Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / رکن اسمبلی کانگریس سی رام موہن کی ٹی آر ایس میں شمولیت

رکن اسمبلی کانگریس سی رام موہن کی ٹی آر ایس میں شمولیت

لکشما ریڈی کے توسط سے چیف منسٹر سے ملاقات ، کانگریس کے قائدین حیرت زدہ
حیدرآباد ۔ 13 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل مسٹر محمد فاروق حسین کے انتباہ کے دوسرے دن یعنی آج کانگریس کے ایک رکن اسمبلی سی رام موہن ریڈی نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ کانگریس کے مزید کئی ارکان اسمبلی ٹی آر ایس سے رابطے میں ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ کل آل انڈیا کانگریس کے جنرل سکریٹری مسٹر ڈگ وجئے سنگھ سے مسٹر فاروق حسین نے شکایت تھی کہ پارٹی میں انہیں اور دیگر سینئیر قائدین کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ ٹکٹوں کی تقسیم اور دیگر اہم معمولات میں ان سے کوئی رائے مشورہ نہیں کیا جارہا ہے ۔ کانگریس میں رہنا یا پارٹی چھوڑ دینا ڈگ وجئے سنگھ سے دریافت اور پارٹی کے تازہ حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا ۔ اس کے دوسرے ہی دن آج ضلع محبوب نگر کے اسمبلی حلقہ مکتھل کی نمائندگی کرنے والے کانگریس کے رکن اسمبلی مسٹر سی رام موہن ریڈی ریاستی وزیر صحت مسٹر لکشما ریڈی کے ساتھ چیف منسٹر کیمپ آفس پہونچکر ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے ٹی آر ایس کا کھنڈوا پہناتے ہوئے پارٹی میں ان کا خیر مقدم کیا ۔ واضح رہے کہ مسٹر سی رام موہن ریڈی سابق ریاستی وزیر مسز ڈی کے ارونا کے بھائی ہیں ۔ محبوب نگر ضلع پرجا پریشد کے اجلاس میں ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی کی جانب سے انہیں تھپڑ رسید کرنے پر پردیش کانگریس کمیٹی نے تلنگانہ کے تمام اضلاع ہیڈکوارٹرس پر احتجاج کرتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی اور ضلع محبوب نگر میں ایک احتجاجی جلسہ عام بھی منعقد کیا تھا تاہم مسٹر سی رام موہن ریڈی آج صبح اچانک چیف منسٹر آفس پہونچکر ٹی آر ایس میں شامل ہوجانے پر کانگریس کے قائدین نے حیرت کا اظہار کیا ہے ۔ ٹی آر ایس میں شمولیت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر سی رام موہن ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کے ترقیاتی و فلاحی کاموں سے وہ بے حد متاثر ہیں ۔ اپنے اسمبلی حلقہ مکتھل کو ترقی دینے کے لیے وہ ٹی آر ایس میں شامل ہورہے ہیں ۔ انہیں ٹی آر ایس میں شامل ہونے کی کسی نے ترغیب نہیں دی ہے ۔ وہ اپنی خودی سے حکمران جماعت میں شامل ہورہے ہیں ۔ ان کی بہن ڈی کے ارونا کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کی سیاست الگ ہے ۔ ان کی بہن ٹی آر ایس میں شامل نہیں ہوں گی ۔ کانگریس میں ہی رہیں گی ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کانگریس کے مزید 2 تا 3 ارکان اسمبلی ٹی آر ایس سے رابطے میں ہے اور ٹی آر ایس کے قائدین پارٹی تبدیل کرنے کے لیے ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں ۔ تلگو دیشم ارکان اسمبلی کی ٹی آر ایس میں شمولیت کا سلسلہ ختم ہوتے ہی کانگریس ارکان اسمبلی کی ٹی آر ایس میں شامل ہونے کا سلسلہ شروع ہوا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT