Saturday , July 21 2018
Home / شہر کی خبریں / ریاستی حکومت کا لیدر انسٹیٹیوٹ توجہ کا متقاضی

ریاستی حکومت کا لیدر انسٹیٹیوٹ توجہ کا متقاضی

بین الاقوامی مارکٹ میں فٹ ویر شعبہ کی مانگ لیکن ادارہ میں طلبہ کی تعداد نہ کے برابر
حیدرآباد ۔ 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے چلایا جانے والا واحد لیدر ٹیکنالوجی کا ادارہ ’’گورنمنٹ انسٹیٹیوٹ آف لیدر ٹیکنالوجی (جی آئی ایل ٹی)‘‘ کے قائم ہوئے تقریباً چار دہے ہوچکے ہیں لیکن بین الاقوامی مارکٹ میں جس ٹیکنالوجی کی کافی مانگ ہے اس کی تربیت دینے والے ادارہ کی بہتر تشہیر نہ ہونے کی وجہ سے یہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر چمڑے کی صنعت کافی شاندار اور مانگ والی صنعت ہے جس کیلئے یہاں گچی باؤلی میں موجود اس انسٹیٹیوٹ میں لیدر ٹیکنالوجی اور فٹ ویر ٹیکنالوجی کے دو ڈپلومہ کورسیس چلائے جاتے ہیں اور ہر کورس میں 60 نشستیں موجود ہیں، انسٹیٹیوٹ کیلئے بہترین انفراسٹرکچر ، عصری ٹیکنالوجی اور بہترین اساتذہ و دیگر عملہ ہونے کے باوجود یہاں طلبہ کی تعداد انتہائی کم ہے جیسا کہ 2015-16ء تعلیمی سال یہاں طلبہ کی تعداد دوہرے ہندسے کو بھی عبور نہیں کر پائی حالانکہ دو مختلف کورسوں کیلئے فی کورس فیس 4300 روپئے ہی ہے لیکن اس کے باوجود اس اہم ادارہ کی بہتر انداز میں تشہیر نہ ہونے کی وجہ سے یہاں طلبہ کی تعداد نہ کے برابر ہے۔ بین الاقوامی سطح پر فٹ ویر ٹیکنالوجی میں ماہر افراد کی کافی مانگ ہے لیکن اس ادارہ میں فراہم کئے جانے والے کورس میں طلبہ کی تعداد انتہائی کم ہے۔ انسٹیٹیوٹ کے پرنسپل اقبال حسین نے میڈیا نمائندوں سے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ بعض افراد کے ذہن میں یہ غلط فہمیاں ہیں کہ یہ ادارہ ایک خاص طبقہ کیلئے ہے حالانکہ ایسا نہیں ہیں کیونکہ اس ادارہ میں بھیڑ اور بکریوں کے چمڑے ہی استعمال کئے جاتے ہیں جبکہ بیل اور گائے کے چمڑوں کا استعمال کسی خاص موقع پر ہی بالکل نادر ہی کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2015ء تک دو مختلف کورسوں میں طلبہ کی تعداد دوہرے ہندسے کو بھی عبور نہیں کر پائی تھی۔ 2015ء میں اس ادارہ میں داخلہ لینے والے طالب علم ایس ملک ارجنا جنہوں نے معاشی وجوہات کی بناء پر کورس مکمل نہیں کیا لیکن انہوں نے کہا کہ یہ ایک شاندار ادارہ ہے اور اس میں فراہم کیا جانے والا کورس بین الاقوامی سطح پر بھی کافی مانگ والا کورس ہے لیکن یہاں طلبہ کی تعداد نہ ہونے کی اہم وجہ اس ادارہ کی بہتر طریقہ سے تشہیر نہ کیا جانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادارہ میں داخلہ اور یہاں کی معلومات انہوں نے جان پہچان والے لوگوں سے ہی حاصل کی ہیں۔ نیز ادارہ کی تشہیر کا یہی واحد ذریعہ ہے کیونکہ یہاں جو داخلے ہوتے ہیں وہ جان پہچان کے لوگوں کے ذریعہ ہی طلبہ یہاں تک پہنچتے ہیں۔ اس ادارہ میں ہاسٹل کا نہ ہونا بھی کمیوں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT