Wednesday , December 13 2017
Home / مضامین / رہبر ہو تو منزل کا پتہ کیوں نہیں دیتے…

رہبر ہو تو منزل کا پتہ کیوں نہیں دیتے…

 

محمد مبشر الدین خرم
ملک کی فرقہ پرست اور آلودہ فضاء کے دوران اگر کوئی محبت‘ الفت ‘ یکجہتی ‘ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی سلامتی کی بات کرے تو ان لوگوں کو ہندستان کے ان 69فیصدرائے دہندوں کو اپنا مسیحا تصور کرنا چاہئے جنہوں نے فرقہ پرست قوتوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں 2014عام انتخابات کے دوران صرف 31.1فیصد ووٹ حاصل کرنے تک محدود کردیا تھا لیکن اس کے باوجود جمہوررائے کے منقسم ہونے کے سبب ان لوگوں کو اقتدار حاصل ہو گیا جو ملک میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلاتے ہوئے عوام کے دلوں میں زہر گھول رہے ہیں۔ تین برسوں کے دوران حکومت کی خاموشی اور عدم کارکردگی کے سبب ہندستان کو معاشی نقصان جو ہوا ہے ان حالات سے ہندستان کبھی نہ کبھی تو باہر آہی جائے گا لیکن ان تین برسوں میں معاشی حالات میں پیدا ہونے والے بگاڑ کی پردہ پوشی کیلئے مخصوص طبقہ میں پیدا کی گئی عدم برداشت کی کیفیت کے خاتمہ کیلئے برسہا برس لگ سکتے ہیں ۔ ہندستان ہمہ لسانی ‘ ہمہ مذہبی ‘ ہمہ تہذیبی مملکت ہونے کے سبب اسے کثرت میں وحدت کی مثال قرار دیا جاتاہے لیکن اس سرزمین کو مسلمانوں کے خون سے نہلاتے ہوئے انہیں جس طرح خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس کوشش کو ناکام بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ملک کی مختلف ریاستوں میں گائے کے نام پر کی جانے والی ہلاکتوں پر حکومت کی خاموشی ان لوگوں کے حوصلوں میں اضافہ کا سبب بن رہی ہیں جو ملک میں معاشی بدحالی کی خفت کو مٹانے کیلئے مسلمانوں کو گائے کے نام پر ہلاک کرتے ہوئے ملک کے دیہی علاقوں میں منافرت پیدا کرنے کا موجب بن رہی ہے۔

ہندستان میں جو صورتحال پیدا ہو رہی ہے اس پر سوائے ہندستانی مسلمانوں کے ہر اس ملک کو تشویش ہے جس کے مفادات کا تعلق ہندستان سے ہے۔ امریکی ‘ جاپانی‘ چینی ‘ یوروپی اور دیگر ممالک کے سرمایہ کار ملک میں سرمایہ کاری کے متعلق فکر مند ہونے لگے ہیں کیونکہ گاؤ کشی کے نام پر ہونے والی اموات کا اثر صرف ہندستانی مسلمانوں کو خوف میں مبتلاء کرنے کا سبب نہیں بن رہا ہے بلکہ بیرونی سرمایہ کاروں کی ہندستان میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ کے لئے متفکر کرنے لگا ہے کیونکہ بیشتر ممالک کے سرمایہ کار اور ان ممالک کی ایجنسیاں اس بات کا جائزہ لینے لگی ہیں کہ سرکاری سرپرستی میں فروغ حاصل کرنے والی اس فرقہ پرستی کے عدم خاتمہ کے کیا سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں؟ سنجیدہ ‘ متفکر اور دوراندیش شہری جو ملک میں بڑھ رہے عدم برداشت کے ماحول کے سبب ملک کے مستقبل اور آئندہ نسلوں کے متعلق فکر مند ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ اس بات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ جب کسی مخصوص طبقہ یا مذہب کے ماننے والوں پر ظلم کی انتہاء کردی جاتی ہے تو وہ طبقہ اپنے بچاؤ کیلئے نکل پڑتا ہے اور خانہ جنگی کی صورتحال میں انسانی جانوں کے اتلاف سے زیادہ ملک عالمی برادری میں ذلت و رسوائی کا سامنا کرنے پر مجبور ہوجاتاہے ۔ 2002 میں گجرات میں ہوئی نسل کشی کے متعلق وقت کے وزیر اعظم کو اس بات کا اعتراف کرنا پڑا تھا کہ 2002 کا قتل عام ملک کے ماتھے پر کلنک ہے ۔ملک کے ماتھے کو ’’کلنکت‘‘ کرنے والا ہی جب مقتدر بن جائے تو ملک کی حالت کے متعلق کیا توقع کی جاسکتی ہے؟
آسام‘ جھارکھنڈ ‘ اترپردیش‘ کولکتہ‘ راجستھان‘ مدھیہ پردیش گجرات کے علاوہ ملک کی دیگر ریاستوں میں جہاں جانور کو انسان پر فوقیت دی جارہی ہے اور جو درندگی کے مظاہرے کئے جا رہے ہیں انہیں دیکھنے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ ملک کو ’’کلنکت‘‘ کرنے میں اب کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی بلکہ ہندستان کے ماتھے کو ہی نہیں بلکہ ہر حصہ کو ’’کلنکت‘‘ کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ آئندہ انتخابات کے دوران یہی سیاہی ارباب اقتدار کو اپنی جگہ برقرار رہنے کے لئے معاون ثابت ہوسکے۔اس صورتحال کے دوران اگر کوئی ’’کاروان محبت ‘‘ کے ذریعہ نفرتوں کی تاریکیوں کو دورکرنے کیلئے محبت کی شمع روشن کرے تو وہ صرف ان مظلوموں کا محسن نہیں ہے بلکہ ہندستان کی ہزاروں سال قدیم تاریخ کا محسن ہے جو کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کی مثال رہی ہے۔ آزاد ہندستان کی تاریخ کے 70برسوں میں اس تاریخ کو مسخ کرنے کی متعدد مرتبہ کوشش کی گئی خواہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت کا دور حکومت رہا ہو لیکن ان کوششوں کو 2014 کے بعد اس قدر حوصلہ ملا کہ قاتل قتل کے دوران فلم بندی کرتے ہیں اور اس پیٹنے کی فلم کو سماجی رابطہ کی ویب سائیٹس کے ذریعہ ملک بھر میں پھیلاتے ہوئے یہ پیغام دیتے ہیں کہ اگر کوئی ’’بھکت‘‘ اس طرح کی حرکت کرتا بھی ہے تو اسے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

ہرش مندر کی نگرانی میں ہم خیال افراد کا ’’کاروان محبت ‘‘ اس ظالمانہ طرز عمل کے مرتکبین کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مظلوموں کو انصاف دلوانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس کے برعکس انتظامیہ جو کہ ملک کے عوام کے تحفظ کا ضامن ہے اور ظالم کو سزاء اور مظلوم کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے اپنا کام کرنے کا ذمہ دار ہے وہی انتظامیہ پہلو خان کے قاتلوں کی رہائی کی راہ ہموار کررہا ہے اور وہی انتظامیہ اخلاق کے قاتل کی موت پر اس کے تابوت کو ترنگے کی عظمت کو پامال کرتے ہوئے لپیٹنے سے بھی باز نہیں آتا۔ انسانوں پر مظالم اور زعفرانی قوتوں کے خلاف جدوجہد کرنے والی ممتاز صحافی گوری لنکیش کے قتل پر سرکاری اعزازات کے فیصلہ کو یہی انتظامیہ کے نگران تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔ ’’کاروان محبت‘‘ نے ملک کی شمالی ریاستوںمیں 16دن مکمل کرلئے ہیںاور ان 16ایام کے دوران جو مظالم کی داستانیں سامنے آرہی ہیں ان کیلئے اخبارات کے صفحات کم پڑجائیں گے لیکن یہ داستانیں ختم ہونے والی نہیں ہیں۔منافرت کے ماحول میں ملک کی سالمیت کیلئے کی جانے والی اس کوشش کو جو تائید حاصل ہو رہی ہے وہ اتنی حوصلہ افزاء نہیں ہے جتنی منافرت پھیلانے والوں کو پروپگنڈہ حاصل ہورہا ہے۔

ہندستان کے سیکولر عوام جو ملک کی ترقی و خوشحالی کے رموز سے واقف ہیں اورچاہتے ہیں کہ ملک کی ترقی کی رفتار میں کوئی رکاوٹ نہ آئے وہ ملک کو فرقہ واریت کے دلدل میں دھکیلنا نہیں چاہتے بلکہ ملک میں امن و امان کی برقراری کے متمنی ہیں لیکن مفاد پرست سیاستداں اپنے مفادات کیلئے انسانی جانوں سے کھیل جاتے ہیں اور انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا جس کی کئی ایک مثالیں موجود ہیں۔ یہ بات طئے ہے کہ جب تک ملک کے ہر شہر میں امن و امان کی برقراری یقینی نہیں ہوگی اس وقت تک کوئی بیرونی سرمایہ کا ر اس ملک کا رخ نہیں کرے گا جہاں اس کا سرمایہ غیر محفوظ ہو۔ اسی طرح اگر 2002میں اس وقت کے وزیر اعظم کے بیان کا ہی حوالہ لیا جائے جنہوں نے کہا تھا کہ ’’چنگاری کس نے لگائی تھی اور آگ کیسے پھیلی‘‘ تو اب اس جملہ میں ہی حکومت اپنا محاسبہ کرے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ اب تو چنگاری لگانے کی نہیں بلکہ آگ بھڑکانے کے لئے کی جانے والی کوششوں کو ہوا دی جا رہی ہے ۔ اس طرح کی کوششوں کے دوران آج بھی دیہی ہندستان میں ایسے عوام بستے ہیں جو مذہب سے بالاتر اپنے پڑوسی کو تصورکرتے ہیں لیکن ان میں بھی زعفرانیت پیدا کرنے کی جو کوشش کی جا رہی ہے اس کوشش نے دیہی ہندستان کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا ہے اور اب تک جو کہا جاتا تھا کہ شہری علاقوں میں فرقہ پرستی ہوا کرتی ہے وہ اب دیہی علاقوں تک رسائی کرنے لگی ہے جو کہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے اورجو سیکولر سیاسی جماعتیں ان دیہی علاقوں کے رائے دہندوں کو اپنے نظریاتی رائے دہندے تصور کیا کرتی ہیں وہ اب بھی خواب خرگوش میں مبتلاء ہیں ۔

میانمار اور برما کے مسلمانوں کی مظلومیت اور زبوں حالی پر آہ و بکا کرنے والے ہندستانی مسلمان و سیاسی و مذہبی قیادتوں کو ملک کے دیہی علاقو ںمیںسرکاری مظالم برداشت کرنے والے اپنے کلمہ گو بھائی بہنوں کی خیریت دریافت کرنے کی توفیق نہیں ہوئی بلکہ ان کے مسائل کو تو اس طرح سے نظر انداز کیا جا رہا ہے جیسے ان سے ہندستانی مسلمانو ںکا کوئی رشتہ ہی نہیں ہے۔ ریاست آسام میں جہاں کوکھرا جھار فساد اور بوڈو مسلم فساد کی ایک طویل تاریخ ہے اس ریاست میں 1لاکھ 24ہزار سے زائد مسلمان ان قید خانوں میں مقید ہیں جن پر جیل مینول لاگو نہیں ہوتا یعنی وہ اس قید کے دوران ان کے ہمراہ ہونے والے غیر انسانی سلوک کے خلاف اپیل داخل کرنے کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ ریاست آسام کی سیاست کا محور بنگلہ دیشی مہاجرین کی تعداد اور غیر آسامی خاندان ہیں جن کا ہر سیاسی جماعت بھر پور استعمال کرتی ہے لیکن ان کے مسائل کے حل کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیں کرتی اور نہ ہی ان کے مفادات کے تحفظ کیلئے کوئی کاروائی کی جاتی ہے ۔ روہنگیائی مسلمانوں کو اپنانے کے مطالبات کو ذرائع ابلاغ اداروں کی جانب سے خوب اچھالا جا رہا ہے اور روہنگیا سے گذشتہ 2تا4برسوں کے دوران ہندستان پہنچنے والے مہاجرین کے متعلق سب کو فکر لاحق ہے لیکن برسہا برس سے ہندستان کی سرزمین پر غریب الوطنی کی زندگی گذار رہے ان مسلمانو ںکے متعلق کبھی کسی نے کوئی آواز نہیں اٹھائی اور جب خود ان لوگوں نے آواز اٹھائی تو پولیس کی گولی نے ان کے سینوں کو چاک کردیا اس پر بھی سب خاموش ہی رہے۔
ہندستان کو 70برسوں کے دوران جن حالات کا سامنا نہیں تھا ،آج ان حالات کا سامنا ہے اور ہندستانی عوام کو جو آزمائش برداشت نہیں کرنی پڑی تھی اب وہ آزمائش سے گذرہیں لیکن اس کے باوجود ہندستان میں اب بحث معیشت یا ترقی پر نہیں ہو رہی ہے بلکہ یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت جو کچھ کر رہی ہے وہ ملک کے مفاد میں کر رہی ہے اور حکومت کے خلاف جو آواز اٹھے گی اس آواز کو یا تو بند کر دیا جائے گا یا پھر خریدنے کی کوشش کی جائے گی دونوں صورتوں میں ناکام ہونے پر ان آواز اٹھانے والوں کو مخالف قوم پرست قرار دینے کی کوششیں شروع کر دی جائیں گی اور ان حالات سے مسلمان خائف ہونے لگے ہیں لیکن ہر بار کی طرح مسلمانوں کے ہمدردوں اور ان کے دفاع میں کھڑے ہونے والوں میں تیستا سیتلواد‘ رام پنیانی ‘ ہرش مندر ‘ جان دیال‘ سدھارتھ وردھراجن جیسے نام ہی نظر آرہے ہیں جو کہ دیہی علاقوں میں پہنچ کر اقلیتی طبقہ کو اس بات کی طمانیت دے رہے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔

TOPPOPULARRECENT