Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / ریاستوں کی ترقی کو نئی جہت دینے گورنرس کو سرگرم ہونے کی ضرورت

ریاستوں کی ترقی کو نئی جہت دینے گورنرس کو سرگرم ہونے کی ضرورت

تعاون پر مبنی وفاقیت کے فروغ کی اہمیت ۔ راشٹرپتی بھون میں دو روزہ گورنرس کانفرنس ۔ صدر جمہوریہ کووند کا افتتاحی خطاب
نئی دہلی 12 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے آج کہا کہ گورنرس ارکان اسمبلی کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے اور عوامی بہتری سے متعلق امور کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی ریاستوں کی ترقی کو نئی جہت عطا کرسکتے ہیں۔ صدر جمہوریہ نے راشٹرپتی بھون میں گورنرس کی دو روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گورنرس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے جٹ جائیں اور اس کے ذریعہ تعاون پر مبنی وفاقیت کو فروغ حاصل ہوسکتا ہے ۔ اس کانفرنس میں نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو اور وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی شرکت کی ۔ صدر جمہوریہ نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ گورنرس کو چاہئے کہ وہ اپنی ریاستوں میں ایک نئے ہندوستان کی تعمیر کیلئے سماج کے ہر طبقہ کو جوڑنے کی کوشش کریں اور سب کو ایک دوسرے سے مربوط کرتے ہوئے کرپشن ‘ غربت ‘ ناخواندگی ‘ گندگی اور غذائی بدحالی سے پاک ہندوستان کی تعمیر کیلئے جدوجہد کریں۔ کانفرنس میں ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کے 27 گورنر اور 3 لفٹننٹ گورنر شرکت کررہے ہیں۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ کانفرنس میں شرکت سے گورنروں اور لفٹننٹ گورنروں کو یہ ایک اچھا موقع ملا ہے کہ وہ اہم مسائل پر تبادلہ خیال کرسکیں اور اپنی ریاستوں کے تجربات میں دوسروں کو شامل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ گورنر مرکزی حکومت اور ریاستوں کے درمیان ایک پل کا کام کرتے ہیں۔

آئین کے تحفظ اور اس کی برقراری نیز عوام کی خدمت اور فلاح و بہبود کیلئے خود کو وقف کرنے گورنرس پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ تعاون پر مبنی وفاقیت میں زیادہ واضح ہوجاتی ہے ۔صدر جمہوریہ نے کہا کہ 2022 تک کیلئے بڑے اہم اور قومی نوعیت کے نشانے مقرر کئے گئے ہیں۔ اس وقت کے آنے میں اب پانچ سال باقی ہیں اور حکومت نے ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کا عزم کیا ہے جو محفوظ اور مستحکم اور خوشحال ہو اور جس میں سب کیلئے مواقع کو یقینی بنایاجائے اور جو سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں قائدانہ رول ادا کرے ۔ اس کام کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ پورا ملک متحد ہوکر ایک مقصد کے ساتھ کام کرے ۔ 2017 سے 2022 تک کا پانچ سال کا وقفہ نئے ہندستان کی تشکیل کیلئے وقف کیا جانا چاہئے ۔ والی نسلوں کیلئے مضبوط بنیاد بھی ڈالی جانی چاہئے ۔ اس بات کو یقینی بنانے ٹیم انڈیا ان قومی مقاصد کے حصول میں ایک سمت میں آگے بڑھے گی ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ نوجوانوں کو قومی تعمیر کے کام سے وابستہ کرنا بہت ضروری ہے ۔ ملک کے مستقبل کا انحصار نوجوان نسل کی صلاحیتوں، اخلاقی اقدار اور دردمندی پر ہے ۔ریاستوں کی سطح پر اعلی تعلیم اور صلاحیت سازی کے کام پر خصوصی توجہ دی جانی چاہئے ۔ خودکاری اور مصنوعی دانش مندی کے چیلنجوں کو دیکھتے ہوئے یہ کام اور بھی زیادہ ضروری ہوجاتا ہے ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ ملک میں 69 فی صد یونیورسٹیاں ریاستی حکومتوں کے تحت آتی ہیں اور تمام کالجوں اور یونیورسٹیوں کے 94 فی صد طلبا ا ن اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔صدر جمہوریہ نے کہا کہ ٹکنالوجی کی مدد سے مشکل اور طویل مدتی مقاصد بھی حاصل کئے جاسکتے ہیں اور یہ تمام شہریوں کے معیار زندگی کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے ۔کانفرنس میں دادرا اور نگر حویلی کے علاوہ دمن اور دیو کے لیفٹننٹ گورنرس بھی خصوصی مدعوئین کی حیثیت سے شرکت کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT