Tuesday , June 19 2018
Home / Top Stories / ریاستوں کو مزید فنڈس اور عظیم تر اختیارات کا تیقن

ریاستوں کو مزید فنڈس اور عظیم تر اختیارات کا تیقن

نئی دہلی۔8فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) چیف منسٹروں سے اختلافات دور کرتے ہوئے ہندوستان کو اعلیٰ شرح ترقی حاصل کرنے اور ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے کے قابل بنانے کی اپیل کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے آج تیقن دیا کہ ریاستوں کو عظیم تر اختیارات اور انہیں استعمال کرنے کی طاقت فراہم کی جائے گی ۔ علاوہ ازیں مزید فنڈس بھی دیئے جائیں گے ۔ وہ

نئی دہلی۔8فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) چیف منسٹروں سے اختلافات دور کرتے ہوئے ہندوستان کو اعلیٰ شرح ترقی حاصل کرنے اور ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے کے قابل بنانے کی اپیل کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے آج تیقن دیا کہ ریاستوں کو عظیم تر اختیارات اور انہیں استعمال کرنے کی طاقت فراہم کی جائے گی ۔ علاوہ ازیں مزید فنڈس بھی دیئے جائیں گے ۔ وہ نیتی آیوگ کے اولین اجلاس سے تاخیر کاشکار پراجکٹس کے مسائل کی یکسوئی کے بارے میں خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ سرمایہ کاری کے دور کا احیاء کرنے سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں ۔ انہوں نے چیف منسٹروں سے خواہش کی کہ وہ شخصی طور پر اُن عناصر پر نظر رکھیں جو پراجکٹس پر عمل آوری کو متاثر کرتے ہیں اور تجویز پیش کی کہ ایک عہدیدار کو ہر ریاست میں زیرالتواء مسائل کی یکسوئی اور نگرانی کیلئے ذمہ دار قرار دیا جائے ۔ انہوں نے مرکز زیر سرپرستی 66اسکیموں کی جن کی مالیت 338562 کروڑ روپئے ہوتی ہے 2014-15ء کیلئے ریاستوں کو منتقل کرنے کا تیقن دیا ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹرس کا ایک ذیلی گروپ نیتی آیوگ کے تحت قائم کیا جائے گا

تاکہ ایسی اسکیمس کو معقول بنایا جائے اور سفارش کی کہ یہ کام جاری رہنا چاہیئے ۔ اور ریاستوں کو منتقل کیا جاناچاہیئے ‘ اس میں تخفیف نہیں کی جانی چاہیئے ۔ مودی نے کہا کہ ہم تمام اسکیموں پر عمل آوری کریں گے اور ریاستوں کی ضروریات اور اسکیموں کے درمیان توازن برقرار رکھیں گے ۔ نریندر مودی نے مزید دو ذیلی گروپس قائم کرنے کا بھی تیقن دیا ‘ جن میں سے ایک مہارتوں کی ترقی اور ملازمتوں کے مواقع ریاستوں میں پیدا کرنے کے بارے میں اور دوسرا ادارہ جاتی چوکھٹا قائم کرنے کے بارے میں ہوگا تاکہ سوچھ بھارت کی کارروائی جاری رہے ۔ انہوں نے کہا کہ انسداد غربت سب سے بڑاچیالنج ہے ۔نئے ادارے کو ایسا طویل مدتی سماج دوست ادارہ بننا ہوگاجو باہمی تعاون اور وفاقیت کی تکمیل میں مدد دے سکے ۔ انہوں نے چیف منسٹروں سے اپنے تمام اختلافات بھول جانے اور ’’ٹیم انڈیا ‘‘ کی حیثیت سے کام کرنے کا مشورہ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک کہ تمام ریاستیں ترقی میں شامل نہ ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ان کا نظریہ تمام ریاستوں کو ’’سب کا ساتھ۔

سب کا وکاس ‘‘ نظریہ کے تحت متحد کرنا ہے ۔ بعد ازاں پریس کانفرنس میں تفصیلات کا انکشاف کرتے ہوئے وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ مودی نے چیف منسٹرس کو ترقی‘ سرمایہ کاری ‘ ملازمتوں کے مواقع ‘ انسداد غربت ‘ غیرمرکوزیت ‘ کارکردگی اور پراجکٹس پر عمل آوری میں عدم تاخیر کو اپنی ترجیحات بنالینے کا مشورہ دیا ہے ۔ وزیراعظم نے ریاستوں میں ہونے والی حقیقی معاشی سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ریاستوںکو بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنا ہے ۔ اجلاس میں چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی نے شرکت نہیں کی ۔ تاہم چیف منسٹر بہار ‘ ٹاملناڈو اور اترپردیش موجود تھے ۔ ٹاملناڈو اور یو پی نے ان کی ریاستوں کیلئے مزید فنڈس اور کیرالا نے مرکز کی جانب سے رقومات مختص کرنے میں لچکدار رویہ پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ چیف منسٹر آسام ‘ پنجاب ‘ ٹاملناڈو ‘ کیرالا ‘ ہماچل پردیش ‘ آندھراپردیش اور بی جے پی زیراقتدار ریاستوں جیسے گجرات اور چھتیس گڑھ کے چیف منسٹرس نے اجلاس میں شرکت کی ۔

TOPPOPULARRECENT