Friday , July 20 2018
Home / اداریہ / روی شنکر کی مصالحت ‘ بی جے پی کو فائدہ

روی شنکر کی مصالحت ‘ بی جے پی کو فائدہ

برسوں سنوارتے رہے کردار ہم مگر
کچھ لوگ بازی لے گئے صورت سنوار کے
روی شنکر کی مصالحت ‘ بی جے پی کو فائدہ
گذشتہ دو تا تین دہائیوں سے ملک میں یہ روایت رہی ہے جب کبھی انتخابات کا موسم ہوتا ہے کوئی نہ کوئی متنازعہ مذہبی مسئلہ چھیڑ دیا جاتا ہے ۔ بیشتر موقعوں پر اس طرح کی کوششیں ثمر آور ثابت ہوئی ہیں اور ایک مخصوص سیاسی جماعت کو ان کوششوں سے خاطر خواہ سیاسی فائدہ بھی ہوا ہے ۔ یہی وجہ رہی کہ اس روایت کو ہر انتخابی موسم میں نیا استحکام حاصل ہوتا ہے ۔ اب جبکہ گجرات اور ہماچل پردیش میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور اس کے بعد 2019 کے عام انتخابات کی الٹی گنتی کا آغاز ہوجائیگا تو ایک منظم انداز میں بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی مسئلہ کو چھیڑ دیا گیا ہے ۔ اب آرٹ آف لیونگ کے پنڈت روی شنکر نے ان کوششوں کا از خود ذمہ اٹھالیا ہے اور اس سلسلہ میں وہ کئی گوشوں سے ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں۔ اب یہ پتہ نہیں ہے کہ جن لوگوں سے وہ ملاقاتیں کرنے لگے ہیں آیا وہ واقعی بابری مسجد مسئلہ کے فریق ہیں بھی یا نہیں۔ بات چیت کے ذریعہ مسئلہ کے حل کی کوششیں نہ اب تک ثمر آور ہوئی ہیں اور نہ مستقبل میں ان کی کامیابی کی امید کی جاسکتی ہے ۔ یہ مسئلہ اس قدر سنگین اور حساس نوعیت کا ہے کہ اس پر سپریم کورٹ کو ہی فیصلہ کرنا ہوگا اور تمام فریقین کو اس فیصلے کا احترام کرنا ہوگا ۔ سری سری روی شنکر کی جانب سے جو سرگرمی شروع ہوئی ہے وہ مسئلہ کی یکسوئی اور حل کی کوشش نہیں ہے بلکہ یہ در اصل بی جے پی کو انتخابی فائدہ پہونچانے اور آئندہ انتخابات کیلئے ماحول تیار کرنے کی کوشش ہے ۔ روی شنکر ماضی میں بھی اس مسئلہ پر مصالحت کی کوشش کرچکے ہیں اور اس وقت بھی انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا ۔ وہ درمیان میں خاموش ہوگئے تھے لیکن اب وہ دوبارہ سرگر م ہوگئے ہیں۔ وہ ایسے وقت میں سرگرم ہوئے ہیں جبکہ ہماچل پردیش اور گجرات میں اسمبلی انتخابات چل رہے ہیں۔ ہماچل میں تو خیر پولنگ ہو بھی چکی ہے لیکن گجرات اسمبلی انتخابات پر اس طرح کی کوششوں کا لازمی سیاسی اثر ہوگا اور ایسا لگتا ہے کہ موجودہ وقت میں اس سرگرمی کا مقصد بھی یہی ہے ۔ روی شنکر یہ دعوی بھی کر رہے ہیں کہ مسلمان بھی مندر بنانے کے مخالف نہیں ہیں اور وہ کھلے دل سے ان سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ اب یہ خود روی شنکر بتا سکتے ہیں کہ ان سے کون مسلم نمائندوں نے ملاقات کی ہے ۔
بی جے پی یا اس کی ہمنوا تنظیموں کی جانب سے اکثر انتخابات کے موقع پر فرقہ واری ماحول گرم کیا جاتا ہے ۔ یو پی کے اسمبلی انتخابات میں بھی یہی کچھ کیا گیا ۔ پارٹی قائدین اور امیدواروں کے علاوہ ملک کے وزیر اعظم نے خود شمشان اور قبرستان جیسے ریمارکس کئے تھے ۔ ہولی اور عید پر برقی سربراہی سے متعلق تبصرے کرتے ہوئے عوام کے ذہنوں کو پراگندہ کیا تھا اور اب بھی یہی طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے ۔ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے ہر سیاسی جماعت کوشش کرتی ہے اور ہر کسی کو اس کا حق بھی حاصل ہے لیکن اب انتخابات جمہوری عمل کا حصہ کم اور فرقہ واری ایجنڈہ کی تکمیل کا ذریعہ زیادہ بن گئے ہیں۔ جو گوشے اب بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی تنازعہ کے حل کیلئے سرگرم ہونے کا دعوی کرنے لگے ہیں انہیں خود اپنی ہی برادریوں میں قبولیت کی سند حاصل نہیں ہے اس کے باوجود وہ صرف سیاسی منظر نامہ پر اپنے وجود کو منواتے ہوئے اپنے پس پردہ عزائم اور ایجنڈہ کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں۔ اسمبلی انتخابات ہوں کہ پارلیمانی انتخابات یہ سب عوامی مسائل کی بنیاد پر لڑے جانے چاہئیں۔ جمہوریت کا یہی اصول ہے ۔ عوام کے سامنے اب تک کئے گئے کاموں کی تفصیل اور مستقبل کے ایجنڈہ کو پیش کرتے ہوئے ان کی تائید طلب کی جانی چاہئے لیکن اب یہ سب کچھ کہیں پس منظر میں چلا گیا ہے ۔
روی شنکر کے عزائم کے تعلق سے شکوک اسی لئے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے اس کیلئے ایسے وقت کا انتخاب کیا ہے جب گجرات میں انتخابات ہونے والے ہیں ۔ بی جے پی ایسی صورتحال سے فائدہ حاصل کرنے میں مہارت رکھتی ہے ۔ ماضی میں جب گجرات فساد کے تعلق سے تہلکہ نے اسٹنگ آپریشن کرکے حیرت انگیز انکشافات کئے تھے اس وقت بھی بی جے پی نے اپنے گناہ پر پشیمانی کا اظہار کرنے کی بجائے اس کا سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی حکمت عملی اختیار کی تھی اور اس کا اسے خاطر خواہ فائدہ ہوا تھا اور اس کا سلسلہ اب بھی گجرات میں چل رہا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی بھی تنازعہ کو حل کرنے کیلئے سب سے پہلے تو سنجیدگی اور خلوص نیت ہونا چاہئے اور موجودہ کوششیں دونوں سے عاری نظر آتی ہیں۔ عوام کو اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور جذبات میں بہنے کی بجائے فہم و فراست سے کام لینا ہوگا ۔یہی حالات کا تقاضہ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT