Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / رکھائین میں 1000 روہنگیا مسلمانوں کا قتل عالم، 2,70,000 بنگلہ دیش میں داخل

رکھائین میں 1000 روہنگیا مسلمانوں کا قتل عالم، 2,70,000 بنگلہ دیش میں داخل

فوجی کارروائیوں اور تشدد میں مسلمانوں کے ہزاروں گھر نذرآتش، مظلوم پناہ گزینوں کی مدد کیلئے صدر ترکی اردغان کا اعلان

جنیوا ۔ 8 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) مائنمار کی ریاست رکھائین میں روہنگیا عسکریت پسندوں کی جانب سے ایک پولیس چوکی پر مبینہ حملے میں 15 پولیس اور سیکوریٹی اہلکاروں کی مبینہ ہلاکت کے بعد 25 اگست سے پھوٹ پڑنے والی تشدد کی تازہ لہر اور مسلمانوں کے خلاف فوجی مظالم کے نتیجہ میں کم سے کم 1000 افراد ہلاک اور دیگر کئی زخمی ہوچکے ہیں۔ اس دوران 2,70,000 سے زائد بے یار و مددگار روہنگیا مسلم مرد خواتین اور بچے اپنی جان بچانے کیلئے بے سروسامان کی حالت میں سرحد عبور کرتے ہوئے بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں۔ اقوام متحدہ پناہ گزین ادارہ اقوام متحدہ ہائی کمیشن برائے پناہ گزین نے کہا ہیکہ لاکھوں روہنگیا پناہ گزین بنگلہ دیش میں قائم شدہ پناہ گزیں کیمپوں میں کسمپرسی کی حالت میں زندگی گذارنے پر مجبور ہیں جہاں جنوب مشرقی علاقہ کاکس بازار میں پناہ گزینوں کے تازہ ترین سیلاب امڈ پڑنے سے پہلے بھی تقریباً 34000 روہنگیا مسلمان پناہ گزیں تھے۔ ان میں حاملہ خواتین، زچہ مائیں، نومولود بچے اور ان کے خاندان بھی شامل ہیں جو بے پناہ مایوس، بھوک، افلاس اور تھکن کی حالت میں پہنچے تھے، اقوام متحدہ کے اس ادارہ نے اندیشہ ظاہر کیا ہیکہ تقریباً 300,000 روہنگیا پناہ گزین بنگلہ دیش میں داخل ہوں گے۔ مائنمار میں اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی برائے انسانی حقوق یانگ ہی لی نے کہا کہ ’’غالباً 1000 یا اس سے زائد افراد پہلے ہی ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان میں دونوں طرف کے افراد شامل ہیں لیکن یہ غالب روہنگیا آبادی والا علاقہ تھا‘‘۔ بدھ مت کے ماننے والوں کے اس اکثریتی ملک میں روہنگیائی مسلمانوں کے خلاف تعصب و امتیازی سلوک کی ایک طویل تاریخ ہے جنہیں بنگلہ دیش کے غیرقانونی مہاجرین قرار دیتے ہوئے مائنمار کی شہریت دینے سے انکار کیا جاتا رہا ہے حالانکہ گذشتہ کئی دہائیوں سے نسل در نسل اس ملک میں سکونت پذیر ہیں۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کیلئے بنگلہ دیش میں مزید پناہ گزین کیمپ قائم کرنے اور انہیں ضروری غذا، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اردغان کی شریک حیات آمنہ نے بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں پناہ گزینوں سے ملاقات کی اور ان پر ہونے والے مظالم کی داستان کی سماعت کے دوران اشکبار ہوگئیں۔ حکومت مائنمار نے 25 اگست اور مابعد کے تشدد میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی فہرست جاری کی ہے۔روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف آج عالم اسلام میں شدید احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ اقوام متحدہ پر زور دیا گیا کہ وہ مائنمار حکومت کے خلاف فوری قدم اٹھائے اور مسلمانوں پر ظلم و زیادتیوں کو روک دیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT