتا ہے، میانماری سرکاری میڈیا نے آج یہ بات کہتے ہوئے چین کے قاصد کا حوالہ دیا جبکہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے اِس آپریشن کو ’نسل کشی‘ قرار دیا جس نے لگ بھگ 400,000 لاکھ افراد کو بنگلہ دیش کو فراری پر مجبور کیا ہے۔ مغربی ریاست راکھین میں میانمار کی ملٹری مہم 25 اگسٹ کو سکیورٹی چوکیوں اور ایک آرمی کیمپ پر سلسلہ وار گریلا حملوں کے بعد شروع ہوئی۔ 25 اگسٹ کے حملوں میں تقریباً ایک درجن افراد ہلاک ہوئے تھے۔ سرکاری اخبار ’گلوبل نیو لائٹ آف میانمار‘ نے جمعرات کو چین کے سفیر ہانگ لیانگ کے حوالے سے کہاکہ راکھین میں پیش آنے والے دہشت گردانہ حملوں کے تعلق سے چین کا موقف واضح ہے۔ یہ محض داخلی معاملہ ہے۔ چینی سفیر نے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے رابطے میں اِس موقف کا اظہار کیا ہے۔ انتہا پسندوں کے خلاف میانمار سکیورٹی فورسیس کے جوابی حملوں اور عوام کو اعانت کی فراہمی کے لئے حکومت کے ارادوں کا خیرمقدم کیا گیا ہے لیکن نیویارک میں اقوام متحدہ کے فورم میں چین نے مختلف انداز اختیار کرتے ہوئے سلامتی کونسل کے ساتھ ہم آواز ہوکر حد سے زائد تشدد کی اطلاعات کے تعلق سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے اِس کے خاتمے کے لئے عاجلانہ اقدامات پر زور دیا ہے۔

چین میانمار میں اثرورسوخ قائم کرنے کے معاملے میں امریکہ کے ساتھ مسابقت کرتا رہتا ہے۔ میانمار وہ ملک ہے جو 2011 ء میں لگ بھگ 50 سالہ سخت ملٹری حکمرانی سے آزاد ہوکر سفارتی و معاشی سطح پر باقی دنیا کے ساتھ دوبارہ جڑ سکا ہے۔ اِس ہفتے کے اوائل ٹرمپ انتظامیہ نے شہریوں کی حفاظت پر زور دیا تھا۔ راکھین کا تشدد اور پناہ گزینوں کا بڑے پیمانے پر اخراج نوبل انعام یافتہ آنگ سانگ سوچی کے لئے سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ وہ گزشتہ سال قومی لیڈر بن کر اُبھری ہیں۔ سوچی پر روہنگیا مسئلہ سے نمٹنے کے لئے عالمی دباؤ بھی بڑھتا جارہا ہے۔ نقادوں نے اُن کا نوبل انعام چھین لینے کے مطالبات کئے ہیں کیوں کہ وہ اپنے ملک میں اقلیت کی نسل کشی کو روکنے میں بُری طرح ناکام ہورہی ہیں۔ اقوام متحدہ سکریٹری جنرل انٹونیو گوتیرس اور سلامتی کونسل نے گزشتہ روز میانمار سے تشدد کا خاتمہ کرنے کی اپیل کی اور اِسے نسل کشی قرار دیا۔

گوتیرس نے نیویارک میں نیوز کانفرنس کو بتایا کہ جب ایک تہائی روہنگیا آبادی کو ملک چھوڑ کر فراری پر مجبور ہونا پڑا تو کیا آپ کو اِس کی کوئی بہتر لفظ سے تشریح کرسکتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردوں کو نشانہ بنارہی ہے جبکہ پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ جارحانہ و ظالمانہ مہم کا مقصد روہنگیا آبادی کو بودھ اکثریتی میانمار سے نکال باہر کرنا ہے۔ راکھین کے شمال میں کئی روہنگیا دیہات نذر آتش کردیئے گئے لیکن حکام نے تردید کی ہے کہ سکیورٹی فورسیس یا بودھ شہریوں نے آگ لگائی ہے۔ وہ اس کے لئے شورش پسندوں پر الزام دھرتے ہیں۔ حکومت نے گزشتہ روز کہا تھا کہ 45 مقامات جلائے گئے ۔ اس نے تفصیلات فراہم نہیں کئے لیکن ایک ترجمان نے کہاکہ راکھین کے شمال میں 471 دیہات میں سے 176 سنسان ہوچکے ہیں اور 34 دیگر سے کچھ نہ کچھ لوگ فرار ہوچکے ہیں۔ ترجمان نے کہاکہ جو لوگ بنگلہ دیش کو جارہے ہیں ، وہ یاتو شورش پسندوں سے رابطہ رکھتے ہیں یا پھر خواتین اور بچے اِس ماحول سے نکل بھاگ رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT