Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / رکن اسمبلی تلگودیشم کی بھوک ہڑتال میں پنالہ لکشمیا کی شرکت

رکن اسمبلی تلگودیشم کی بھوک ہڑتال میں پنالہ لکشمیا کی شرکت

آر کرشنیا کی ہڑتال میں صدر پی سی سی کی شرکت فاش غلطی : وی ہنمنت راؤ کی تنقید

آر کرشنیا کی ہڑتال میں صدر پی سی سی کی شرکت فاش غلطی : وی ہنمنت راؤ کی تنقید
حیدرآباد ۔ 31 ڈسمبر (سیاست نیوز) سکریٹری اے آئی سی سی و رکن راجیہ سبھا مسٹر وی ہنمنت راؤ نے تلگودیشم پارٹی کے رکن اسمبلی کی بھوک ہڑتال میں صدر تلنگانہ کانگریس کمیٹی مسٹر پنالہ لکشمیا کی شرکت پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس کو ’’بے گانے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ‘‘ قرار دیا۔ تلگودیشم پارٹی سے اتحاد کا پنالہ لکشمیا سے استفسار کیا ڈگ وجئے سنگھ پر کانگریس کے اندرونی مسائل کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا۔ آج اسمبلی کے احاطہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر وی ہنمنت راؤ نے کہا کہ تلگودیشم پارٹی کا فرقہ پرست بی جے پی سے اتحاد ہے۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر پنالہ لکشمیا نے تلگودیشم کے رکن اسمبلی مسٹر آر کرشنیا کی جانب سے اہتمام کردہ بھوک ہڑتال میں شرکت کرتے ہوئے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ کانگریسیوں کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ تین دن قبل وہ مکتوب روانہ کرتے ہوئے پنالہ لکشمیا سے وضاحت طلب کئے تھے جواب نہ ملنے کی کی صورت میں آج میڈیا سے رجوع ہوئے ہیں۔ کانگریس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی کے زیراہتمام اسکالر شپس کیلئے احتجاج کیا جاسکتا تھا۔ حیرت کی بات یہ ہیکہ اس وقت شہر میں کانگریس کے جنرل سکریٹری مسٹر ڈگ وجئے سنگھ اور سکریٹری مسٹر آر کنٹیا موجود تھے۔ پوچھا کہ کیا ان کے علم میں لاکر صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے دھرنے میں شرکت کی تھی۔ کانگریس کے کارکن جاننا چاہتے ہیں کہ پنالہ لکشمیا اس کی وضاحت کریں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی رابطہ کمیٹی میں تلنگانہ کی پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ میں تحریک چلانے والے ارکان پارلیمنٹ سابق ارکان پارلیمنٹ کو نظرانداز کیا جارہا ہے اور انہیں نااہل سمجھا جارہا ہے۔ ڈگ وجئے سنگھ نے رابطہ کمیٹی کے ارکان کو اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر قائدین اور تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی عاملہ کے ارکان کو نظرانداز کردیا ہے۔ ڈگ وجئے سنگھ وہ قائد ہیں جنہیں عوامی منتخب حکومت کا خاتمہ کرتے ہوئے صدر راج نافذ کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ تلنگانہ کی نمائندگی کرنے والے کانگریس کے ارکان اسمبلی پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ پارٹی کے قائدین ان سے بات کرنے کیلئے تیار بھی نہیں ہیں۔ جاتے ہیں تو جانے دو کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ انہیں سمجھانے کی کوشش بھی نہیں کی جارہی ہے اور نہ ہی کوئی ذمہ داری قبول کرنے کیلئے تیار ہے۔ تلنگانہ میں آج بھی آندھرائی قائد ڈاکٹر کے وی پی رامچندر راؤ کی مداخلت جاری ہے۔ کوآرڈینیشن کمیٹی کے ارکان کو اہمیت دی جارہی ہے مگر ان کی کارکردگی صفر ہے۔

TOPPOPULARRECENT