Thursday , January 18 2018
Home / فیچر نیوز / رہبری جب سے ہوئی ہے بزدلوں کا انتخاب

رہبری جب سے ہوئی ہے بزدلوں کا انتخاب

گجرات … فیصلہ کن سیاسی جنگ کی تیاری
مودی کو ترقی نہیں، راہول کے مذہب کی فکر

رشیدالدین
گجرات کیلئے سیاسی لڑائی فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہوچکی ہے۔ بی جے پی اور کانگریس نے مہم میں اپنی ساری توانائی اور طاقت کو جھونک دیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اپنا قلعہ بچانے کیلئے پوری فوج کے ساتھ میدان میں ہیں اور اس فوج کے سپہ سالار خود نریندر مودی دکھائی دے رہے ہیں جبکہ امیت شاہ وزیر باتدبیر کے رول میں ہیں۔ مرکزی وزارت سے 26 وزراء اور 8 ریاستوں کے چیف منسٹرس کو انتخابی مہم میں جھونک دیا گیا ۔ اپنی ریاستوں کے عوام کی فکر چھوڑ کر یہ چیف منسٹرس گجرات میں کیمپ کئے ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ مرکزی وزراء کو رائے دہندوں کے گھر گھر پہنچ کر مہم چلانے کی ذمہ داری دی گئی ۔ ان مرکزی وزراء نے شاید ہی اپنے حلقہ انتخاب میں رائے دہندوں کی اس قدر منت سماجت اور ان کے گھر پہنچ کر بی جے پی کیلئے ووٹ مانگے ہوں گے لیکن انہیں یہاں مودی کا قلعہ بچانے سب کچھ کرنا پڑ رہا ہے۔ کانگریس پارٹی نے اپنے یوراج اور ہونے والے صدر کو اسٹار کیمپنر کے طور پر عوام سے روبرو کیا ہے۔ راہول گاندھی ون میان آرمی کی طرح بی جے پی کی طرح مقابلہ کر رہے ہیں۔ گجرات میں کانگریس کا موقف اس قدر مستحکم نہیں کہ وہاں موجودہ حالات میں منظم فوج تیار کی جاسکے۔ بی جے پی پر گجرات الیکشن کا خوف کچھ اس قدر طاری ہے کہ پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن کو بھی آگے بڑھادیا گیا۔ مودی کو ہر حال میں یہ الیکشن جیتنا ہے ، بھلے ہی اس کیلئے کچھ کرنا پڑے۔ ایک ریاست کے اسمبلی الیکشن کیلئے کسی وزیراعظم کی اس قدر دلچسپی اور مرکزی حکومت کو مہم سے جوڑ دینا شاید ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے۔ ایسا ہونا اس لئے بھی تعجب سے خالی نہیں کیونکہ مودی کو ایک انجانا خوف ستا رہا ہے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی تازہ مسائل برقرار ہیں لیکن ساتھ میں گزشتہ پانچ برسوں میں گجرات میں وعدوں کی عدم تکمیل اور پٹیل برادری کی مخالفت نے بھی بی جے پی کی انتخابی راہ کو دشوار کردیا ہے۔

مودی اور امیت شاہ کے اشارہ کے بغیر کبھی گجرات میں پرندہ پر نہیں مارسکتا تھا۔ آج ان دونوں کو عوامی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گجرات کے نتائج دونوں کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرسکتے ہیں ۔ نریندر مودی جب سے گجرات کے چیف منسٹر بنے اور وہاں سے دہلی کا سفر طئے کیا شاید یہ پہلا الیکشن ہے جب انہیں غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی ۔ امیت شاہ کی عزت اور وقار داؤ پر ہے۔ انتخابات سے بی جے پی کے خوف کا واحد ثبوت انتخابی مہم کی تقاریر ہیں۔ مودی۔ امیت شاہ اوران کی ٹیم نے مسائل کی بجائے راہول گاندھی اور ان کے خاندان پر شخصی حملوں کا سہارا لیا ہے تاکہ کانگریس قیادت اور کیڈر کے حوصلوں کو پست کیا جاسکے۔ برخلاف اس کے کہ راہول گاندھی گجرات کی پسماندگی ترقی اور عوامی مسائل کو انتخابی موضوع بنا رہے ہے۔ بی جے پی نے جب گزشتہ پانچ برسوں میں عوام کی بھلائی اور ریاست کی ترقی کیلئے کام کیا ہے تو پھر اسے رائے دہندوں پر بھروسہ کیوں نہیں ۔ شخصی حملوں کا سہارا لینے کی ضرورت کیوں پڑی۔

انتخابی مہم کے سطح سے گرجانے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مودی ٹیم نے جو کل تک ملک بھر میں وکاس اور گجرات ماڈل کا پرچار کرتے رہی، آج وہ راہول گاندھی کے مذہب پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ دراصل گجرات ماڈل صرف نعرہ باقی رہ گیا لیکن ترقی پسماندگی میں بدل چکی ہے۔ ترقی کے نعرہ کے بجائے راہول گاندھی کے مذہب پر سوال اٹھانا وزیراعظم کو زیب نہیں دیتا۔ راہول گاندھی کا مذہب بھلے کچھ ہو ، اس سے عوام اور عوامی خدمت کا کیا تعلق ہے؟ کیا راہول گاندھی کا شادی کیلئے بی جے پی کے پاس کو رشتہ آیا ہے کہ لڑکے کے مذہب کی جانچ کی جارہی ہے۔ راہول گاندھی اگرچہ ابھی تک بیچلر ہیں لیکن ان کا رشتہ کسی بی جے پی والے کے گھر ہرگز نہیں جائے گا ، پھر کیوں بی جے پی اور سنگھ پر یوار کو ان کے مذہب کی فکر ہے ؟ دراصل الیکشن کو ترقی کے بجائے مذہبی رنگ دیتے ہوئے ہندو رائے دہندوں کو بھڑکانے کی سازش کے تحت یہ مسئلہ اٹھایا گیا۔ جب کبھی بی جے پی کا موقف کمزور ہوتا ہے تو وہ مذہبی جذبات کو بھڑکانے کا کام کرتی ہے کیونکہ سوائے مذہبی ایجنڈہ کے ترقی سے انہیں کوئی مطلب نہیں۔ گاندھی خاندان کو نشانہ بنانے کے لئے مودی نے ملک کو لوٹنے کا اس خاندان پر الزام عائد کردیا اور اس سلسلہ میں جن الفاظ کا استعمال کیا گیا وہ وزارت عظمی کے عہدہ کیلئے زیب نہیں دیتے۔ ہاں گجرات کے سابق چیف منسٹر کی حیثیت سے نریندر مودی اس طرح کے الفاظ کے استعمال کا ضرور حق رکھتے ہیں۔ جہاں تک گاندھی خاندان کی ملک پر حکمرانی کا سوال ہے ، ملک کی آزادی کے بعد سے 30 سال ایسے گزرے ،

جب یہ خاندان اقتدار سے دور رہا ۔ پارلیمنٹ میں اکثریت کے باوجود نرسمہا راؤ اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کو وزارت عظمیٰ پر فائز کیا گیا۔ خاندان کی بات اس شخص کیلئے زیب دیتی ہے ، جس کا اپنا خاندان ہو۔ خاندان رکھتے ہوئے اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ اس نے اپنے بیٹا ، بیٹی یا کسی رشتہ دار کو سیاست کے میدان میں نہیں لایا تو یہ بات قابل قدر اور قابل قبول ہوسکتی ہے لیکن یہاں تو وزیراعظم خود تن تنہا ہیں اور جس کے ذریعہ گھر کو بسانا تھا ، اسے تو لاوارث کی طرح سڑکوں کی خاک چھاننے کیلئے چھوڑ دیا گیا ۔ گاندھی خاندان کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو مخالفین بھی جدید ہندوستان کا معمار تسلیم کرتے ہیں ۔ دوسری وزیراعظم اندرا گاندھی کی بھلے ہی کئی غلطیاں ہوں گی لیکن انہوں نے پوکھرن نیوکلیئر تجربہ کے ذریعہ ہندوستان کو نیوکلیئر طاقت بنایا اور اس کارنامہ کو تاریخ فراموش نہیں کرسکتی۔ اس خاندان کے تیسرے وزیراعظم راجیو گاندھی کی عمر نے وفا نہیں کی ، اس کے باوجود ہندوستان کو جدید ٹکنالوجی اور کمپیوٹر ایج میں لیجانے کا سہرا ان کے سر ہے۔ نئی نسل کو کمپیوٹر اور ٹکنالوجی سے آراستہ کرتے ہوئے ترقی کی نئی امنگ پیدا کی جس کے بعد دنیا بھر میں ہندوستان کے نوجوانوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ۔ اس خاندان کے دو وزراء اعظم نے ملک پر اپنی جان نچاور کردی۔ جہاں تک پارٹی کا معاملہ ہے ، کیا نریندر مودی کو منموہن سنگھ جیسے ماہر معاشیات کی ملک کیلئے خدمات سے انکار ہے ؟ جس وقت امریکہ میں مالیاتی بحران کے سبب ساری دنیا متاثر تھی ، صرف چین اور ہندوستان نے اس کی مزاحمت کی اور دونوں کی معیشت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ نریندر مودی یہ الزامات دانستہ طور پر لگا رہے ہیں، یا پھر ملک کی تاریخ سے آنکھیں بند رکھنا چاہتے ہیں۔ آپ کی تقریری صلاحیت اور سرکاری مشنری کے استعمال سے کچھ لوگوں کو متاثر ضرور کیا جاسکتا ہے لیکن تاریخ کو بدلا نہیں جاسکتا۔ جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کے باوجود اگر گجرات کے عوام آپ کے ساتھ جائیں تو یہ ان کی مرضی ہے لیکن حقائق سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس خاندان سے آخر اتنا خوف کیوں ؟ الیکشن مسائل کی بنیاد پر لڑیں نہ کہ کسی خاندان پر کیچڑ اچھالتے ہوئے ۔

گجرات کی انتخابی مہم میں مقامی مسائل کے علاوہ دیگر ممالک کے مسائل کو بھی بی جے پی اٹھا رہی ہے ۔ وزیراعظم دہشت گردی حتیٰ کہ حافظ سعید کو بھی یاد کرنا نہیں بھولے۔ انہوں نے پاکستان میں حافظ سعید کی رہائی پر کانگریس کی جانب سے تالیاں بجانے کا الزام عائد کیا۔ ممبئی حملوں کے ذمہ دار اور لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کی رہائی پر کون ہندوستانی ہوگا جو خوشی کا اظہار کرے۔ کسی ملک دشمن کے ساتھ ہمدردی یا اس کی رہائی پر خوشی منانے کا تصور بھی کوئی محب وطن ہندوستانی نہیں کر سکتا۔ کیا مودی نے کوئی خواب تو نہیں دیکھا جس میں کانگریسی قائدین تالیاں بجا رہے تھے۔ کانگریس کی فکر سے پہلے کیا مودی اس بات کا جواب دے سکتے ہیں کہ جدوجہد آزادی میں سنگھ پریوار کے قائدین نے مجاہدین آزادی کی مخبری کیوں کی؟ ایسے وقت جبکہ مجاہدین آزادی ملک کے لئے قربانیاں پیش کر رہے تھے ، سنگھ پریوار اور آر ایس ایس کے قائدین نے انگریزوں کا ساتھ دیا جس کا دستاویزی ثبوت بھی منظر عام پر آچکا ہے۔ نریندر مودی نے حافظ سعید اور دیگر مخالف ہندوستان طاقتوں کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کرنے والے نواز شریف سے جس طرح دوستی نبھائی ہے، وہ اظہر من الشمس ہیں۔ ہندوستان میں دراندازی اور دہشت گرد حملوں کے باوجود نریندر مودی نے نہ صرف نواز شریف کو اپنی حلف برداری میں مدعو کیا تھا بلکہ ان کی سالگرہ میں شرکت کیلئے بن بلائے مہمان کی طرح لاہور پہنچ گئے۔ الغرض گجرات انتخابات کی گرمی نے منی جنرل الیکشن کا ماحول پیدا کردیا ہے۔ یہ الیکشن گجرات کے 6 کروڑ عوام کا نہیں بلکہ ملک کے سوا سو کروڑ عوام کا دکھائی دے رہا ہے ۔ قومی سیاست کے ہر بڑے ، چھوٹے قائد کی منزل گجرات بن چکی ہے۔ میڈیا کے سرکردہ صحافی اور اینکرس بھی گجرات میں ڈیرہ ڈال چکے ہیں۔ مودی اور امیت شاہ جو گجرات کے سپوت ہیں، وہ اپنی جنم بھومی کا قرض کرم بھومی دہلی سے چکانا چاہتے ہیں۔ بی جے پی کا احساس ہے کہ اگر گجرات میں کامیابی ملتی ہے تو 2019 ء میں دہلی کا تخت دوبارہ تاج پوشی کیلئے تیار رہے گا۔ برخلاف اس کے گجرات میں کمزور مظاہرہ کا اثر آئندہ عام انتخابات پر پڑسکتا ہے۔ پٹیل برادری جو کل تک بی جے پی کا ووٹ بینک تھی ، آج کانگریس کے ساتھ کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ تحفظات کے مطالبہ کے تحت ہاردک پٹیل نے کانگریس کی تائید کا اعلان کیا۔ گجرات میں کانگریس کا مظاہرہ بہتر ہوگا، اس بارے میں سیاسی مبصرین کی رائے اگرچہ مختلف ہے لیکن اگر کانگریس کو موجودہ نشستوں سے ایک بھی سیٹ زائد حاصل ہو تو یہ اس کی اہم کامیابی ہوگی۔ معراج فیض آبادی نے کیا خوب کہا ہے ؎
رہبری جب سے ہوئی ہے بزدلوں کا انتخاب
راستے کرنے لگے ہیں منزلوں کا انتخاب

TOPPOPULARRECENT