Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / روہنگیا کے ہزاروں مسلمانوں کی بنگلہ دیش میں داخلہ کی کوشش

روہنگیا کے ہزاروں مسلمانوں کی بنگلہ دیش میں داخلہ کی کوشش

کسی کو آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی : ڈھاکہ ، میانمار میں 89 ہلاکتیں ، تشدد سے بچنے پہاڑوں پر پناہ
کاکس بازار ( بنگلہ دیش ) ۔ 26 ۔ اگست : ( سیاست ڈاٹ کام ) : مغربی میانمار میں روہنگیا دہشت گردوں کے حملہ میں اب تک 89 افراد ہلاک ہوگئے اور نسلی تشدد کا شکار ہزاروں روہنگیائی مسلمان بچ کر بنگلہ دیش میں داخلہ کی کوشش کررہے ہیں ۔ میانمار میں فرقہ وارانہ تشدد پھر بھڑک اٹھا اور دہشت گردوں نے جمعرات کی شب دو درجن سے زائد پولیس اور بارڈر آوٹ پوسٹ پر حملہ کیا ۔ میانمار لیڈر آنگ سان سوچی کے دفتر نے بتایا کہ فوجی اور بارڈر پولیس نے ان حملوں کا جواب دیا جس میں 12 سیکوریٹی ارکان عملہ اور 77 روہنگیائی ہلاک ہوئے ۔ روہنگیا کی تائید کرنے والوں نے سوشیل میڈیا پر دیہاتوں پر فوج کے دھاوں کی اطلاع دی ۔ انہوں نے کئی ویڈیوز پوسٹ کیے جس میں دیہاتیوں کو پناہ کے لیے پہاڑوں کی طرف بھاگتے دکھایا گیا ۔ یہ سماجی کارکن باوثوق اطلاعات فراہم کرتے ہیں لیکن آزادانہ طور پر اس کی توثیق نہیں ہوسکی کیوں کہ حکومت نے صحافیوں اور دیگر بیرونی نمائندوں کو اجازت کے بغیر علاقہ میں جانے کی پابندی عائد کردی ہے ۔ بدھسٹ اکثریتی میانمار کے ایک روہنگیائی مسلمان نورالکبیر نے بتایا کہ میانمار کے سپاہیوں اور بدھسٹوں کے ان کے علاقوں میں داخل ہونے کے بعد کئی روہنگیائی مسلمان اپنے گاؤں چھوڑ کر فرار ہوگئے ہیں ۔

کبیر نے بتایا کہ ایک چار سالہ لڑکے کو انہوں نے بچایا جو سرحد کی طرف جارہا تھا ۔ وہ تنہا تھا اور رو رہا تھا ۔ جب میں نے والدین کے بارے میں پوچھا تو وہ صرف رونے لگا ۔ اسے میں اپنے ساتھ لے آیا ۔ رشیدہ خاتون نامی 40 سالہ خاتون دیگر 30 روہنگیائی مسلمانوں کے ہمراہ بنگلہ دیش میں داخل ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ سارا خاندان میانمار میں ہی ہے اور ان کا کوئی پتہ نہیں ہے ۔ فرید عالم نامی ایک شخص نے بتایا کہ تقریبا دو ہزار افراد بنگلہ دیش پہنچے ہیں ۔ بنگلہ دیشی حکام نے آج کہا کہ وہ مزید کسی روہنگیائی مسلمان کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ یہاں پہلے ہی سے تقریبا چار لاکھ میانمار کے شہری موجود ہیں ۔ اور اس کی وجہ سے سماجی ، معاشی اور ماحولیاتی مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔ رکھیسنے ریاست میں تقریبا ایک ملین روہنگیائی مسلمان آباد ہیں اور 2012 سے وہ نسلی تشدد کا شکار ہیں ۔ بنگلہ دیش نے میانمار کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے ۔ بنگلہ دیش کے دفتر خارجہ نے یہ بیان اس وقت جاری کیا جب میانمار کے نمائندہ برائے ڈھاکہ نے سکریٹری ایشیا اینڈ پیسفک ریجن محبوب الزماں سے ملاقات کی اور تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔۔
میانمار میں تشدد پر ہندوستان کا اظہار تشویش
نئی دہلی ۔ 26 ۔ اگست : ( سیاست ڈاٹ کام ) : ہندوستان نے میانمار میں تشدد بھڑک اٹھنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس صورتحال سے نمٹنے میں حکومت میانمار کی بھر پور تائید کا اعلان کیا ۔ وزارت امور خارجہ کے ترجمان اویش کمار نے کہا کہ میانمار میں تشدد کے تازہ واقعات اور شمالی رکھیسنے ریاست میں دہشت گردوں کے حملوں پر ہندوستان کو تشویش ہے ۔ میانمار سیکوریٹی فورسیس کی ہلاکتوں پر بھی ہمیں افسوس ہے ۔ اس طرح کے حملوں کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت میانمار کی بھر پور تائید کرتے ہیں ۔ روہنگیا دہشت گردوں نے شمالی رکھیسنے اسٹیٹ میں سرحدی چوکیوں کا محاصرہ کرلیا تھا جس میں تقریبا 89 افراد بشمول ایک درجن سیکوریٹی فورسیس ہلاک ہوگئے ۔۔

 

TOPPOPULARRECENT