Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / روہنگیا کیمپوں میں پناہ گزینوں کی خاندانی منصوبہ بندی کی مہم

روہنگیا کیمپوں میں پناہ گزینوں کی خاندانی منصوبہ بندی کی مہم

کاکس بازار میں کنڈومس کی تقسیم
روہنگیا مرد و خواتین نس بندی کے مخالف
بعض روہنگیاؤں کے 18 تا 19 بچے اور دو بیویاں

پالنگ خالی ( بنگلہ دیش) ۔ 28اکتوبر ۔(سیاست ڈاٹ کام)میانمار سے نقل مکانی کرنے والے لاکھوں روہنگیا مسلمان اس وقت بنگلہ دیش کے لئے ناکردہ گناہ کی سزا بن سکتے ہیں اور اس وقت بنگلہ دیش میں بنائے گئے عارضی کیمپوں میں اُن کی بھیڑ بھاڑ اتنی زیادہ ہے کہ مانو ایک چھوٹا موٹا شہر آباد ہوگیا ہے ۔ حکومت بنگلہ دیش اب اس بات پر غور کررہی ہے کہ نقل مکانی کرکے آئے ہوئے روہنگیا مسلمانوں کی نس بندی کروادی جائے تاکہ بچوں کی مزید پیدائش کو روکا جاسکے ۔ ماہ اگست سے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جو فوجی کارروائی کی گئی تھی اُس کے بعد سے اب تک کم و بیش چھ لاکھ روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔ ہجرت کرنے والوں کی اتنی زیادہ تعداد بنگلہ دیش جیسے غریب ملک تو کیا بلکہ ذنیا کے کسی بھی امیر ترین ملک کے لئے بھی مشکلات پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے ۔ وسائل کی کمی کی وجہ سے مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ آج پناہ گزین کیمپوں کی یہ حالت ہے کہ پناہ گزین پاؤ پھیلاکر سو بھی نہیں سکتے ۔ غذا اور حفظان صحت تک اُن کی کوئی رسائی نہیں ہے ۔ نگرانکار حکام کا کہنا ہے کہ حالات پر اگر ابھی قابو نہیں پایا گیا تو وسائل میں مزید کمی واقع ہوجائے گی ۔ لہذا اب وقت آگیا ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کو متعارف کروایا جائے ۔ اس موقع پر کاکس بازار ڈسٹرکٹ میں خاندانی منصوبہ بندی خدمات کے سربراہ پنٹوکانتی بھٹاچارجی نے بتایا کہ روہنگیاؤں کو خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے ۔ انھوں نے کہاکہ میانمار میں روہنگیا برادری کو عمداً پسماندہ رکھا گیا ہے تاکہ وہ کسی بھی شعبہ میں ترقی نہ کریں۔ یہاں تک کہ انھیں تعلیم جیسی بنیادی ضرورت سے بھی محروم رکھا گیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ تمام میانمار کے راکھین اسٹیٹ میں غیرقانونی طورپر رہائش پذیر ہیں لہذا انھیں دیگر شہریوں کو ملنے والی سہولیات فراہم نہیں کی جاسکتی۔

بھٹا چارجی نے ایک حیران کن بات یہ بتائی کہ ان کیمپوں میں کئی افراد پر مشتمل خاندانوں کی اکثریت ہے ۔ بعض لوگ تو ایسے ہیں جن کے 18 یا 19 بچے ہیں اور کئی لوگوں کی دو دو بیویاں ہیں۔ ڈسٹرکٹ خاندانی منصوبہ بندی حکام نے مانع حمل کی فراہمی کیلئے ایک مہم ضرور چلائی ہے لیکن لاکھوں کی تعداد میں موجود روہنگیاؤں کے درمیان اب تک کنڈومس کے صرف 549 پیاکٹس کی تقسیم ہی عمل میں آئی ہے جبکہ روہنگیا مرد کنڈوم استعمال کرنے سے بھی گریز کررہے ہیں۔ دریں اثناء کچھ روہنگیاؤں نے بڑے ہی فلسفیانہ انداز میں بتایا کہ زائد افراد پر مشتمل خاندانوں کو وہ اس لئے ترجیح دیتے ہیں کہ اسی میں اُن کا بقا مضمر ہے ۔ روزانہ غذا اور پانی کا حصول اُن کے لئے کسی میدانِ جنگ سے کم نہیں لہذا خاندان کے چھوٹے بچوں کو غذا اور پانی حاصل کرنے بھیج دیا جاتا ہے جبکہ روہنگیا مسلمان خاندانی منصوبہ بندی کو اسلامی تعلیمات کے مغائر قرار دیتے ہیں۔ اسی دوران روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ پناہ گزین کیمپوں میں کام کرنے والی خاندانی منصوبہ بندی کی ایک خاتون والینٹر فرحانہ سلطانہ نے بتایا کہ اُس نے جس جس روہنگیا خاتون سے بات کی ہے کہ اُس نے خاندانی منصوبہ بندی کو ایک گناہ قرار دیا ۔ سلطانہ نے کہاکہ جس وقت روہنگیا میانمار میں تھے وہ خاندانی منصوبہ بندی کے دواخانوں میں نہیں جاتی تھیں کیونکہ اُنھیں ڈر تھا کہ میانمار کے حکام انھیں کوئی ایسی دوا دیں گے جس سے اُن کو یا اُن کے بچوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ صبورا نامی ایک اور خاتون نے بتایا کہ اُِ کے شوہر کو بھی دو کنڈومس دیئے گئے لیکن اُس نے اُن کا استعمال نہیں کیا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ بنگلہ دیش میں بھی خاندانی منصوبہ بندی کا پروگرام انتہائی کامیابی سے چلایا گیا تھا جہاں نس بندی کروانے والے مرد کو فی کس 2300 ٹکا ( بنگلہ دیش کی کرنسی ) اور ایک لُنگی بطور معاوضہ دیا جاتا تھا اور اس دور میں کاکس بازار میں ہر ماہ 250 افراد کی نس بندی کی جاتی تھی لیکن غیربنگلہ دیشی شہریوں پر خاندانی منصوبہ بندی کی عملدرآمد کیلئے وزیر صحت کی قیادت میں قائم کی گئی ایک کمیٹی کی اجازت حاصل کرنا لازمی ہے ۔ دائیں بازو کے بعض ارکان کا یہ ماننا ہے کہ خواتین اپنے حمل کو عصمت ریزی جیسے معاملات سے بچنے کی علامت تصور کرتی ہیں کیونکہ میانمار کی فوج پر روہنگیا خواتین اور نوجوان لڑکیوں کے جنسی استحصال کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT