Friday , February 23 2018
Home / اداریہ / روی شنکر کا نیا شوشہ

روی شنکر کا نیا شوشہ

ہو کے تنہا جو آگئے ہو تم
آج پھر ہوگیا کوئی تنہا

روی شنکر کا نیا شوشہ
آرٹ آف لیونگ کے بانی روی شنکر نے آج ایک نیا شوشہ چھوڑتے ہوئے یہ دعوی کردیا کہ مسلمانوں نے بابری مسجد کو اس کے اصل مقام سے کسی اور مقام کو منتقل کرنے سے اتفاق کرلیا ہے ۔ روشی شنکر کا کہنا ہے کہ ان کی سرکردہ مسلم ذمہ داران اور نمائندوں سے ملاقات اور بات چیت ہوئی ہے اور اس کے مثبت اشارے ملنے شروع ہوگئے ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ ان کے ساتھ ملاقات کرنے والوں نے بابری مسجد کو اس کے اصل مقام سے کسی اور مقام کو منتقل کرنے کی تجویز سے اتفاق کرلیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سے ملاقات کرنے والوں میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایگزیکیٹیو رکن مولانا سلمان حسین ندوی ‘ یو پی سنی وقف بورڈ کے صدر نشین ظفر احمد فاروقی ‘ ٹیلے والی مسجد کے مولانا واصف حسن اور سبکدوش آئی اے ایس عہدیدار ڈاکٹر انیس انصاری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ایسے لوگوں کے نام بھی آرٹ آف لیونگ کے بیان میں بتائے گئے ہیں جن کا اس سارے مسئلہ سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے اور وہ صرف بابری مسجد مسئلہ پر ہونے والی سازشوں کے آلہ کار بن رہے ہیں۔ جہاں تک آرٹ آف لیونگ کے روی شنکر کا مسئلہ ہے نہ وہ کسی فریق کے نمائندے ہیں اور نہ ہی کسی نے ان کو بات چیت کا اختیار دیا ہے ۔ اسی طرح جو لوگ مسلمانوں کے نام پر اس بات چیت میں شریک ہوئے ہیں ان کو بھی کسی نے نہ اپنا نمائندہ بنایا ہے اور نہ کسی سے بات چیت کا اختیار دیا ہے ۔ یہ لوگ صرف اپنے طور پر بات چیت کرتے ہوئے ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو تنازعہ کے حل کی بجائے اس کو مزید پیچیدہ بنانے کا موجب ہوسکتا ہے ۔ روی شنکر کو خود ہندو برادری میں کسی نے اس تنازعہ پر بات چیت کا اختیار نہیں دیا ہے اور جو مسلمان اس میں بات کر رہے ہیں وہ بھی مجاز افراد نہیں ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ اس مسئلہ پر سپریم کورٹ میں سماعت ہو رہی ہے اور عدالت نے اس کی سماعت کا آغاز بھی کردیا ہے اس طرح کے شوشے چھوڑتے ہوئے ماحول کو پراگندہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اس کے سیاسی اور کچھ اور بھی مقاصد ہوسکتے ہیں لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اس طرح کے شوشے چھوڑنے والے کسی بھی فریق کے نمائندے نہیں ہیں اور نہ ہوسکتے ہیں۔
جہاں تک مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایگزیکیٹیو رکن سلمان حسن ندوی کی بات چیت میں شرکت کا سوال ہے تو ان کا یہ عمل بھی انتہائی نامناسب ہے ۔ انہیں بھی کسی نے یہ اختیار نہیں دیا ہے کہ وہ غیر ذمہ دار گوشوں سے بات چیت کریں۔ وہ بھی ایسے وقت میں جبکہ حیدرآباد میں مسلم پرسنل لا بورڈ کا اجلاس ہورہا ہے ۔ پرسنل لا بورڈ کو اس مسئلہ پر اپنے موقف کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے ۔ روی شنکر کے اس نئے شوشہ کا دوسرا پہلو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے مسلم پرسنل لا بورڈ کے تعلق سے مسلمانوں میں غلط فہمی اور الجھن پیدا کرنے کے مقصد سے تو یہ شوشہ نہیںچھوڑا ہے ؟ ۔ اب جبکہ مسلم پرسنل لا بورڈ کا حیدرآباد میں اجلاس ہو رہا ہے ۔ اس میں تین طلاق کے علاوہ بابری مسجد مسئلہ اور مسجد کے انہدام سے متعلق مقدمہ کے مختلف پہلووں کا جائزہ لیا جانے والا ہے اور مسلمان اس اجلاس پر نظریں لگائے ہوئے ہیںایسے میں کسی ایک فرد کو ملک بھر کے سامنے پیش کرتے ہوئے خود پرسنل لا بورڈ کے تعلق سے عوام میں شکوک اور غلط فہمیاں پیدا کرنے اور بورڈ کو مسلمانوں کی نظر میں رسوا کرنے سازش بھی ہوسکتی ہے ۔ بورڈ نے اگر کسی کو بات چیت کا اختیار دیا ہے تو اسے بھی واضح کرنے کی ضرورت ہے اور نہیں دیا ہے تو اس سازش کا پردہ فاش کرنے کیلئے بھی اقدام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عام مسلمانوں کی نظر میں بورڈ کے تعلق سے غلط فہمی پیدا کرنے اور انہیں گمراہ کرنے کی کوششیں کامیاب ہونے نہ پائیں۔
مسلمانوں کے تقریبا ہر گوشہ اور خود مسلم پرسنل لا بورڈ نے بارہا یہ واضح کردیا ہے کہ بابری مسجد مسئلہ پر کوئی مصالحت نہیں ہوسکتی ۔ عدالت میں اس کی سماعت چل رہی ہے ۔ ملک کی عدالت عظمی اس کی سماعت کر رہی ہے اور عدالت کا فیصلہ ہی سب کیلئے قابل قبول ہونا چاہئے ۔ مسلمان عدالت کے فیصلے کو قبول کرینگے اور اس کا احترام کرینگے ۔ اس کے باوجود کسی غیر ذمہ دار گوشہ سے کوئی شوشہ چھوڑنا اور مسلمانوں کے ایک ذمہ دار اور باوقار ادارہ کے امیج کو متاثر کرنے کی کوشش کرنا انتہائی مذموم کوشش ہے ۔ جہاں تک مسجد کو منتقل کرنے کی تجویز کو قبول کرنے کا سوال ہے تو یہ تجویز کسی کیلئے بھی قابل قبول نہیں ہوسکتی ۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے کسی کو یہ اختیار نہیں دیا ہے کہ وہ مسجد کو منتقل کرنے سے اتفاق کریں ۔ اس سارے مسئلہ میںعدالت کا فیصلہ ہی قابل قبول ہوسکتا ہے اور ہر فریق کو عدالت کا فیصلہ قبول کرنا ہوگا ۔ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس مسئلہ پر ہونے والی سازشوں کے خلاف مسلمانوں کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT