Saturday , November 18 2017
Home / کھیل کی خبریں / روی شاستری نے میکس ویل کے خیالات کو مستردکردیا

روی شاستری نے میکس ویل کے خیالات کو مستردکردیا

کینبرا۔ 20 جنوری (سیاست ڈاٹ کام )ہندوستانی ٹیم کے ڈائریکٹر روی شاستری نے گلین میکس ویل کی جانب سے ہندوستانی بیٹسمینوں کو خود غرض قرار دینے کے خیال کومسترد کرتے ہوئے بولروں کو مزید محنت کا مشورہ دیا ہے۔آسٹریلیا کے دورے پر موجود ہندوستانی ٹیم نے بیٹسمینوں کی شاندار کارکردگی کی بدولت 4 میچوں میں بالترتیب 309، 308 ‘ 295 اور323  رنز بنائے لیکن ان کے بولرز ہر موقع پر بڑے مجموعے کے دفاع میں ناکام رہے۔ابتدائی دونوں میچوں میں روہت شرما جبکہ تیسرے اور چوتھے  میچ میں ویراٹ کوہلی نے سنچری اسکور کرکی ہے لیکن وہ بھی ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار نہ کرسکے۔ہندوستانی بیٹسمینوں کی شاندار کارکردگی کے باوجود تیسرے میچ میں مہمان ٹیم سے یقینی فتح چھیننے والے گلین میکس ویل نے ہندوستانی کھلاڑیوں کو خود غرض قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستانی بیٹسمینس شاید اس بات کو یقینی بنارہے تھے کہ وہ کوئی سنگ میل عبور کرلیں۔ کچھ لوگ سنگ میل کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور کچھ نہیں۔ میکسویل نے کہا کہ اگر آپ کے لئے سنگ میل اتنی زیادہ اہمیت رکھتے ہیں تو پھر انہیں ہی پورا کریں۔ صرف یہ بیان نہیں بلکہ ہندوستانی کھلاڑیوں اور ٹیم کی اہم موقعوں پر کارکردگی نے بھی اس تاثر کو تقویت دی کہ ہندوستانی بیٹسمینس سنگ میل کے حصول کیلئے کھیلتے ہیں۔

تاہم روی شاستری نے آسٹریلیائی کھلاڑی  کے اس بیان پر براہ راست اپنے کھلاڑیوں کا دفاع کرتے ہوئے بولروں کو مزید محنت کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کھلاڑی سنگ میل پر توجہ دیتے تو کوہلی کبھی بھی تیز ترین سات ہزار رنز نہ بنا پاتے، اگر ایسا ہوتا تو شاید انہیں اس کیلئے مزید 100 اننگز درکار ہوتیں۔ اگر روہت شرما کی بات کی جائے تو اگر وہ ریکارڈ پر توجہ مرکوز رکھتے تو کبھی بھی دو ڈبل سنچریاں یا 264 رنز کی اننگز نہیں کھیل پاتے۔ انہوں نے اس تاثر کومسترد کیا کہ ہندوستانی ٹیم آسٹریلیا کے اہم بولروں کی غیر موجودگی میں تیسرے درجے کے بولنگ شعبہ کے سامنے بھی بڑا مجموعہ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ شاستری کے بموجب یہ بولرز ناتجربہ کار ضرور ہیں لیکن ان کی صلاحیتوں پر شک نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ کافی  ٹوئنٹی20  اور ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر آئے ہیں۔ سابق کرکٹر نے اپنے بولرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تیزی سے سیکھنے کی اور بحیثیت بولنگ یونٹ تسلسل کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہے، اگر وہ ابتدائی میچوں میں کی گئی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہیں تو یقینا مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ۔

TOPPOPULARRECENT