Saturday , May 26 2018
Home / Top Stories / رکنیت اسمبلی منسوخ ہونے پر دو کانگریس ارکان کی بھوک ہڑتال

رکنیت اسمبلی منسوخ ہونے پر دو کانگریس ارکان کی بھوک ہڑتال

کومٹ ریڈی اور سمپت کمار نے گاندھی بھون میں 48 گھنٹوں کا احتجاج شروع کردیا۔ صدر پی سی سی و مختلف قائدین کا اظہار یگانگت
حیدرآباد 13 مارچ (سیاست نیوز) اسمبلی کی رکنیت منسوخ کردینے کے خلاف کانگریس کے دو ارکان اسمبلی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور سمپت کمار نے آج یہاں گاندھی بھون میں 48 گھنٹوں کی بھوک ہرتال کا آغاز کیا جس کی بجٹ سیشن تک معطل کردہ کانگریس کے ارکان اسمبلی، ارکان قانون ساز کونسل کے علاوہ کانگریس کیڈر نے بھرپور تائید و حمایت کی۔ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ریاست کے مختلف مقامات پر کانگریس کے قائدین و کارکنوں نے احتجاج کیا۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے کہاکہ اصل مقابلہ کے سی آر کے ارکان خاندان اور تلنگانہ عوام کے درمیان ہے۔ اگر سوامی گوڑ پر حملہ ہوا ہے تو اس کے ویڈیو کلپنگ کو منظر عام پر لانے کا حکومت سے مطالبہ کیا اور اس کو ڈرامہ قرار دیا۔ انھوں نے کے سی آر ہٹاؤ تلنگانہ بچاؤ کا نعرہ دیا۔ گاندھی بھون کے احاطہ میں شروع کردہ احتجاجی بھوک ہڑتال سے اتم کمار ریڈی نے جذباتی انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت جمہوریت کو کچل رہی ہے۔ عوام سے کئے گئے ایک وعدے کو بھی پورا نہیں کیا گیا۔

اس کو اسمبلی اور کونسل میں اُٹھانے سے روکنے کیلئے حکومت نے ایک منظم سازش کے تحت کانگریس کے ارکان کو معطل کردیا اور دو ارکان کی رکنیت ختم کردی ہے۔ یہاں سے تلنگانہ عوام اور کے سی آر خاندان کے درمیان جنگ شروع ہوگئی ہے۔ ملک میں پہلی مرتبہ اصل اپوزیشن کو ایوان سے معطل کرتے ہوئے بجٹ منظور کیا جارہا ہے۔ عوامی مسائل اُٹھانے والے ارکان اسمبلی کو مارشلس کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ایوان سے باہر کردیا گیا ہے جو اپوزیشن کی توہین ہے۔ انھوں نے کہاکہ سوامی گوڑ کا بحیثیت مجاہد تلنگانہ وہ احترام کرتے ہیں مگر ان پر حملہ کرنے کا ناٹک کیا جارہا ہے۔ اگر حملہ ہوا ہے تو اس کے ویڈیو کلپس کو منظر عام پر لانے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ اتم کمار ریڈی نے کہاکہ تلنگانہ کی مخالفت کرنے والی مجلس کے قائد کو مائیک تھماکر ٹی آر ایس حکومت علیحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے والی کانگریس کی توہین کررہی ہے۔ ملک میں اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے والی تلنگانہ واحد ریاست ہے۔ گورنر کے خطبہ میں 12 فیصد مسلم تحفظات، 10 فیصد ایس ٹی تحفظات، کسانوں کی خودکشی، بے روزگاری کے مسئلہ کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔ سوامی گوڑ زحمی نہیں ہوئے، حکومت واویلا کررہی ہے۔

تلنگانہ میں کے سی آر اور ان کے ارکان خاندان کی غنڈہ گردی بڑھ گئی ہے۔ آئندہ انتخابات میں کانگریس پارٹی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ قائد اپوزیشن اسمبلی کے جانا ریڈی نے کہاکہ وعدوں سے انحراف کرنے والی ٹی آر ایس حکومت کی اُلٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔ ایک بھی انتخابی وعدے کو پورا نہ کرنے والی ٹی آر ایس کو اقتدار پر برقرار رہنے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔ اسمبلی اور اسمبلی کے باہر کانگریس کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اقتدار میں رہے یا اپوزیشن میں کانگریس پارٹی ہمیشہ عوام کے درمیان رہتی ہے۔ انھوں نے کانگریس قائدین و کارکنوں کو ریاست بھر میں احتجاج کرنے کا مشورہ دیا۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے عوامی مسائل کو اسمبلی و کونسل میں موضوع بحث بنانے سے روکنے کے لئے دونوں ایوانوں سے کانگریس کے ارکان کو معطل کرنے کا حکومت پر الزام عائد کیا اور کہاکہ کانگریس نے کے سی آر جیسے کئی قائدین کو دیکھا ہے۔ 2019 ء میں کانگریس بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ انھوں نے کہاکہ پارلیمنٹ میں کے سی آر کی دختر اور ٹی آر ایس کے دوسرے ارکان پارلیمنٹ احتجاج کرسکتے ہیں مگر اسمبلی میں کانگریس کو احتجاج کرنے کی کوئی اجازت نہیں دی جائے گی۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ کے سی آر خاندان کے 4 ارکان پہلے سے عہدوں پر ہیں اور ایک رکن کو راجیہ سبھا روانہ کیا جارہا ہے۔ اسمبلی رکنیت منسوخ کرنے پر جمہوریت کہاں برقرار رہے گی۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے رکنیت منسوخ کرنے کے فیصلے سے فوری دستبرداری اختیار کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ ملک کی کسی بھی اسمبلی میں ایسا فیصلہ نہ ہونے کا حوالہ دیا۔

ریاست کو پولیس راج میں تبدیل کردینے کا الزام عائد کیا۔ احتجاج کرنے والے کانگریس کارکنوں کو گرفتار کرنے کے خلاف سخت انتباہ دیا۔ سمپت کمار نے کہاکہ عوامی مسائل پر جدوجہد کرنے کیلئے انھیں عوام نے اسمبلی روانہ کیا ہے۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کیلئے وزارت سے مستعفی ہونے والے کومٹ ریڈی کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ کومٹ ریڈی نے کہاکہ تلنگانہ میں تغلق حکومت چل رہی ہے۔ ہمارا 48 گھنٹوں کا احتجاج حکومت کی ناکامیوں کو آشکار کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوگا۔ کے سی آر کو شکست دینے تک وہ آرام نہیں کریں گے۔ کانگریس کے رکن اسمبلی ریونت ریڈی نے رکنیت منسوخ کرنے کا اختیار اسپیکر اسمبلی کو نہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ گورنر کی موجودگی میں واقعہ پیش آیا ہے۔ یہ اختیار صرف گورنر کا ہے مگر اسپیکر نے رولز کے خلاف فیصلہ کیا ہے جو عدالت میں منسوخ ہوجائے گا۔ اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کو ہے۔ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے ارکان اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے کا اختیار اسپیکر کو ہے۔ ریونت ریڈی نے کہاکہ کے سی آر کی صحت ٹھیک نہ ہونے کی بات ان کے فرزند، دختر اور بھانجے نے ہی سب کو بتایا ہے۔ چیف منسٹر کی صحت کے بارے میں افواہ پھیلانے کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے اسمبلی پہونچنے والے کے سی آر کا برتھ انلائزر کرانے کا مطالبہ کیا۔ کے سی آر کا تلنگانہ کے لئے چیف منسٹر بننا منحوس ثابت ہورہا ہے۔ اس موقع پر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹریز ایس کے افضل الدین، سید عظمت اللہ حسینی، عظمیٰ شاکر، صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ محمد خواجہ فخرالدین، کانگریس قائدین فیروز خان، عامر جاوید کے علاوہ دوسرے قائدین موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT