Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / رپورٹ پیش کرنے بی سی کمیشن کو چیف منسٹر کی طلبی کا انتظار

رپورٹ پیش کرنے بی سی کمیشن کو چیف منسٹر کی طلبی کا انتظار

جلد بازی میں رپورٹ کی تیاری بے فیض ، قانونی رائے حاصل کرنے حکومت کی کوشش
حیدرآباد۔/10جنوری، ( سیاست نیوز) مسلم تحفظات میں اضافہ کے مسئلہ پر تلنگانہ بی سی کمیشن نے حکومت کی ہدایت پر جلد بازی میں رپورٹ تو تیار کرلی لیکن گذشتہ 4 دن سے کمیشن کو چیف منسٹر کے کال کا انتظار ہے۔ حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر دیگر مصروفیات کے باعث کمیشن سے ملاقات کے موقف میں نہیں ہیں تاہم اندرون دو یوم کمیشن کی رپورٹ حاصل کرلی جائے گی۔ حکومت 17 اور 18 جنوری کو ہونے والے اسمبلی اور کونسل کے اجلاس میں اقلیتی بہبود پر مباحث کا منصوبہ رکھتی ہے اور اسی دوران چیف منسٹر کی جانب سے مسلم تحفظات کے فیصد میں اضافہ کیلئے قرارداد پیش کی جاسکتی ہے۔ حکومت تحفظات کے سلسلہ میں قانون سازی اور قرارداد کے درمیان کوئی فیصلہ کرنے سے قبل قانونی رائے حاصل کرنے کی خواہاں ہے۔ تاہم چیف منسٹر کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ قانون سازی کے بجائے قرارداد کی منظوری اور مرکز کو روانگی کے امکانات زیادہ ہیں۔ چیف منسٹر نے حال ہی میں بی سی کمیشن، سدھیر کمیشن اور ایڈوکیٹ جنرل کے ساتھ مشترکہ اجلاس میں کہا تھا کہ اسمبلی میں قرارداد منظور کرکے مرکز کو روانہ کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ 11 جنوری تک اسمبلی اجلاس کے سابقہ پروگرام کے مطابق بی سی کمیشن کو جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی تاہم اچانک اسمبلی کو سنکرانتی کی تعطیلات کا اعلان کردیا گیا اور 17 اور 18 کو اسمبلی اجلاس ہوگا۔ کمیشن نے دن رات کام کرتے ہوئے چیف منسٹر کی مرضی کے مطابق رپورٹ تو تیار کرلی ہے تاہم انہیں پیشکشی میں انتظار کی زحمت اٹھانی پڑ رہی ہے۔ کمیشن خود بھی اس بات پر حیرت میں ہے کہ اس قدر حساس مسئلہ پر رپورٹ حاصل کرنے میں حکومت غیر سنجیدہ کیوں ہے۔ رپورٹ کے حصول کے بعد ماہرین سے مشاورت کے ذریعہ ہی قرارداد تیار کرنی پڑے گی۔ دوسری طرف بی سی تنظیموں نے مسلم تحفظات میں اضافہ کے خلاف اپنی مہم میں شدت پیدا کردی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی سی تنظیموں نے حکومت کو انتباہ دیا ہے کہ اگر مسلمانوں کو بی سی زمرہ میں تحفظات کے فیصد میں اضافہ کیا جائے تو ریاست گیر سطح پر احتجاج منظم کیا جائے گا۔ بی جے پی نے بھی تحفظات کے خلاف احتجاج کی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ کانگریس اور دیگر جماعتیں اسمبلی میں مسلم تحفظات کی تائید کرتے ہوئے تحفظات کی فراہمی کے طریقہ کار کی مخالفت کرسکتی ہیں کیونکہ صرف قرارداد کی منظوری سے تحفظات کا حصول ممکن نہیں۔ بی سی طبقات کیلئے جدوجہد کرنے والے رکن اسمبلی آر کرشنیا نے کہا کہ وہ مسلمانوں کو تحفظات کے خلاف نہیں ہیں تاہم انہیں علحدہ زمرہ میں تحفظات فراہم کئے جانے چاہیئے کیونکہ بی سی طبقات کو 26 فیصد موجودہ تحفظات پہلے ہی ناکافی ہیں اور مسلمانوں کو اسی زمرہ میں شامل کرنے سے پسماندہ طبقات سے ناانصافی ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT