Wednesday , December 12 2018

ریاستی بجٹ کی تیاریوں کا آغاز، آئندہ ماہ پیشکشی

انتخابات کے پیش نظر عوام کو خوش کرنے کا امکان، فلاحی اسکیمات کیلئے زائد رقومات

حیدرآباد۔/6جنوری، ( سیاست نیوز) ریاستی بجٹ 2017-18 کی تیاریوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ وزیر فینانس ای راجندر نے محکمہ فینانس اور دیگر محکمہ جات کے وزراء کے ساتھ بجٹ کی تیاری کے سلسلہ میں جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ مختلف محکمہ جات کیلئے بجٹ کے تعین کے ضمن میں 2019 کے انتخابات کو پیش نظر رکھا جائیگا۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ حکومت کا آئندہ بجٹ عام انتخابات کے پیش نظر تیار کیا جائے گا جس میں عوام کیلئے نئی اسکیمات اور فلاحی اسکیمات کیلئے رقومات میں اضافہ کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔ فبروری کے تیسرے ہفتہ میں ریاستی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے۔ وزیر فینانس نے تمام محکمہ جات سے بجٹ کے سلسلہ میں تجاویز طلب کی ہیں۔ 8 جنوری تک تمام محکمہ جات کو اپنی ضرورتوں کے مطابق بجٹ تجاویز داخل کرنا ہے۔ تجاویز کے حصول کے بعد محکمہ فینانس ان کا جائزہ لیگا۔ بتایا جاتاہے کہ وزیر فینانس نے 8 جنوری کو اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا ہے۔ چیف سکریٹری ایس پی سنگھ کی قیادت میں مختلف محکمہ جات کے پرنسپال سکریٹریز اور سکریٹریز اجلاس میں شرکت کریں گے۔ مجوزہ بجٹ جی ایس ٹی پر مبنی رہے گا کیونکہ پہلی مرتبہ جی ایس ٹی کا نفاذ عمل میں آرہا ہے۔ جی ایس ٹی کے سلسلہ میں مرکز سے ریاست کو جو حصہ داری ملی ہے اس میں مزید 15 فیصد اضافہ کی امید کے ساتھ بجٹ تیار کیا جاسکتا ہے۔ 15 ویں فینانس کمیشن کو روانہ کی جانے والی رپورٹ کا بھی جائزہ لیا جائیگا۔ ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات کے سلسلہ میں ترجیحی بنیادوں پر رقومات منظور کی جائیں گی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے بتایا جاتا ہے کہ محکمہ فینانس کو ہدایت دی ہے کہ بجٹ میں فلاحی اسکیمات پر خصوصی توجہ دی جائے۔ سرکاری ملازمین، وظیفہ یابوں کے مسائل اور انہیں دی جانے والی رعایتوں کے سلسلہ میں محکمہ فینانس نے تفصیلات اکٹھا کرتے ہوئے امکانی بجٹ پر غور کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بجٹ میں نئی اسکیمات کے علاوہ جاریہ فلاحی اسکیمات کیلئے رقمی منظوری میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ مشن کاکتیہ، مشن بھگیرتا ، غریبوں اور بیواؤں کی پنشن اسکیم اور زرعی شعبہ کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔2019 انتخابات سے قبل تلنگانہ حکومت کا یہ بجٹ عوام کو لبھانے کی کوشش ہوسکتا ہے کیونکہ الیکشن سے قبل یہ آخری بجٹ ہوگا۔2019 میں حکومت کو عبوری بجٹ پیش کرنا پڑے گا کیونکہ مارچ اور اپریل میں انتخابات کا امکان ہے۔

TOPPOPULARRECENT